فلیمون ۔ایک غلام کے لیے پولُس کی طرف سے ایک دوست کو اِلتماس
“یہ ایک قابل ذِکر خط ہے جو بڑی اہمیت کا حامل ہے ۔ ہر لفظ اپنا وزن اور ہر حرف اپنے اندر ایک مادہ رکھتا ہے ۔ ایک حقیر سے موضوع سے یعنی ایک بھگوڑے غلام کو قبول کرنے کی بات سے پولُس رسول آسمانی عقاب کی طرح بلند اُڑان لیتا ہوا آسمانی گفتگو کی اُونچی سطح کو جا چھو تا ہے۔”( جون ٹراپ/John Trapp )
الف: سلام اور تعارف ۔
-
(1 آیت) مصنف اور وصول کنندہ ۔
پَولُس کی طرف سے جو مسیح یسُوع کا قیدی ہے اور بھائی تیمتھیس کی طرف سے اپنے عزیز اور ہم خدمت فِلیمو ن۔
- پولُس، ایک قیدی : یہ مختصر خط پولُس نے رُومہ میں اپنی قید کے دوران لکھاتھا جس کا بیان اعمال 28 باب 30تا31 آیات میں پیش کیا گیا ہے۔ بعض کا خیال ہے کہ اِسے اِفسس میں قید کے دُوران لکھا گیا تھا جبکہ اِس کا اَمکان بہت کم ہے ۔
- مسیح یسوع کا قیدی : ہمیشہ کی طرح پولُس خود کو رُوم ،حالات ،یا مذہبی رہنما وں کا قیدی نہیں سمجھتا اگرچہ اُنہوں نے اُس کے لیے قانونی مشکلات کو شروع کیا تھا (اعمال 23-24 ابواب) ۔پولُس یسوع مسیح کا قید ی تھا ۔
- “وہ بیڑیاں نہیں تھیں جنہوں نے اُسے جکڑ رکھا تھا بلکہ ایک ایسی اِ عز ازی زنجیرتھی جسے مسیح نے اُسے عطا کیا تھا اور وہی اُس کی خدمت کا نشان تھی ۔”(لائٹ فُٹ بحوالہ اوسٹریلی/Lightfoot, cited by Oesterley)
- عزیز اور ہم خدمت فلیمون :پولُس نے یہ خط کُلسے میں رہنے والے اپنے ایک مسیحی بھائی فلیمون کو لکھا تھا ۔ نئے عہد نامہ میں واحد یہی ایک جگہ ہے جہاں فلیمون کا نام لے کر ذکر کیا گیا ہے تاہم ہم اتنا جانتے ہیں کہ وہ پولُس کا پیا را دوست تھا ۔
- فلیمون کے ساتھ پولُس کی دوستی اُسکی طرف سے روایتی انداز میں سلام لکھنے میں کسی چیز کی کمی سے ظاہر ہوتی ہے ، پولُس نے کلیسیا ؤں یا مختلف اَفراد کو جو 13 خطوط لکھے ہیں اُن میں سے 9ایسے ہیں جن میں اُس نے ابتدائی آیت میں خود کو ایک رسول کہا ہے ۔ مگر اپنے اِس خط میں اِسی طرح سے فلپیوں اور پہلے اور دوسرے تھسلنیکیوں کے نام خطوط میں پولُس رسول کی طرف سے ایک دوست کی حیثیت سے بات چیت اور اِلتماس کی گئی ہے ۔
-
(3-2 آیات) فلیمون کے گھروالوں کو سلام
اور بہن افیہ اور اپنے سپا ہ اَ ر خپس اور فلیمون کے گھر کلیسیا کے نام ۔ فضل اطمینان ہمارے باپ اور خُدا وند یسوع مسیح کی طرف سے تمہیں حاصل ہوتا رہے
- پیاری بہن افیہ : شاید افیہ فلیمون کی بیوی اور اَ رخپس اُس کا بیٹا تھا ۔ خاندان کے اَ فراد کے لیے ایسا خط پولُس کے خطوط میں ایک منفرد بات تھی جبکہ خط کے مشمولات کی روشنی میں خط میں اُن کا ذکر خاص معنی رکھتا تھا ۔ اِس خط میں پو لُس ایک بھگوڑے غلام کے بارے میں فلیمون سے اَ پیل کرنے کو تھا جو اَب یسوع مسیح کو جان چکا اور قبول کر چکا تھا اور اُس وقت پولُس کے ساتھ رہ رہا تھا ۔ اور چونکہ اُس کی بیوی افیہ گھرکے غلاموں کی نگر ان تھی اِس لیے یہ خط اُس سے بھی تعلق رکھتا تھا۔
- “فرار ہونے والے غلام کے بارے میں ،”وہ اپنے شوہر کی طرح فیصلہ کرنے میں برابر کی شریک تھی کیو نکہ اُس وقت کے رواج کے مطابق، غلاموں کی روز مرّہ کی ذمہ داری اُس پر عائد ہوتی تھی ۔”(روپریکٹ/Rupprecht )
- گھرکی کلیسیا کے نام : اِس کا مطلب ہے کلیسیا – یا کلیسیا کا ایک حصہ – جو کلسے میں فلیمون کے گھر میں جمع ہوا کرتا تھا ۔ قدیم دور کے مسیحیوں کے پاس گرجا گھروں کی عمارات کے لیے اپنی کوئی جائیداد نہیں ہوتی تھی ۔ یہودیوں کے پاس تو عبادت گاہیں تھیں مگر مسیحی اِیمان دار گھروں میں اِکٹھے ہوا کرتے تھے۔ کسی بھی ایک شہر کے مسیحی مختلف “گھروں میں قائم کلیسیاؤں ” میں جمع ہو جایا کرتے تھے۔ جبکہ اُس شہر کا “بشپ “مطلب نگہبان/ پاسبا ن اُن گھر وں میں قائم کلیسیاؤں کی گلہ بانی کیا کرتا تھا ۔رُومیوں 16باب 5آیت اور کلسیوں 4 باب 15آیت میں بھی گھر یلو کلیسیا ؤں کا ذِکر کیا گیا ہے ۔
- “تیسری صدی تک ہمارے پاس عبادت کے مقصد کے لیے گرجا گھر وں کی عما رتوں کے وجود کا کوئی خاص ثبوت نہیں ہے ۔ تمام تر حوالہ جات اِس کام کے لیے نجی گھروں کی طرف اِشارہ کرتے ہیں ۔ روم میں کئی قدیم گرجا گھروں کی عما رات اُن جگہ پر بعد میں تعمیر کی گئیں جہاں پہلے گھروں میں عبادات ہو ا کرتی تھیں ۔”(اوسٹریلی /Oesterley )
- سپرجن بیان کرتا ہے کہ ظاہراً فلیمون کا گھر ایک چرچ تھا جہاں کلیسیا جمع ہوا کرتی تھی ۔ اِس سے یہ درس ملتا ہے کہ ایمانداروں کے گھر چرچ بھی ہونے چاہییں ،اور یہ کہ ہر گھر میں ایک صحت مند کلیسیا کی خصوصیات پائی جانی چاہییں جیسے کہ:
- تبدیل شدہ ، بچائے گئے لوگ۔
- اکٹھے ہو کر پرستش کرنے والے۔
- ایک ساتھ اتحاد کا بندھن رکھنے والے۔
- زیرِ نگرانی رہنے والے۔
- اُن میں تدریسی عمل جاری و ساری ہو۔
- دِلی جذبےکے ساتھ باہر والوں کی خدمت کرتے ہوں ۔
- فضل اور اِطمینان تمہیں حاصل ہوتا رہے : پولُس نے اپنے ہر ایک خط کی طرح فضل اور اطمینان کا ذِکر کرتے ہوئے روایتی سلام پیش کیا ۔ تاہم یہ سلام کسی پوری جماعت کو نہیں بلکہ ایک فردِ واحد فلیمون کو پیش کیا گیا تھا۔ یہ بات اِس خط کو پولُس کی تحریروں میں منفرد بناتی ہے ۔
- دیگر پاسبانی خطو ط( 1اور 2 تیمتھیس اور ططس) بھی اکیلے اکیلے فرد کے لیے لکھے گئے ہیں مگر خط کے اَندر کا مواد بتا تا ہے کہ اُن خطوط کا مقصد ساری جماعت کے سامنے پیش کیا جانا تھا۔ مگر یہ فلیمون کا خط واقعی ایک ذاتی نوعیت کا مراسلہ ہے جو پولُس نے ایک ہی شخص کو لکھا تھا ۔
- “یہ اُن بے شمار خطوط میں سے صرف ایک نمونہ ہے جہاں پولُس رسول کاپُر جوش مزاج اور سرگرم ولولہ دیکھا جا سکتا ہے اور ممکن ہے کہ اُس نے اپنی طویل زندگی کے دوران اور بھی بہت سے دوستوں اور شاگردوں کو ایسے خطوط لکھے ہوں ۔” (لائٹ فٹ/ Lightfoot)
-
(7-4) پولُس فلیمون کے لیے خُدا کا شکر کرتا ۔
مَیں تیری اُس محبت کا اور اِیمان کا حال سن کر جو سب مُقدسوں کے ساتھ اور خُداوند یسوع پر ہے ۔ ہمیشہ اپنے خُدا کا شکر کرتا ہوں اور اپنی دُعا ؤں میں تجھے یاد کرتا ہوں ۔ تاکہ تیرے اِیمان کی شراکت تمہاری ہر خوبی کی پہچان میں مسیح کے واسطے موثر ہو ۔ کیو نکہ اَے بھائی مجھے تیری محبت سے بہت خوشی اور تسلی ہوئی اِس لئے کہ تیرے سبب سے مقدسوں کے دل تازہ ہوئےہیں ۔
- مَیں ہمیشہ اپنے خُدا کا شکر کرتا ہوں اور اپنی دُعاوں میں تجھے یا د کرتا ہوں : پولس اکثر فلیمون کے لیے دُعا کیا کرتا تھا اور وہ خُدا کی شکر گزاری کے ساتھ دُعا کرتا تھا ۔ فلیمون پولُس کے لیے ایک بڑی نعمت کی طرح تھا ، تبھی تو وہ شکر گزاری کے ساتھ اُس کےلیے دُعا کرتا تھا۔
- پولُس اپنےخطو ط میں چار بار کہتا ہے کہ وہ اپنی دُعاؤں میں لوگوں کو یاد کرتا ہے: روم کے لوگوں کو ( رومیوں1باب9 آیت)، اِفسس کے لوگوں کو( افسیوں 1باب16آیت) تھسلنیکے کے لوگوں کو ( 1تھسلنیکیوں 1باب2آیت) اور اب یہاں4 آیت میں فلیمون کو ۔
- یا د کرنے کا مطلب یہ ہے کہ پولُس نے ہمیشہ فلیمون کے لیے لمبی لمبی اور پیچید ہ دُعائیں نہیں کی تھیں بلکہ وہ اکثراپنی دُعا ؤں میں فلیمون کو یاد کرتا تھا۔
- تیری اُس محبت کا اور ایمان کا حال سن کر : پولُس نے فلیمون کے لیے اُس کی محبت اور ایمان کی وجہ سے خُدا کا شکر ادا کیا ۔ اُس کی یہ محبت خُداوند یسوع کی طرف اور پھر تمام مقدسین کی طرف تھی نئے عہد نامے میں یہ لفظ “مُقدس ” ہر سچے مسیحی کے لیے استعمال ہواہے نہ کہ صرف چند غیر معمولی مسیحیوں کے لیے ۔
- تیرے ایمان کی شراکت :پولُس نے اِس بات کی خواہش کرتے ہوئے فلیمون کے لیے دُعا کی کہ اُس کے ایمان کی شراکت موثر ہو جائے کیونکہ فلیمون اُس کام ( ہر خوبی) کو سمجھتا تھا جو خُدا نے اُس میں کیا تھا۔
- یہ حقیقت ہر طرح کی موثر انجیلی بشارت کی بنیاد ہے : خُدا کے ذریعے چھوئی گئی اور بدلی ہوئی زندگی کا لبریز ہونا ۔ خُدا ہی نے فلیمون کی زندگی میں ہر طرح کا اچھا کام کیا تھا ۔ اب آگے اِس حقیقت کو سراہنا تو فلیمون اور اُن لوگوں کا کام تھا جن کے ساتھ فلیمون نے اپنے ایمان کو بانٹا تھا ۔ جب اِس طرح کی بھلائی کو سمجھ لیا جا ئے گا تو دوسرے لوگ بھی یسوع کے پاس چلیں آئیں گے ۔ایمان کا بانٹنا اُن جگہوں پر موثر کام نہیں کر پا تا جہاں خُدا کی طرف سے کیے گئے اچھے کام کو نہ تو جانا جاتا ہے اور نہ ہی اُس کا اظہار کیا جاتا ہے ۔
- تیرے ایمان کی شراکت : یہ ممکن ہے کہ پولُس کا یہاں مطلب وہ دُنیاوی چیزیں ہیں جن کو وہ ایمان رکھنے کی وجہ سے بانٹتا تھا۔ شراکت کے لیے قدیم یونانی لفظ koinonia ہے۔ کئی مقا مات پر پولُس نے اِس لفظ کا اِستعمال کیا ہے جس کا مطلب “رفاقت” بھی ہے (2 کرنتھیوں 8باب4 آیت؛ 9باب13 آیت؛ رومیوں 15باب6 آیت)۔
- “رسول یہاں اُن خیراتی کاموں کے بارے میں بات کرتا ہے جن کی وجہ سے فلیمون غریب مسیحیوں میں مشہور تھا۔” (کلارک/Clarke)
- کیو نکہ ۔۔۔تیرے سبب سے مقدسوں کے دل تازہ ہوئےہیں : پولُس کو یاد تھا کہ فلیمون نے دوسرے مسیحیوں کی ضروریات کوکیسے پو را کیا تھا۔اُس نے بڑے موثر اَنداز میں دوسروں کے دِلوں کو تازہ کیا تھا۔
|
ب: اُنیسمس کے لیے پولُس کی التماس
-
(11-8 آیات) پولُس فلیمون سے اُنیسمس کے بارے بات کرتا ہے ۔
پس اگرچہ مجھے مسیح میں بڑی دِلیری تو ہے کہ تجھے مناسب حکم دُوں ۔ مگر مجھے یہ زیادہ پسند ہے کہ میَں بوڑھا پولُس بلکہ اِس وقت مسیح یسوع کا قیدی بھی ہوکر محبت کی راہ سے اِلتماس کروں ۔ سواپنے فرزند اُنیسمس کی بابت جو قید کی حالت میں مجھ سے پیدا ہوا تجھ سے اِلتماس کرتا ہوں ۔ پہلے تو وہ کچھ تیرے کام کا نہ تھا مگر اب تیرے اور میرے دونوں کے کام کا ہے ۔
- پس اگرچہ مجھے مسیح میں بڑی دلیری تو ہے کہ تجھے منا سب حکم دُوں ۔ مگر مجھے یہ زیادہ پسند ہے کہ میَں بوڑھا پولُس بلکہ اِس وقت مسیح یسوع کا قیدی بھی ہو کر محبت کی راہ سے التماس کروں :یہ واضح ہے کہ پولُس فلیمون سے کچھ مانگنے لگا تھا ۔ مگر مانگنے سے قبل اُس نے حکم دینے کی بجائے محبت کی راہ سے درخوست کرنا منا سب جانا ۔ حالانکہ اُس نے لفظو ں کے پیچھے یہ واضح کر دیا تھا کہ اُسے فلیمون کو حکم دینے کا بھی حق حاصل ہے پھر بھی اُس نے محبت میں التماس کرنا پسند کیا ۔
- ایک محبت بھری درخواست حکم دینے سے بہتر ہوتی ہے ۔ تاہم حالات کے مد نظر وہ حکم دینے سے بھی ہچکچاتا نہیں تھا 1 کرنتھیوں 4-5 آیات ، پھر بھی اپنی دَانست میں وہ جانتا تھا کہ محبت بھری اِلتماس کو کب اِستعمال میں لانا ہے ۔
- مَیں بوڑھا پولُس بلکہ اِس وقت مسیح یسوع کا قیدی : یہ بات واضح تھی کہ پولُس فلیمون سے کچھ مانگنے لگا تھا ۔ مانگنے سے پہلے اُس نے فلیمون کی ہمدردی کو جگا نے کے لیے خود کو بوڑھا اور اپنے حالات میں ایک قیدی کے طور پر بیان کیا ۔
- چونکہ پولُس یہاں پر محبت پر مبنی اپیل کرنے والا تھا اِس لیے وہ فلیمون کی محبت بھری ہمددری کو اُبھارنے کے لیے ہر ممکن کوشش کررہا تھا ۔ گو یا وہ کہہ رہا تھا ۔ کہ “فلیمون ،اِس سے پہلے کہ مَیں تجھ سے کچھ مانگوں یادرہے کہ مَیں ایک بوڑھا آدمی ہوں اور پھر ایک قیدی بھی ہوں “
- بعض تراجم میں بوڑھے کی جگہ” ایلچی” لفظ استعمال کیا گیا ہے ۔ اِن دو یونانی الفاظ میں ایک حرف کا فرق ہے ۔
- سواپنے فرزند اُنیسمس کی بابت تجھ سے التماس کرتا ہوں : اُنیسمس ایک غلام تھا جو اپنے آقا فلیمون کے پاس سے فرار ہوگیا تھا ۔ ایسا لگتا ہے کہ جب اُنیسمس فرار ہوا تو وہ روم چلا گیا ، اور دانستہ یا غیردانستہ طور پر پولُس سے جا ملا تھا۔ اُس وقت پولُس اگرچہ رُومیوں کی وجہ سے ایک گھر میں نظر بند تھا تو بھی اُس نے اُنیسمس کی یسوع مسیح تک آنےمیں رہنمائی کی ( جو قید کی حالت میں مجھ سے پیدا ہوا ۔)
- یہ منطقی بات تھی کہ اُنیسمس روم کی سلطنت کے سب سے بڑے شہر روم کو بھا گا تھا ۔ لائٹ فٹ کا کہنا ہے کہ “روم کا شہر ایسے نامُراداِنسانوں کے لیے ایک قدرتی پنا ہ گا ہ تھا ۔”تاہم اِتفاقاً روم میں آکر اُس کی ملاقات اُسی پولُس سے ہوئی جس نے اُس کے آقا فلیمون کو یسوع مسیح سے متعارف کروایا تھا۔ (فلیمون 19 )
- جب پولُس نے اُنیسمس کے لیے یہ اپیل کی تو اُس نے رو می ثقافت میں گہری روایات کی پیروی کی ۔قدیم یونانی قانون کے مطابق کسی بھی فرار ہونے والے غلام کو قربان گا ہ تک آنے کی اجازت تھی ۔قربان گاہ کسی کے نجی گھر میں بھی کو ئی مقام ہو سکتا تھا ۔ یوں خاندان کا سربر اہ غلام کو تحفظ فراہم کرنے کا پابند تھا اِسی لیے پولُس نے اُسے واپس بھیجنے اور فلیمون کو قائل کرنے کی کوشش کی تھی ایسے میں اگر غلام انکار کرتا تو خاندان کا سربراہ غلام کو نیلام کرتا اور نیلامی کی قیمت سابق آقا کو دے دیتا ۔ پولُس نے اُنیسمس کو پناہ دی تھی اور اب فلیمون کے ساتھ اِس معاملے پر بات چیت کررہا تھا ۔
- اپنے فرزند اُنیسمس :پولُس اکثر اپنے وسیلے سے ایمان لانے والے نوجوانوں کو اپنا “فرزند “کہا کرتا تھا ۔ تیمتھیس(1کرنتھیوں 4 باب 17آیت)،ططس(ططس 1باب 4آیت )کرنتھس کے مسیحی ایماندار( 1کرنتھیوں 4باب 14آیت) اور گلتیہ کے مسیحی (گلتیوں 4باب19آیت)، سبھی کو پولس کے فرزند کہا گیا ہے ۔
- پہلے تو وہ کچھ تیرے کام کا نہ تھا مگر اب تیرے اور میرے دونوں کے کام کا ہے : ایک طرح سے ، اُنیسمس پولُس کے لیے فائدہ مند ہو گیا تھا، شاید اُس نے گھر میں نظر بندی کے دوران پولُس کے معاون کے طور پر کام کیا تھا ۔ لہذا فلیمون کا یہ بھگو ڑا غلام اُنیسمس اب فلیمون کے لیےتو بیکار ہو چکا تھا کیو نکہ وہ مفرور تھا لیکن وہ پولُس کے لیے کارآمد ہو چکا تھا ، اور ایک طرح سے فلیمون کے لیے بھی (تیرے اور میرے دونوں کے کام کاہے)۔ کیونکہ فلیمون کو پولُس سے محبت تھی اِس لیے اگر اُنیسمس پولُس کے لیے کچھ کر رہا تھا تو وہ گویا فلیمون کے لیے بھی کچھ رہا تھا ۔
- جب پولُس اُنیسمس کے تعلق سے کارآمد اور بیکا ر ہو نے کے بارے میں بات کررہا تھا تو وہ بہت خوبصورتی سے لفظوں کا استعمال کر رہا تھا۔ اُنیسمس نام کا مطلب کا رآمد ہے ۔ اب جب کہ وہ مسیحی ہو چکا تھا اِس لیے اُنیسمس اپنے نام سے مطابقت رکھنے والی زندگی گزار سکتا تھا ۔
- “یہ بات قابل غور ہے کہ پولُس یہ دعویٰ کرتا تھا کہ کسی بیکار شخص کو بھی مسیح میں کارآمد بنایا جا سکتا ہے ” ( مسیح میں بیکا ر شخص کا ر آمد بنا یا جا چکا ہے )۔” (بارکلے/Barclay)
- فلیمون پر اِس سب کو واضح کرنے کے بعد پولس ایک طرح سے بغیر حکم دئیے اُسے یہ کہہ رہا تھا کہ وہ اِس بھگوڑے غلام کی خدمات کو برقرار رکھناچاہتا ہے۔
-
(14-12 آیات)پولُس اُنیسمس کو اِس اُمید کے ساتھ واپس بھیجتا ہے کہ فلیمون اُسے دوبارہ پولُس کے پاس واپس آنے کی اِجازت دے گا ۔
خود اُسی کو یعنی اپنے کلیجے کے ٹکڑ ے کو مَیں نے تیرے پاس واپس بھیجا ہے ۔ اُس کو مَیں اپنے ہی پاس رکھنا چاہتا تھا تاکہ تیری طرف سے اِس قید میں جوخوشخبری کے باعث ہے میری خدمت کرے ۔ لیکن تیری مرضی کے بغیر مَیں نے کچھ کرنا نہ چاہا تاکہ تیرانیک کام لاچاری سے نہیں بلکہ خوشی سے ہو ۔
- خود اُسی کو یعنی اپنے کلیجے کے ٹکڑ ے کو میَں نے تیرے پا س واپس بھیجا ہے : اُنیسمس نے کچھ تو غلط کیا تھا کہ اُسے اپنے مالک کے ہاں سے بھا گنا پڑا ۔ اب وقت آگیا تھا کہ اُسے درُست کیا جاتا اِسی لیے پولُس نے اُسے واپس بھیجا۔ پولُس واضح طور پر چاہتا تھا کہ فلیمون اُنیسمس کے ساتھ نرمی کے ساتھ پیش آئے ۔ رُومی قانون کے تحت مالک کو اپنے غلام پر مکمل طور پر اختیار حاصل ہوتا تھا ۔ اُس دَورمیں یہ غیر معمولی بات نہیں تھی کہ غلاموں کو فرار ہونے سے بھی کم جرائم کی وجہ سے مصلوب کر دیا جاتا تھا ۔
- “ایک قدیم مصنف بیان کرتا ہے کہ ایک غلام شیشے/بلور کے گلاسوں کی ایک ٹر ے لے کر جا رہا تھا کہ اُس سے ایک گلاس نیچے گر کر ٹوٹ گیا۔ اُس کے مالک نے حکم دیا کہ اُسے فوراً خونخوار مچھلیوں کے تالاب میں پھینک دیا جائے، جہاں چند لمحوں میں اُن مچھلیوں نے اُسکے جسم کو چیر پھاڑ کر ٹکڑے ٹکرے کر دیا۔ رُومی قانون نے ۔۔۔عملاً غلاموں کے مالکوں کو حد سے زیادہ طاقت اور اختیار دے رکھا تھا ۔ اِس لیے زندگی یا موت کا فیصلہ لینے کا اختیار صرف فلیمون کےپاس تھا کیو نکہ غلاموں کو اِس سے کہیں زیادہ ہلکے جرائم کے لیےمصلوب کیا جاتا تھا ۔” (لائٹ فٹ/Lightfoot )
- رُومی سلطنت میں غلاموں کی بڑی تعدا د کو دیکھتے ہوئے ، اُن کا خیال تھا کہ فرار یا باغی غلاموں کے خلاف سخت سزا ضروری امر ہو گیا تھا۔ 60 ملین چھ کروڑ غلاموں والی سلطنت میں غلاموں کی طرف سے بغاوت کے مسلسل خدشات رہتے تھے ۔ اِس لیے بھگوڑے غلاموں کے خلاف قوانین بہت سخت تھے۔ پکڑے جانے کی صورت میں ایک بھگوڑے غلام کو مصلوب کیا جا سکتا تھا یا پھر گرم لوہے کے ساتھ اُس کی پیشانی کو حرف” F” کے نشان کے ساتھ داغ دیا جاتا تھا جو کہ Fugitive بمعنی مفرور کی علامت تھا۔
- اِن باتوں کی روشنی میں ہم پولُس کےاِس فقرے “اپنےکلیجے کے ٹکڑ ے” کو بہتر طور پر سمجھ سکتے ہیں ۔”فلیمون ،مَیں جانتا ہوں کہ اِس شخص نے تیرا نقصان کیا ہے اور سزا کا مستحق ہے ۔ مگر اِسے میرا دل سمجھ کر اِس پر رحم کر دے۔ “
- اُس کو میَں اپنے ہی پاس رکھنا چاہتا تھا تاکہ تیری طرف سے اِس قید میں خوشخبری کے باعث ہے میری خدمت کرے :صاف ظاہر ہے کہ پولُس چاہتا تھا کہ اُنیسمس اُس کے پاس ہی ٹھہرتا کیونکہ وہ ایک بڑا مددگا ربن تھا ۔ پولُس نے اپنی التجا کو تین طریقوں سے شائستہ بنا یا ۔
- سب سے پہلا طریقہ یہ کہ اگر اُنیسمس وہیں ٹھہرتا ہے تو وہ فلیمون کی طرف سے پولُس کی خدمت کر سکتا تھا ۔”فلیمون ،اگر تم اُنیسمس کو میرے پاس رہنے دیتے ہو تو وہ تیری طرف سے میری خدمت کے مترادف ہے کیونکہ اُنیسمس دراصل تیرا غلام ہے۔”
- دوسرا طریقہ اگر اُنیسمس ٹھہرتا ہے تو وہ زنجیروں میں جکڑ ے آدمی کی مدد کرتا ہے ۔ “فلیمون ،میں جانتا ہوں کہ اُنیسمس تیرے کام میں آسکتا ہے تاہم مَیں زنجیروں میں جکڑ ا ہوں اور مجھے اِس کی مدد کی بہت ضرورت ہے ۔”
- تیسرا طریقہ اگر اُنیسمس ٹھہرتا ہے تو وہ خوشخبری کے لیےزنجیروں میں جکڑے ایک اِنسان کی مدد کرتا ہے ۔ فلیمون مت بھول کہ میَں زنجیروں میں کیوں ہوں۔ یاد رکھ کہ یہ خوشخبری کی خاطر ہے ۔”
- لیکن تیری مرضی کے بغیر مَیں نے کچھ کرنا نہ چاہا : پولُس نےبڑی خوش اسلوبی سے اپنی گزارش کو فلیمون کے سامنے پیش کیا۔ اِس کے لیے اُس نے واقعی فیصلہ فلیمون پر چھوڑ دِیا تھا پولُس کو محبت میں رہ کر درخواست کرنا تھی مگر اُسے فلیمون کے حقوق کو پامال بھی نہیں کرنا تھا۔
- تاکہ تیرا نیک کام لاچاری سے نہیں بلکہ خوشی سے ہو : اِس بات نے وضاحت کردی کہ پولُس کیوں فلیمون سے کوئی فیصلہ جبراً نہیں کروانا چاہتا تھا ۔ اگر پولُس جبراً یا حکماًاِس کا مطالبہ کرتا تو فلیمون کا نیک عمل مجبوری سے ہوتا نہ کہ رضا کا رانہ نیت سے ۔ ایسے میں سارا معاملہ ناخوشگوار ہو جاتا جو فلیمون کو کسی حقیقی اَجر سے محروم کر دیتا جوکہ اُسے حاصل ہو سکتا تھا۔
- بنیادی طور پر پولُس نے فلیمون کو وہ کرنے کی آزادی دی جو خُداوند کے سامنے محبت میں صحیح تھا اور اُس نے اُسے ایسا اپنی مرضی سے کرنے کی آزادی دی نہ کہ اپنی بات کے اصرار کی وجہ سے۔
-
(16-15 آیات) پولُس اُنیسمس کے فرار ہونے میں خُدائی ہاتھ کی پر وردگاری کی وضاحت کرتا ہے ۔
کیو نکہ ممکن ہے کہ وہ تجھ سے اِس لئے تھوڑی دیر کے واسطے جدا ہوا ہو کہ ہمیشہ تیرے پاس رہے ۔مگر اب سے غلام کی طرح نہیں بلکہ غلام سے بہتر ہو کر یعنی اَیسے بھائی کی طرح رہے جو جسم میں بھی اور خُداوند میں بھی میرا نہایت عزیز ہو اور تیرا اِس سے بھی کہیں زیادہ ۔
- تھوڑی دیر کے واسطے جدا ہوا : یہ سچ تھا کہ اُنیسمس چلا گیا تھا لیکن پولُس اُسے واپس بھیج رہاتھا ۔اِک لحاظ سے تھوڑی دیر کے واسطے جُدا ہونا اِس قدر بُرا محسوس نہیں ہوتا جتنا بُرا فرار ہو جانا محسوس ہوتا ہے۔
- تھوڑی دیر کے لیے جدا ہونے میں پولُس نے مفرور غلام کے لیے نرم لب ولہجہ اِستعمال کیا ۔کلارک اِس جملے کے بارے میں کہتا ہے کہ “یہ بات ایک نازک ضرب تھی ۔”
- ممکن ہے کہ وہ تجھ سے اِس لئے جدا ہوا تھا : بعض باتوں میں اُنیسمس کا فرار ہو نا مصیبت کے سوا اور کچھ نہیں تھا ۔ اُس نے فلیمون کو ایک کارکن اور ایک اثاثے سے محروم کر دیا تھا ۔ اِس عمل نے اُنیسمس کو مجرم بنا دیا تھا وہ بھی ممکنہ سزائے موت کا ۔ تاہم اِن سب باتو ں میں پولُس خُدا کا ایک مقصد دیکھ سکتا تھا اور وہ یہ چاہتا تھا کہ فلیمون بھی اُس مقصد کو دیکھے ۔
- یہ الفاظ “ممکن ہے ” بہت اہم ہیں ۔ اِن الفاظ سے یہ نہیں ظاہر ہوتا کہ پولُس فلیمون سے یہ کہہ رہاتھا کہ “فلیمون ،خُدا نے مجھے اپنا کام کرنے والا مخفی ہاتھ دِکھا یا ہے ، اور جو کچھ مَیں دیکھ رہا ہوں تم بس اُسے قبول کرلو ” بلکہ وہ یہ کہہ رہا تھا کہ “فلیمون مجھے لگ رہا ہے کہ خُدا یہاں غیر معمولی طریقوں سے کام رہا ہے ۔ مَیں تمہیں بتاتا ہوں کہ مَیں کیا دیکھ رہا ہوں اور شاید یہ بات تمہیں بھی ٹھیک لگے ۔”
- کہ ہمیشہ تیرے پاس رہے : یہ اُس مقصد کا ایک پہلو تھا جس میں پولُس نے خُدا کو اُنیسمس کے فرار ہونے میں کام کرتے ہوئے دیکھا تھا۔ فلیمون نے بحیثیت مالک ایک غلام کو کھویا تھا ؛ لیکن فلیمون نے بحیثیت ایک مسیحی ایک بھائی کو پایا تھا۔ اور اُسے وہ بھائی اب ہمیشہ کے لیے حاصل ہو گیا تھا۔
- “یہاں پولس رسول ایک خراب معاملے کو بہتر ین بنا دیتا ہے تائب اور تبدیل ہونے والوں کو نرم دِلی سے سنبھالنا اور قبول کرنا چاہیے اور اُن کی سابقہ بُرائیوں کو اُچھا لنا اور بڑھاوانہیں دینا چاہیے۔ “(ٹراپ/ (Trapp
- مگر اب غلام کی طرح نہیں بلکہ غلام سے بہتر ہو کر یعنی اَیسے بھائی کی طرح رہے :پولُس نے اُنیسمس کو فلیمون سے ” دوبار ملوایا “ایک غلام کے طور پر نہیں بلکہ ایک بھائی کے طور پر ۔ اِس رشتے میں یعنی بھائیوں کے طور پر نہ کہ غلاموں کے طور پر ، ایسا کرتے ہوئے پولُس نے بڑے موثر انداز میں ” آقا اور غلام کے تعلقات کو ختم کر دیا اور غلامی کے حتمی قانونی خاتمے کی گویا بنیاد رکھ دی تھی ۔ اگر کوئی شخص اجنبی ہو تو اُسے تو غلام بنایا جا سکتا ہے مگر اپنے ہی بھائی کو کوئی غلام کیسے بنا سکتا ہے ؟
- آقا اور غلام کے درمیان فرق کو ختم کرنا ایک انقلابی پیشرفت تھی ۔ اِس بات نے غلامی کی مما نعت کے قانون کی منظوری سے کہیں زیادہ بڑھ کر معاشرے کو تبدیل کرنےکے لیے کام کیا ۔
- فلیمون کا خط اِس اَمر میں جو کچھ کرتا ہے وہ یہ ہے کہ وہ اِس طرح کے عمل کو ایک ایسی فضا میں لاتا ہے جہاں وہ نہ صرف مُرجھائے بلکہ فنا ہوجائے ۔ جہاں آقا اور غلام مسیح میں بھائیوں کے طور پر محبت میں متحد رہیں۔ جہاں فرضی اور رسمی آزادی حقیقی تجر بہ بن جائے ۔ جہاں اُن کے نئے رشتے کو قا نونی تصدیق حاصل ہو۔” (بروس/Bruce )
- ایک فرد کی تبدیلی کسی معاشرے اور اخلاقی ماحول کی تبدیلی کی کلید ہے۔ “مگر اِس بات کو ذہن نشین کر لیں کہ کسی شرابی کی حقیقی اَصلاح اُسے ایک نیا دل عطا کرنے میں ہے کسی فاحشہ کو بدلنے کا دعویٰ اُسے نئی فطرت دینے میں پایا جاتا ہے ۔۔۔مَیں نے اپنے بھائیوں کو اپنی لکڑی کی آریوں کے ساتھ بدی کے پیڑوں کی چند شاخوں کو کاٹتے ہوئے دیکھا لیکن جہاں تک انجیل کا تعلق ہے ، اِس میں وہ کلہاڑی پائی جاتی ہے جو بدی کے سارے جنگل کی جڑوں پر ضر ب لگا تی ہے اور اگر اُسے دل سے منصفانہ طور پر قبول کیا جائے تو یہ ایک ہی وقت میں تمام بُرے درختوں کوکا ٹ گراتی ہے اور پھر اُن کے بدلے صنوبر اور دیودار کے درخت اُگتے ہیں اور ایسے درخت پھوٹ نکلتے ہیں جن سے ہمارے خُداوند کے لیے جلال کے گھر سج جاتے ہیں ۔” (سپرجن/Spurgeon)
-
(19-17 آیات) پولُس فلیمون کے نقصان کی بھرپائی کا شخصی وعدہ کرتا ہے ۔
پس اگر تُو مجھے شریک جانتا ہے تو اُسے اِس طرح قبول کرنا جس طرح مجھے۔ اور اگر اُس نے تیرا کچھ نقصان کیا ہے یا اُس پر تیرا کچھ آتا ہے تو اُسے میرے نام لکھ لے ۔میَں پولُس اپنے ہاتھ سے لکھتا ہوں کہ خود ادا کروں گا اور اِس کے کہنے کی کچھ حاجت نہیں کہ میرا قرض جو تجھ پر ہے وہ تو خود ہے ۔
- پس اگر تُو مجھے شریک جانتا ہے تو اُسے اِس طرح قبول کرنا جس طرح مجھے:ایک بار پھر سے پولُس اُنیسمس کے ساتھ کھڑا ہو کر رحم کی درخواست کرتا ہے ۔”اگر مَیں انجیل میں تیرا شریک ہوں تو اُنیسمس کے ساتھ ایسا سلوک کرنا جیسا کہ تو میرے ساتھ کرتا ۔”
- پولُس کی التماس میں اثر تھا کیو نکہ وہ خود ایک مجرم کے ساتھ کھڑا تھا اور غلام کے مالک سے کہہ رہا تھا ،” مَیں جانتا ہوں کہ یہ آدمی مجرم ہے اور سزا کا مستحق ہے ۔ تاہم یہ غلام میرا دوست ہے اِس لیے اگر تو اِسے سزا دے تو پھر تجھے مجھکو بھی سزا دینی ہوگی۔ مَیں اِس کی سزا لینے کے لیے اِس کے ساتھ کھڑا ہوں ۔ ایسا ہی کچھ یسوع ہما رےمالک یعنی خُدا باپ کے سامنے ہما رے لیے کرتا ہے۔
- اور اگر اُس نے تیرا کچھ نقصان کیا ہے یا اُس پر تیرا کچھ آتا ہے تو اُسے میرے نام لکھ لے : اصل میں جب اُنیسمس فرار ہوا تو اُس نے فلیمون کے ہاں سے کچھ چرایا تھا یہ بذات خود ایک بڑا جرم تھا ۔ پولُس کہہ رہا تھا کہ جو چیز چوری کی گئی ہے اُس کی قیمت اُس کے کھاتے میں لکھ دی جائے ۔ “فلیمون، اُسے پولُس کے نام پر لگا دے ۔”
- مَیں پولُس اپنے ہاتھ سے لکھتا ہوں کہ خود ادا کروں گا : پولُس اِس بارے میں اتنا سنجید ہ تھا کہ اُس نے فلیمون کو ایک ذاتی تحریری ضمانت دے دی جواُس کے اپنے ہاتھ سے لکھی ہوئی تھی ۔ جب پولُس نے فلیمون سے کہا تھا ، “اُسے میرے نام لکھ لے ” تو ایسے میں اُس نے بنیادی طور پر اُنیسمس کے لیے وہی کیا جو یسوع نے اُس وقت کیا تھا جب اُس نے ہمارے گناہوں کو اپنے نام پر لے لیا تھا ۔
- ” یہاں ہم دیکھتے ہیں کہ پولُس کس طرح غریب اُنیسمس کی جگہ پر خود اپنی ذات کو پیش کر دیتا ہے ، اور اپنے تمام وسائل کے ساتھ اُس کے مالک کے ساتھ اُسکے مقدمے کو اپنا بنا کر پیش کرتا ہے۔ اور یوں اپنے آپ کو اِس طرح ظاہر کرتا ہے جیسے کہ وہی اُنیسمس تھا اور اُسی نے گویا فلیمون کا نقصان کیا تھا ۔ جیسا مسیح نے خُدا باپ کے حضور ہما رے لئے کیا اُسی طرح سے پولُس نے فلیمون کے ساتھ اُنیسمس کے لئے بھی کیا ۔ میری دانست میں ہم سب ہی اُنیسمس ہیں ۔”(لوتھر/ (Luther
- اُس کویہ کہنے کی کچھ حاجت نہیں تھی کہ میرا قرض جو تجھ پر ہے وہ تُو خود ہے ۔ بات جب حساب کتاب کی ہورہی تھی تو پولُس نے ایک اور بات کا تذکرہ کر دیا ۔ “فلیمون ، یاد رکھ کہ تیری طرف میرا بھی بہت کچھ آتا ہے کیو نکہ تو آپ اپنی ذات میں میرا مقروض ہے ۔” پولُس اُنیسمس کے اخراجات ادا کرنے کا متحمل تھا کیو نکہ یہ بات بھی حقیقت تھی کہ فلیمون خود پولُس کی جانب سے مسیح سے متعارف ہونے کا مقروض تھا ۔
-
(22-20 آیات) فلیمون کے جواب پر پولُس کا اعتماد ۔
اَے بھائی مَیں چاہتا ہوں کہ مجھے تیری طرف سے خُداوندمیں خوشی حاصل ہو ۔ مسیح میں میرے دل کو تازہ کر ۔مَیں تیری فرمانبرداری کا یقین کر کے تجھے لکھتا ہوں اور جانتا ہو ں کہ جو کچھ مَیں کہتاہوں تُو اُس سے بھی زیادہ کرے گا ۔ اِس کے سوا میرے لئے ٹھہرنے کی جگہ تیا ر کر کیو نکہ مجھے اُمید ہے کہ مَیں تمہاری دُعا ؤں کے وسیلہ سے تمہیں بخشا جاؤں گا ۔
- اَے بھائی مَیں چاہتا ہوں کہ مجھے تیری طرف سے خُداوند میں خوشی حاصل ہو :یہاں پہ لفظ”خوشی ” محض خوشی سے بڑھ کر کچھ ہے۔خوشی کے لیے قدیم یونانی لفظ oninemi استعمال کیا جاتاہے جو کہ”Onesimus “کا ماخذ ہے ۔ پولُس لفظوں کا خوبصورت استعمال کرتے ہوئے کہہ رہا تھا کہ “مجھے اپنی طرف سے اُنیسمس کو خُداوند میں واپس دےدے ۔”
- مسیح میں میرے دل کوتازہ کر :خط کے آغاز میں پولُس نے کہاتھا کہ فلیمون ایسا شخص تھا جس نے مقدسوں کے دِلوں کا تازہ کیا تھا( فلیمون 7 آیت)۔یہاں اُس نے خاص طور پر فلیمون کو کہہ دیا کہ وہ پولُس کے دل کو کیسے تازہ کر سکتا ہے :اُنیسمس کو پولُس کے ساتھ رہنے کی اجازت دے کر ۔
- جانتا ہوں کہ جو کچھ مَیں کہتا ہوں تُو اُس سے بھی زیادہ کرے گا : پولُس کا یہ خط نہ صرف اِلتماس سے بھرا تھا بلکہ اُمید سے بھی لبریز تھا ۔ فلیمون نہ ہی بُرا شخص تھا اور نہ ہی سخت دِل اِنسان ۔ پولُس کو ایسی توقع رکھنے کی پوری اُمید تھی کہ وہ اپنا مسیحی فرض پورا کرے گا اوراُس کے کہنے سے بھی زیادہ کچھ کرے گا ۔
- اِس کے سوا میرے لئے ٹھہرنے کی جگہ تیار کر: اِس بات سے پولُس اور فلیمون کے درمیان قریبی تعلق ظاہر ہوتا ہے ۔ پولُس جانتا تھا کہ فلیمون کے گھر میں مہمان نوازی ہمیشہ اُس کا انتطار کرتی ہے ۔
- مجھے اُمید ہے کہ مَیں تمہاری دُعاؤں کے وسیلہ سے تمہیں بخشا جاؤں گا : پولُس چاہتا تھا کہ فلیمون دُعا کرے ۔ پولُس جانتا تھا کہ دُعائیں رسمی باتیں نہیں ہوتیں ۔ پولُس کو یقین تھا کہ فلیمون کی دُعاؤں کے وسیلہ سے ہی وہ ایک بار پھر سے اکٹھے ہو پائیں گے ۔
3: خلاصہ
-
(24-23 آیات) پولُس رُوم میں مشتر کہ دوستوں کی جانب سے فلیمون کو سلام بھیجتا ہے ۔
اپفراس جو مسیح یسوع میں میرے ساتھ قید ہے ۔ اور مرقس اور اَرِسترخس اور دیماس اور لوقا جو میرے ہم خدمت ہیں تجھے سلام کہتے ہیں ۔
- اِپفراس ۔۔۔مرقس اور اَرِسترخس جو میرے ہم خدمت ہیں :یہی سب نام کلسیوں کے نام خط کے اختتام پر بھی پائے جاتے ہیں( کلسیوں 4باب10-17 آیات) ۔اِس سے ثابت ہوتا ہے کہ دونوں خطوط ایک ہی جگہ پرلکھے گئے تھے ۔ فلیمون کُلسے کا رہنے والا تھا ۔
- ساتھ قید “لغوی طور پر اِس کا مطلب ہے ‘جنگی قیدی’ یہاں پر یہ الفاظ غالباً استعاراتی طور پر اِ ستعمال کئے گئے ہیں ۔” (اوسٹریلی/Oesterley)
- دیماس :”خیال کیا جاتا ہے کہ یہ دیما س وہی ہے جو پولُس کے ساتھ رومہ میں قید تک اُس کے ساتھ تھا، مگر اِس کے بعد دیماس نے اِس مَوجُودہ جہان کو پسند کر کےپولُس کو چھوڑ دیا تھا ( 2 تیمتھیس 4باب 10آیت)۔” (کلارک/Clarke)
-
(25 آیت) خط کا اِختتام ۔
ہما رے خُداوند یسوع مسیح کا فضل تمہاری رُوح پر ہوتا رہے آمین
- خُداوند یسوع مسیح کا فضل تمہاری رُوح پر ہوتا رہے : ہم فلیمون کے نام پولُس کے اِ س خط سے چند پائیدار اصول سیکھتے ہیں ۔
- پولُس نے اگرچہ باضابطہ طور پرکبھی غلامی کے نظام کو ختم کرنے پر آواز نہ اُٹھائی تھی تاہم فلیمون کو لکھے گئے اُصول غلامی کو ختم کرتے ہیں ۔ سب سے بڑی سماجی تبدیلی اُس وقت آتی ہے جب لوگ بدل جاتے ہیں اور جب وہ یک دِل ہوتے ہیں ۔ ہمارے معاشرے سے نہ تو نسل پرستی اور نہ ہی اِسقاطِ حمل کے لیے ہما ری کم ظرفی کو قوانین کے ذریعہ ختم کیا جا سکتا ہے ۔ اِن کے لیے دِل کی تبدیلی چاہیے ۔
- اُنیسمس اپنے مالک کے پاس واپس جانے کا پابند تھا ۔ جب ہم کچھ غلط کرتے ہیں تو ہمیں اُسے درست کرنے کی پوری کوشش کرنی چاہیے ۔ مسیح میں ایک نیا مخلوق (2 کرنتھیوں 5باب17 آیت) بننے سے خمیازیہ بھگتنے کی ہماری ذمہ داری ختم نہیں ہوجاتی ۔ بلکہ اِس سے ہماری ذمہ داری بڑھ جاتی ہے چاہے اُسے پورا کرنا کتنا ہی مشکل کیو ں نہ ہو ۔
- اُنیسمس اپنی غلطیوں کے لیے اخلاقی طور پر ذمہ دار تھا ۔ فلیمون کو لکھا گیا خط یہ ظاہر کرتا ہے کہ کسی کے مارکس ازم اور لبرل ازم کے حامی ہونے کے باوجود انسان کے ہر عمل کو معاشیات سےتحریک نہیں ملتی ۔کوئی خواہ امیر ہو یا غریب ،اُسے خُدا کے رُوح کی ہدایت سے چلنا چاہیے نہ کہ اپنی معاشی حیثیت کی ۔
- “نئے عہد نامے کا کوئی اور حصہ اِتنے واضح طور پر مربوط مسیحی سوچ اور زندگی کو ظاہر نہیں کرتا ۔ یہاں سبھی کچھ ہے ، پولُس کی سبھی خصوصیات ،محبت حکمت مزاح ،نرمی ، تدبیر اور سب سے بڑھ کر مسیحی اور انسانی سوچ و سمجھ کی پختگی۔” (رائٹ/ Wright )
- آمین : خط کاا ختتام ہمیں یہ پوچھنے پر مجبور کر سکتا ہے کہ “ہما ری بائبل میں فلیمون کا خط کیوں ہے ؟ ” 110عیسوی میں ، اِفسس کے پاسبان/ بشپ کا نام اُنیسمس تھا اور ممکنہ طور پروہ بشپ یہی اُنیسمس ہو سکتا ہے ۔ جب پولُس نے یہ خط لکھا اگر تو اُنیسمس اپنی نو عمری کے اواخر میں بیس کی دہائی کے اوائل میں تھا تو وہ 110 عیسوی میں تقریباً 70 سال کا ہوگا اور یہ اُن دِنوں میں کسی بشپ کے لیے کو ئی غیر معقول عمر نہیں تھی۔
- اگنئشیس افسیوں کے نام اپنے خط میں تیمتھیس کے بعد ، افسس کے پاسبان کے طور پر اُنیسمس کا ذکر کر تا ہے۔ The Roman Martyrologue کے مطابق اُسے رُوم میں تراجان شہنشاہ کے دور میں سنگسار کر کے شہید کیا گیا۔
- کچھ تاریخی شواہد کے مطابق پولُس کے خطوط سب سے پہلے اِفسس شہر میں جمع کیے گئے تھے ۔ غالباً اُنیسمس نے ہی سب سے پہلے خطوط کو مرتب کیا تھا اور وہ خود اِس بات کو یقینی بنانا چاہتا تھا کہ اُس کا یہ خط- یعنی اُس کی آزادی کامعاہدہ یا پروانہ- اُن خطوط میں لازمی طور پر شامل کیا جائے۔
