یوحنا 1باب – کلام اور گواہی

الف: یوحنا : چوتھی انجیل

  1. یوحنا کی انجیل چار رُخی انجیل (اناجیل اربعہ) کا چوتھا حصہ ہے۔ یسوع ناصری کے بارے میں یہ انجیل چار مختلف آوازوں پر مشتمل ہے جو اُس کی زندگی کے مختلف رُخ ہم پر عیاں کرتی ہیں۔ ابتدائی کلیسیائی سالوں کے دوران ہی مسیحی مصنفین جیسے کہ اوریجن (185 تا254 بعد ازمسیح)اِس بات کو سمجھتے تھے کہ اناجیل چار نہیں بلکہ ایک ہی انجیل ہے اور اُس کے چار مختلف رُخ یا حصے ہیں۔
    1. یوحنا کی انجیل چاروں میں سے یقیناًآخر میں لکھی گئی تھی اور یوحنا نے یسوع کے بارے میں جو کچھ پہلے بیان کیا جا چکا تھا اُس کو مدِنظر رکھتے ہوئے اِسے تحریر کیا۔ یہی وجہ ہے کہ یوحنا کا انجیلی بیان متی ، مرقس اور لوقا سے کئی ایک چیزوں میں مختلف ہے۔
    2. یسوع کی زندگی کے کئی ایک انتہائی اہم ترین واقعات ہیں جنہیں متی، مرقس اور لوقا نے اپنی تحریروں میں شامل کیا لیکن یوحنا نے اُن واقعات کو شامل نہ کیا جیسے کہ:
      • خُداوند یسوع مسیح کی پیدایش
      • خُداوند یسوع مسیح کا بپتسمہ
      • خُداوند یسوع مسیح کی بیابان میں آزمائش
      • خُداوند یسوع مسیح کا بد ارواح سے سامنا
      • خُداوند یسوع کی تماثیل میں تعلیم
      • عشائے ربانی کا باقاعدہ اہتمام
      • باغ ِ گتسمنی میں جانکنی
      • خُداوند یسوع کا آسمان پر اُٹھا لیا جانا
    3. پہلی تین اناجیل کا مرکز گلیل کے اندر خُداوند یسوع کی خدمت ہے۔لیکن یوحنا کی انجیل کا مرکز یروشلیم کے اندر خُداوند یسوع کا کلام اور اُسے کے کام ہیں۔
    4. ہر ایک انجیل خُداوند یسوع کی ذات کا ایک مختلف رُخ پیش کرتی ہےاور یسوع کی ذات کے حوالے سے مختلف اور مزید معلومات فراہم کرتی ہے۔
      • متی ہمیں دکھاتا ہے کہ یسوع داؤد کے ذریعے ابرہؔام کی نسل سے آیا، اور یوں وہ یہ دکھاتا ہے کہ یسوع ہی پُرانے عہد نامے کا موعودہ مسیح ہے (متی 1باب1تا17 آیات)
      • مرقس ہمیں دِکھاتا ہے کہ یسوع ناصرت سے آیا اور اُس نے خادم کی صورت اختیار کی۔(مرقس 1 باب 9 آیت)
      • لوقا ہمیں دِکھاتا ہے کہ یسوع آدم کی نسل سے آیا اور وہ کامل انسان بھی ہے۔(لوقا 3باب 23تا38 آیات)
      • اور یوحناہمیں دِکھاتا ہے کہ یسوع آسمان سے آیا، اور وہ ہم پر ظاہر کرتا ہے کہ وہ خُدا ہے۔
    5. بہر حال یہ سوچنا غلط ہوگا کہ یوحنا مسیح کی کہانی کی تکمیل کرتا ہے۔ یوحنا تو یہ کہتا ہے کہ خُداوند یسوع مسیح کی کہانی اِس قدر بڑی ہے کہ اُس کو کبھی بھی مکمل طور پر بیان نہیں کیا جا سکتا (یوحنا 21 باب 25 آیت)۔
  2. متی ،مرقس اور لوقاکو اناجیل مماثلہ یا متوافقہ کے طور پر بھی جانا جاتا ہے۔ اِس کے لئے انگریزی اصطلاح Synoptic کواستعمال کیا جاتا ہے۔ اِس لفظ کے معنی ہیں “اکٹھے یا ملکر دیکھنا”اور یہ پہلی تینوں اناجیل کافی حد تک ایک ہی انداز سے خُداوند یسوع کی زندگی کے احوال پیش کرتی ہیں۔ پہلی تینوں اناجیل کی توجہ کا مرکز یسوع کی تعلیمات اور اُس کے کام /معجزات ہیں، جبکہ یوحنا یہ بیان کرنے کی کوشش کرتا ہے کہ خُداوند یسوع اصل میں ہے کون۔
    • یوحنا خُداوند یسوع مسیح کے سات مخصوص معجزات کے بارے میں بیان کر کے ہمیں دکھاتا ہے کہ وہ اصل میں کون ہے۔ اِن سات معجزات میں سے چھ کا ذکر پہلی اناجیل میں نہیں ہوا۔
    • یوحنا یسوع کے ساتھ بہت خاص بیانات کو بھی پیش کرتا ہے جن میں یسوع خود بتاتا ہے کہ وہ کون ہے، اور یہ بیانات پہلی تینوں اناجیل میں ہمیں نہیں ملتے۔
    • یوحنا ہمارے سامنے یسوع کی ذات کے بہت سارے اہم گواہ پیش کرتا ہے جو اُس کی ذات کے بارے میں مختلف لیکن بہت اہم گواہیاں دیتے ہیں۔ اُن گواہوں میں سے چار کی گواہی ہم یوحنا کے پہلے باب میں ہی پڑھتے ہیں۔
  3. یوحنا کی انجیل کے تحریر کئے جانے کا ایک بہت خاص مقصد ہے: اور وہ یہ ہے کہ ہم ایمان لائیں۔ یوحنا کی انجیل کو سمجھنے کے لئے یہ سنہری آیت ہمیں انجیل کے اختتام پر ملتی ہے: لیکن یہ اِس لئے لکھے گئے کہ تم ایمان لاؤ کہ یسوع ہی خُدا کا بیٹا مسیح ہے اور ایمان لا کر اُس کے نام سے زندگی پاؤ۔ (یوحنا 20باب31آیت)
    1. یوحنا کی انجیل نے حتیٰ کہ تشکیک پرست علماء کی بھی ایمان پر قائم رہنے میں مدد کی ہے ۔ نئے عہد نامے کا مصر سے ملنے والا پُرانا ترین ٹکرا اصل میں یوحنا 18باب کا چھوٹا سا حصہ ہے اور خیال کیا جاتا ہے کہ یہ 150 بعد از مسیح سے بھی پہلے کا ہے۔ اِس سے ہمیں اندازہ ہوتا ہے کہ یوحنا کی انجیل اُس دور میں دور دور تک پھیل چکی تھی۔
    2. یوحنااپنی اِس انجیل میں ہمیں اپنے بارے میں بہت کچھ نہیں بتاتا، لیکن اِس انجیل میں چند ایک ایسی چیزیں ہمیں ملتی ہیں اگر ہم اُن سب کو ساتھ ملا کر دیکھیں تو ہم یوحنا کے بارے میں کافی کچھ سیکھ سکتے ہیں۔
      • یوحنا کے باپ کا نام زبدؔی تھا۔
      • یوحنا کی ماں کا نام سلوؔمی تھا، اور یہ اُن خواتین میں سے ایک تھی جو یسوع کے جی اُٹھنے کے دن علی الصبح یسوع کی قبر پر گئی تھیں ۔
      • یوحنا کے بھائی کا نام یعقوب تھا۔
      • یوحنا پطرس کے ساتھ ملکر مچھلیاں پکڑنے کا کام کیا کرتا تھا۔
      • یوحنا اور اُس کے بھائی یعقوب کو یسوع کی طرف سے “گرج کے بیٹے” ہونے کا لقب ملا تھا۔
  4. یوحنا کی انجیل کو محبوب انجیل بھی کہا جاتا ہے کیونکہ یہ سادگی اور گہرائی کا خلاف ِ قیاس امتزاج ہے۔ یوحنا کی انجیل کے بارے میں کہا گیا ہے کہ یہ “ایک ایسا حوض ہےجس میں ایک بچہ بھی دھنس سکتا ہے لیکن دوسری طرف ایک ہاتھی بھی تیراکی کر سکتا ہے۔ “
    1. “اِس انجیل میں بیان کردہ کہانیاں اتنی سادہ ہیں کہ بچے بھی اُنہیں دلچسپی سے سنتے اور پڑھتے ہیں، لیکن اِس کے بیانات اِس قدر عمیق ہیں کہ کوئی بھی فلسفی اُن کی گہرائی کا درست اندازہ نہیں لگا سکتا۔” (ارڈمن/Erdman)
    2. “پس اگر ہم تفریح، کھیل کود، موسیقی یا خبروں کو اپنی بھر پور توجہ دیتے ہیں توجب ایک شخص آسمان سے بول رہا ہو اور اُسکی آواز رعد کی گھن گرج سے بھی زیادہ اونچی اور واضح ہو تو ہمیں اُس کو کس قدر احتیاط کے ساتھ سننا چاہیے؟” (جان کریسوسٹم/John Chrysostom )

ب: یوحناکی انجیل کا دیباچہ

یہ انتہائی اہم حصہ محض انجیل کا پیش لفظ نہیں بلکہ یہ اِس کتاب کا نچوڑ ہے۔ یوحنا کی انجیل کا باقی سارا حصہ اُنہی عنوانات کے بارے میں بات کرتا ہے جن کا یہاں پر ذکر کیا گیا ہےجیسے کہ دُنیاوی زندگی کی شناخت، نور، نئی پیدایش، فضل، سچائی اور خُداوند یسوع مسیح میں خُدا باپ کا مکاشفہ۔

  1. (1- 2 آیات) کلام (لوگوس Logos )کی ازلیت

    ابتدا میں کلام تھا اور کلام خُدا کے ساتھ تھا اور کلام خُدا تھا۔یہی ابتدا میں خُدا کے ساتھ تھا۔

    1. ابتدا میں: یہ الفاظ اُس لا زمان ابدیت کی طرف اشارہ کر رہے ہیں جس کا ذکر ہمیں پیدایش کی کتاب 1باب 1 آیت میں بھی ملتا ہے (خُدا نے ابتدا میں زمین و آسمان کو پیدا کیا)۔ یوحنا یہاں پر خاص طور پر اِس بات پر زور دینے کی کوشش کر رہا ہے کہ جس وقت زمان و مکان کا آغاز ہوا اُس سے بھی پہلے سے کلام اپنا وجود رکھتا ہے، یعنی ہر طرح کی تخلیق اور وقت کی ابتدا سے بھی پہلے وہ موجود تھا۔
      1. یوحنا ہمیں بتانا چاہتا ہے کہ کلام خود محض ابتدا نہیں ہے بلکہ وہ ابتدا کی بھی ابتدا ہے۔ ابتدا میں جس وقت کچھ بھی نہیں تھا کلام موجود تھا۔
      2. کلام تھا: کیا کلام کی اپنی کوئی ابتدا تھی؟ یوحنا کہتا ہے کہ”نہیں: کیونکہ اگر ہم وقت میں پیچھے کی طرف سفر کرتے ہوئے ابتدا میں پہنچیں تو اُس سے بھی پہلے وہ موجود تھا۔ اور یوحنا پر خُدا کی طرف سے یہ بات منکشف ہوتی ہے کہ کلام کوئی اور نہیں بلکہ خودقائم الذات خُدا ہے۔” (ٹرینچ/Trench)
      3. “یہ وضاحت اِس لئے دی گئی ہے کہ ہم اُس جاری و ساری تاریخ کو کسی حد تک سمجھ سکیں جو لامحدود ہے، اور اُس ذات کی بھی شناخت کر لیں جو ساری تاریخ کا موضوع ہے۔” (ڈوڈز/Dods)
    2. ابتدا میں کلام تھا: جس لفظ کا ترجمہ کلام کیا گیا ہے وہ قدیم یونانی کا لفظ Logosہے۔ لوگوس دونوں یہودی اور یونانی طرز ِفکر کے لوگوں کے لئے بہت بامعنی، معتبر، زرخیز اور ثمر آور اصطلاح تھی۔
      1. یہودی ربی اکثر خدا کی ذات کی طرف اشارہ کرنے کے لئے اُس کے کلام کو استعمال کرتے تھے۔ وہ خُدا کی اپنی ذات کے بارے میں بات کرتے ہوئے لفظ”خُدا “کی جگہ پر”کلامِ خُدا” استعمال کر لیتے تھے۔ مثال کے طور پر اگر ہم پرانے عہد نامے کا قدیم یونانی ایڈیش دیکھیں تو وہاں پر خروج 19باب 17 آیت (اور موسیٰ لوگوں کو خیمہ گاہ سے باہر لایا کہ خُدا سے ملائے)کا ترجمہ کچھ یوں ہوا ہے “اور موسیٰ لوگوں کو خیمہ گاہ سے باہر لایا کہ خُدا کے کلام سے ملائے۔”قدیم یہودیوں کی سوچ کے مطابق خُدا کے کلام کی اصطلاح کو خُدا کی اپنی ذات سے منسوب کیا جا سکتا تھا۔
      2. یونانی فلسفیوں کے نزدیک لوگوسLogos وہ قوت تھی جو اِس دُنیا کو حالت انتشار سے نکال کر ترتیب کی طرف لانے اورشعوربخشنے کا سرچشمہ تھی۔ لوگوس ہی وہ قوت تھی جو اُس دُنیا کو مکمل طور پر باترتیب بناتی اور پھر اُس ترتیب کے قیام کو یقینی بھی بناتی تھی۔ وہ لوگوس Logos کو کائنات کا حتمی موجب سمجھتے تھے جو ہر ایک چیز کو کنٹرول کرتا تھا۔ (ڈوڈز، مورث، بارکلے، بروس اور دیگر)
      3. اِس لئے اپنی انجیل کے آغاز میں ہی یوحنا یہودیوں اور یونانی کو واضح طور پر یہ کہتا ہے کہ : “صدیوں سے تم لوگوسLogos کے بارے میں باتیں کرتے، سوچتے اور لکھتے رہے ہو۔ اور ابھی یہاں پرمَیں تمہیں یہ بتاتا ہوں کہ وہ کلام (لوگوسLogos ) ہے کون۔” یوحنا یہاں پر یہودیوں اور یونانیوں دونوں ہی سے مخاطب ہے اور وہ یسوع کی ذات کو اُسی اصطلاح میں بیان کرتا ہے جس کے بارے میں وہ پہلے سے کافی کچھ جانتے اور سمجھتے تھے۔
      4. “یوحنا نے یہاں پر وہ اصطلاح استعمال کی ہے جو اُس دور میں مختلف لوگوں کے نزدیک مختلف اہم معنی رکھنے کی وجہ سے کافی اہمیت کی حامل تھی۔ پس جب وہ اِس اصطلاح کو استعمال کرتا ہے تو وہ اِس خیال یا بات پر کافی حد تک انحصار کر سکتا تھا کہ اُسے سننے والا ہر ایک شخص اُس کے اِس بیان سے ضروری اور با معنی مطلب نکال سکتا ہے۔” (موریس/Morris)
      5. “پس یوحنا یہاں پر اُس لفظ کو استعمال کرتا ہے جو اُس دور میں ایک مقبول عام اصطلاح کے طور پر عام تھا اور اہل ِ فکر کے لئے یہ اصطلاح خُدا کے اِس دُنیا کے ساتھ تعلق کو جاننے میں مدد گار تھی۔ یوحنا اِس اصطلاح کو لیتا اور استعمال کرتا ہے تاکہ وہ ہمیں اُس ذات کے بارے میں سمجھا سکے جو ناقابل ِ ادراک اور غیر مرئی خُدا کی ذات کا ظہور ہے۔”(ڈوڈز/Dods)
    3. اور کلام خُدا کے ساتھ تھا اور کلام خُدا تھا: یوحنا 1باب 1 آیت میں اِس زبردست بیان کے ساتھ یوحنا ہمارے ایمان کے اساسی ترین عقیدے یعنی تثلیث کی وضاحت پیش کرتا ہے۔ یوحنا کے پیش کردہ منطق کو اِس طرح سے سمجھا جا سکتا ہے۔
      • ایک ایسی ذات موجود ہے جسے کلام کے طور پر جانا جاتا ہے۔
      • یہ ذات خُدا ہے کیونکہ یہ ابدی ہے (ابتدا میں کلام تھا)۔
      • یہ ذات خُدا ہے کیونکہ اُسے عام اور واضح طور پر خُدا کہا جاتا ہے (اور کلام خُدا تھا)۔
      • اِس کے ساتھ ساتھ یہ ذات تنہا خُدا نہیں بلکہ خُدا کی ذات کا اقنوم ہے، خُدا باپ اور خُدا بیٹا اپنی علیحدہ علیحدہ ذات رکھتے ہیں۔ (اور کلام خُدا کے ساتھ تھا)۔
        1. پس خُدا باپ اور خُدا بیٹا (جسے یہاں پر کلام کے طور پر بیان کیا گیا ہے )دونوں ہی خُدا ہیں دونوں کی ذات و شخصیات کی علیحدہ علیحدہ پہچان ہے۔ خُدا باپ خُدا بیٹا نہیں ہے اور خُدا بیٹا خُدا باپ نہیں ہے۔ لیکن دونوں ہی خُدا ہیں اور ثالوث خُدا کی ذات کا تیسرا اقنوم رُوح القدس ہے۔
        2. اور کلام خُدا کے ساتھ تھا: یہ حرفِ اضافت یہاں پر خُدا باپ اور خُدا بیٹے کے درمیان باہمی ربط کو بیان کرتے ہوئے اُن کی شخصیات کو علیحدہ علیحدہ طور پر پیش کرتا ہے۔ جیسے کہ کریسوسٹم Chrysostomبیان کرتا ہے : “خُدا میں نہیں بلکہ خُدا کے ساتھ، جیسے ایک ذات دوسری ذات کے ساتھ ہوتی ہے ابدی طور پر ۔” (ڈوڈز/Dods)
        3. اور کلام خُدا تھا: “فقرے اور اِس بات کی اصل بناوٹ یہی تھی نہ کہ ‘خُدا کلام تھا’۔یونانی زبان دانی کے اعتبار سے [مسیحی عقیدے کے درست اور واضح بیان کے لئے]فقرے کی یہی ترتیب ضروری تھی۔” (ایلفرڈ/Alford)
        4. لوتھر کہتا ہے یہ بیان کہ “کلام خُدا تھا ” بدعتی رہنما ایرئیس کے خلاف ہے، اور یہ بیان کہ “کلام خُدا ہے”بدعتی رہنما سبیلئسSabellius کے خلاف ہے۔” (ڈوڈز/Dods)
        5. اور کلام خُدا تھا: “ہر وہ بات جو خُدا باپ کے بارے میں کہی جا سکتی ہے خُدا بیٹے کے بارے میں بھی کہی جا سکتی ہے۔ یسوع کی ذات میں خُدا باپ کی تمام حکمت، جلال، قدرت، محبت، پاکیزگی، عدل و انصاف، بھلائی اور سچائی پائی جاتی ہے۔ اُس کی ذات کے وسیلے خُدا باپ کو جانا جاتا ہے۔” (بوئیس/Boice)
    4. ابتدا میں کلام تھااور کلام خُدا کے ساتھ تھا اور کلام خُدا تھا: واچ ٹاور (مینارِنگہبانی یعنی یہواہ کے گواہوں کی) بائبل جسے نیو ورلڈ ٹرانسلیشن کہا جاتا ہے اِس سطر کو بالکل مختلف طریقے سے بیان کرتی ہے۔ اِس فقرے کا ترجمہ یہواہ کے گواہوں کے ترجمے کے مطابق کچھ یوں پڑھا جاتا ہے: “شروع میں کلام تھا۔ کلام خُدا کے ساتھ تھا اور کلام ایک خُدا تھا۔”اُن کا ترجمہ مسیح کی الوہیت کا انکار کرتا ہے اور یہ اصل یونانی متن کا درست ترجمہ نہیں بلکہ یہ گمراہ کن ہے۔
      1. مینار ِنگہبانی یعنی یہواہ کے گواہ اپنے اس دعوے کو سچا ثابت کرنے اور اُس کی پشت پناہی کرنے کے لئے یہ دلیل پیش کرتے ہیں کہ چونکہ اِن دونوں پہلی آیات میں جب لفظ خُدا استعمال ہوا ہے تو اُس کے ساتھ انگریزی کا آرٹیکلThe نہیں لکھا ہوا ۔ اُن کی یونانی سے انگریزی ترجمے کے حوالے سے اِس دلیل کے جواب میں ہم اُنہیں نئے عہد نامے میں بے شمار جگہوں پر لفظ خُدا انگریزی آرٹیکل The کے بغیر لکھا ہوا دِکھا سکتے ہیں جس کا ترجمہ یہواہ کے گواہوں نے خُدا کے ہی طور پر کیا ہے لیکن یہاں پر وہ مسیح کی الوہیت پر سوال اُٹھانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ اگر تو یہواہ کے گواہ اپنے اِس عمل میں ایماندار ہیں تو پھر اُنہیں ہر اُس جگہ پر جہاں لفظ خُدا کے ساتھ انگریزی آرٹیکل The نہیں لکھا ہوا اُسے دیوتا یا چھوٹے خُدا کے طور پر پیش کرنا چاہیے۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ وہ اِس اصول کو اپنے اُس عقیدے کی پشت پناہی کے لئے ہی استعمال کرنا چاہتے ہیں جس کے مطابق یسوع مسیح کی الوہیت قابل اعتراض ہے۔ یہواہ کے گواہوں کی بد دیانتی کو جاننے کے لئے متی 5باب 9 آیت، 6باب 24 آیت؛ لوقا 1باب 35 اور 1باب 75 آیت ؛ یوحنا 1باب 6 آیت، 1 باب 12 آیت، 1 باب 13 اور 1 باب 18 آیت ؛ رومیوں 1باب 7 اور 1باب 17 آیت دیکھیں۔ اِن مقامات پر اُنہوں کے لفظ خُدا کا ترجمہ خُدا کے طور پر ہی کیا ہے جبکہ یہاں پر بھی یہ انگریزی آرٹیکل The کے بغیر لکھا ہوا ہے، لیکن یوحنا کے پہلے باب کی پہلی اور دوسری آیت میں اُنہوں نے ترجمے میں تبدیلی اِس لئے کی ہے کیونکہ یہ اُن کے یسوع کی ذات کے بارے میں عقیدے سے متصادم ہے۔
      2. اپنے اِس بے بنیاد دعوے کی پشت پناہی کے لئے مینار ِ نگہبانی نے اپنی کتاب The Kingdom Interlinear میں یونانی زبان کے دو بہت ہی مقبول عالمین کی رائے کے خیالات کو اِس طرح سے پیش کرنے کی کوشش کی ہے گویا وہ بھی اُن کے اِس ترجمے کی حمایت کرتے ہیں اور اُن کے مطابق بھی یونانی سے انگریزی میں اِن آیات کا ترجمہ یونہی ہونا چاہیے۔ لیکن سچائی یہ ہے کہ اُن دونوں ہی عالمین کے خیال اور بات کو توڑ مروڑ کر پیش کیا گیا ہے اور اُن میں سے ایک یعنی ڈاکٹر مانٹی(Dr.Mantey )نے تو مینارِ نگہبانی سوسائٹی کو خط بھی لکھا تھا کہ اُس کا نام وہ اپنی اِس کتاب میں سے نکالیں کیونکہ وہ اُن کی اِس تفسیر اور ترجمے سے ہرگز اتفاق نہیں کرتے۔ دوسرا عالم جس کی مثال اور خیال کو اُنہیں نے اپنی کتاب The Word – Who is He (کلام – وہ کون ہے) میں شامل کیا ہے اُس کا نام جوہانس گریبر (Johannes Greber)ہے۔ جوہانس یونانی زبان کا بائبلی عالم نہیں تھا بلکہ وہ ایک توہم پرستی بدعتی شخص تھا جو ارواح پرستی جیسے عوامل میں شامل پایا گیا تھا۔
      3. اصل یونانی عالمین کسی طور پر بھی یہواہ کے گواہوں کے یوحنا 1باب 1- 2 آیات کے ترجمے اور تفسیر کی حمایت نہیں کرتے۔
        • “یہ کُلی طور پر گمراہ کُن ترجمہ ہے۔ یوحنا کی انجیل 1باب 1 آیت کا یہ ترجمہ کہ کلام بھی ایک خُدا تھا نہ تو عالمانہ ہے اور نہ ہی مناسب۔ آج تک اِس دُنیا میں جتنے بھی عالم ہو گزرے ہیں جنہیں ہم جانتے ہیں اُن میں سے کسی نے بھی اِس آیت کا ترجمہ کبھی اِس طرح سے نہیں کیا جیسے یہواہ کے گواہوں نے اِس کا ترجمہ کیا ہے۔ ” (ڈاکٹر جولیس آر۔ مانٹی/Dr.Julius R. Mantey)
        • “اس آیت میں لفظ خُدا کے ساتھ انگریزی آرٹیکل The نہ ہونے کی وجہ سے آریت کے شائق گرائمر دانوں نے اِس کا عجیب ہی ترجمہ کر ڈالا ہے۔ حالانکہ کہ بہت سارے دیگر مقامات پر لفظ خُدا کے ساتھ انگریز ی آرٹیکل The نہیں لکھا ہوا۔ اگر اِس آیت کا ترجمہ اِس طرح سے کیا جائے کہ کلام بھی ایک خُدا تھا تو وہ جو ‘ایک اور خُدا’ کا عقیدہ یا نظریہ پیش کیا جا رہا ہے وہ کسی طور پر بھی قابل دفاع نہیں ہے۔” (ڈاکٹر ایف۔ ایف۔ بروس/Dr. F.F. Bruce)
        • “مَیں آپ کو اِس بات کا یقین دلا سکتا ہوں کہ یوحنا 1باب 1 آیت کو جس طرح سے یہواہ کے گواہ پیش کرتے ہیں اور جو مطلب وہ اِس کا نکالتے ہیں ، وہ مطلب یونانی زبان کا کوئی بھی قابل اعتبار عالم نہیں نکالے گا۔” (ڈاکٹر چارلس ایل۔ فین برگ/Dr. Charles L. Feinberg)
        • “یوحنا 1باب 1 آیت کی غلط تشریح اور تفسیر کر کے [غلط ترجمہ کر کے] یہواہ کے گواہوں کے نام نہاد عالموں نے اِس بات کا ثبوت پیش کر دیا ہے کہ وہ یونانی گرائمر کے بنیادی اصولوں تک سے نا آشنا ہیں۔” (ڈاکٹر پال ایل۔ کاؤف مین/Dr. Paul L. Kaufman)
        • “اِس گروہ کی طرف سے کلام کو توڑ مروڑ کر پیش کرنے کی مثال اُنکے نئے عہد نامے کے مختلف حصوں کے جان بوجھ کر غلط تراجم میں دیکھی جا سکتی ہے۔اُنہوں نے یوحنا 1باب 1 آیت کا ترجمہ یوں کیا ہے ۔۔۔’کلام بھی ایک خُدا تھا۔’ اِس فقرے کا یونانی سے اِس طرح ترجمہ کرنا گرائمر کی رُو سے نا ممکن ہے۔ پس اِس سے یہ بات بالکل واضح ہوتی ہے کہ ایک گروہ جو نئے عہد نامے کے کسی حصے کا ترجمہ اِس طرح لا پرواہی سے کرتا ہے وہ عقلی لحاظ سے بد دیانتی کا شکار ہے۔” (ڈاکٹر ولیم بارکلے/Dr. William Barclay)
    5. یہی ابتدا میں خُدا کے ساتھ تھا: یہاں پر ایک بار پھر اِس بات کی وضاحت ہوتی ہے کہ باپ بیٹا نہیں اور بیٹا باپ نہیں دونوں اقنوم کی شخصیات میں فرق ہے۔ وہ دونوں برابر ہیں، لیکن ثالوث خُدا کے علیحدہ علیحدہ اقنوم ہیں۔
  2. (3- 5آیات) کلام کی فطری نوعیت اور اُس کے کام

    سب چیزیں اُس کے وسیلہ سے پیدا ہوئیں اور جو کچھ پیدا ہوا اُس میں سے کوئی چیز بھی اُس کے بغیر پیدا نہیں ہوئی۔ اُس میں زندگی تھی اور وہ زندگی آدمیوں کا نور تھی۔ اور نور تاریکی میں چمکتا ہے اور تاریکی نے اُسے قبول نہ کیا۔

    1. سب چیزیں اُس کے وسیلہ سے پیدا ہوئیں اور جو کچھ پیدا ہوا اُس میں سے کوئی چیز بھی اُس کے بغیر پیدا نہیں ہوئی: کلام ہی کے وسیلے سب چیزیں تخلیق یا پیدا ہوئیں۔ اِس لئے وہ بذات ِخود ایک مخلوق نہیں بلکہ خالق ہے، جیسے کہ پولس رسول نے کلسیوں 1باب 16 آیت میں بیان کیا ہے۔
      1. “پیدایش 1باب 1 آیت میں بیان کیا گیا ہے کہ خُدا نے ابتدا میں ہر ایک چیز کو پیدا (تخلیق) کیا: اِس آیت میں ہم پڑھتے ہیں کہ سب چیزیں یسوع کے وسیلے سے پیدا (تخلیق) ہوئیں۔ ایک ہی رُوح نے موسیٰ اور یسوع کے شاگردوں کو کلام ِمُقدس کو قلم بند کرنے کی تحریک دی اور رُوح القدس کبھی غلطی نہیں کر سکتا۔ یہی وجہ ہے کہ خُدا باپ اور بیٹا یعنی یسوع ایک ہیں ۔” (کلارک/Clarke)
    2. اُس میں زندگی تھی: کلام ہی زندگی کا سرچشمہ ہے۔ نہ صرف فطری حیات کا بلکہ زندگی کے ہر ایک اصول کا سرچشمہ بھی وہی ہے۔ یہاں پر زندگی کے لئے جو قدیم یونانی لفظ استعمال ہوا ہے وہ “زوئی Zoe ” ہے جس کے معنی ہیں زندگی کی بنیاد نہ کہ حیاتی کرَہ جس کا تعلق صرف فطری حیات سے ہے۔
      1. “وہ قدرت جو زندگی کو تخلیق کرتی اور ہر ایک چیز کے وجود کو قائم رکھتی ہے وہ لوگوس میں موجود تھی۔” (ڈوڈز/Dods)
    3. وہ زندگی آدمیوں کا نور تھی: یہ زندگی ہی آدمیوں کا نور ہے، اور یہاں پر رُوحانی نور اور فطری نور دونوں ہی کی بات کی جا رہی ہے۔یہاں پر اِس بات کا یہ ہرگز مطلب نہیں کہ کلام کے اندر زندگی اور نور موجود ہے بلکہ اِس کا مطلب یہ ہے کہ کلام خود زندگی اور نور ہے۔
      1. اِس لئے یسوع کے بغیر ہم مُردگی کی حالت میں تاریکی میں پڑے ہوئے ہیں۔ اُس کے بغیر ہم گمراہ اور کھوئے ہوئے ہیں۔ ہم سب کو نمایاں طور پر اِس بات کا اندازہ ہے کہ انسان فطری طور پر موت اور تاریکی سے خوفزدہ ہوتا ہے۔
    4. اور نور تاریکی میں چمکتا ہے اور تاریکی نے اُسے قبول نہ کیا: اس بات کو کہ “تاریکی نے اُسے قبول نہ کیا” ایک اور طریقے سے بیان کیا جائے تو وہ یہ ہوگا کہ “تاریکی نے اُسے نہ سمجھا، یا نہ جانا” یا پھر ایسے بھی کہ تاریکی اُس پر غالب نہ آئی۔ نور کبھی بھی تاریکی سے شکست نہیں کھا سکتا، تاریکی کبھی بھی نور پر غالب نہیں آسکتی۔
      1. قبول نہ کیا: ‘‘یہاں پر استعمال ہونے والے یونانی فعل کا ترجمہ کرنا اتنا آسان نہیں ہے۔ اِس میں یہ مطلب بھی عیاں ہوتا ہے کہ کسی چیز پر غلبہ پا کر اُسے اپنے ماتحت کرنا۔ اِس کا یہ مطلب بھی نکل سکتا ہے کہ ذہنی استطاعت سے کسی چیزکو سمجھنے کی کوشش کرنا۔ بہرحال یہاں پر ہم جس فعل کے بارے میں بات کر رہے ہیں اُس کا ایک بہت ہی نایاب لیکن کافی حد تک مصدقہ مطلب “غالب آنا” بھی ہے۔ اور یہی وہ مطلب یا معنی ہے جسے ہمیں یہاں پر استعمال کرنے کی ضرورت ہے۔” (مورث/Morris)
      2. “ابتدائی تخلیق کے بیان میں ہم پڑھتے ہیں کہ جب تک خُدا نے یہ نہ کہا کہ روشنی ہو جا، زمین پر گہراؤ کے اوپر اندھیرا تھا۔ اُسی طرح جب یہاں پر رُوحانی تخلیق کی بات کی جارہی ہے تو وہ نور جو یسوع مسیح کے وسیلے اِس جہان میں چمکا اُس نے اِس جہان کی رُوحانی تاریکی کو دور کر دیا۔”(بروس/Bruce)
  3. (6- 8آیات) کلام کا پیش رُو (آمد کی خبر دینے والا)

    ایک آدمی یوحنا نام آموجود ہواجو خُدا کی طرف سے بھیجا گیا تھا۔ یہ گواہی کے لئے آیا کہ نور کی گواہی دےتاکہ سب اُس کے وسیلہ سے ایمان لائیں۔ وہ خود تو نور نہ تھا مگر نور کی گواہی دینے کو آیا تھا۔

    1. ایک آدمی یوحنا نام آموجود ہواجو خُدا کی طرف سے بھیجا گیا تھا: یوحنا اصطباغی نے نور کی گواہی دی تاکہ سب اُس گواہی کی بدولت ایمان لائیں۔ یوحنا اصطباغی کی خدمت واضح طور پر اِسی بات پر مرکوز تھی کہ وہ لوگوں کو یسوع پر ایمان لانے کے حوالے سے آگاہی اور رہنمائی پیش کرے۔
      1. “یوحنا کی گواہی یہاں پر محض تاریخی لحاظ سے ایک بیان یا ثبوت کے طور پر ہی نہیں لکھی گئی بلکہ یہ اِس لئے بھی بیان کی گئی ہے تاکہ اُن لوگوں کے سنگین اندھے پن کو بھی ظاہر کرے جنہوں نے یسوع کو رَد کر دیا تھا۔” (ڈوڈز/Dods)
    2. وہ خود تو نور نہ تھا مگر نور کی گواہی دینے کو آیا تھا: یوحنا اصطباغی کی خدمت کو لوگوں نے بڑے اچھے طریقے سے قبول کیا اور اُس کی خدمت کی بہت دور دور تک شہرت تھی۔ پس یہاں پر اِس انجیل کے مصنف یوحنا کے لئے اِس بات کی وضاحت کرنا اہم تھا کہ وہ یوحنا اصطباغی کے اپنے الفاظ اور خیالات کی روشنی میں ہی اِس چیز کی وضاحت کرے کہ یوحنا اصطباغی بذاتِ خود نور نہیں تھا بلکہ وہ لوگوں کی نور تک رہنمائی کرنے والا اور اُس کی گواہی دینے والا تھا۔
      1. وہ خود تو نور نہ تھا: ‘‘غالباً یوحنا انجیل نویس نے اِس بات کو اِس لئے بھی وضاحت کے ساتھ لکھا تاکہ یوحنا اصطباغی کے گروہ کے وہ لوگ یا اُس کے شاگردبھی مسیح کے بارے میں جان سکیں جنہوں نےیوحنا کی تعلیمات کے مطابق زندگیاں گزارنا جاری رکھا اور اُس کی پیروی کرتے رہے اور اُن کو مسیح کی ذات میں نجات کے سارے منصوبے کی تکمیل کا علم نہیں ہوا تھا۔(اعمال 18باب24-25؛ 19باب 1-7 آیات)۔” (ٹینی/Tenney)
      2. “ہم اُسے یوحنا اصطباغی یعنی بپتسمہ دینے والے کے طور پر جانتے ہیں۔ لیکن اِس انجیل کے اندر ہم اُس کے پبتسمہ دینے کے واقعات کے بارے میں تو انتہائی مختصر بیان پڑھتے ہیں لیکن اُس کی گواہی کا بیان ہم بار بار پڑھتے ہیں۔”(مورث/Morris)
      3. “گواہی دینے کا معاملہ ایک انتہائی سنجیدہ چیز ہے، اِس میں سچائی کو ثابت کرنا اور اُس پر یقین کرنے کے حالات پیدا کرنے ہوتے ہیں۔ لیکن ایک گواہی اِس سے بھی بڑھ کر بہت کچھ کرتی ہے۔ یہ گواہی دینے والے کو پابند کردیتی ہے اوروہ ایک طرح سے اپنے آپ کو اپنے الفاظ کے سپرد کر دیتا ہے۔اگر مَیں کسی کٹہرے میں کھڑا ہو کر یہ گواہی دوں کہ فلاں فلاں معاملہ سچا ہے تو پھر اُس معاملے کے بارے میں میری ذات غیر جانبدار نہیں رہتی۔ مَیں نے اپنے آپ کو اُس معاملے کی سچائی کا پابند بنا لیا ہے اورساتھ ہی اپنے گواہی کے الفاظ کے سپرد کر دیا ہے۔ یوحنا یہاں پر ہمیں یہ بھی بتاتا ہے کہ وہ اور اُس جیسے بہت سارے ایسے لوگ ہیں جنہوں نے اپنے آپ کو یسوع کی گواہی کے سپرد کر دیا ہے۔ ” (مورث/Morris )
  4. (9-11آیات) کلام کا رَد کیا جانا

    حقیقی نور جو ہر ایک آدمی کو روشن کرتا ہے دُنیا میں آنے کو تھا ۔ وہ دُنیا میں تھا اور دُنیا اُس کے وسیلہ سے پیدا ہوئی اور دُنیا نے اُسے نہ پہچانا۔ وہ اپنے گھر آیا اور اُس کے اپنوں نے اُسے قبول نہ کیا۔

    1. حقیقی نور جو ہر ایک آدمی کو روشن کرتا ہے دُنیا میں آنے کو تھا: یہاں پر یوحنا کا ہرگز یہ مطلب نہیں ہے کہ کلام دُنیا کے تمام انسانوں کو حقیقی نور (نجات بغیر ایمان) دیتا ہے۔ اُس کا مطلب یہ ہے کہ اِس دُنیا میں پیدا ہونے والے لوگوں میں محبت ، بھلائی اور ایک دوسرے کی فکر اُس حقیقی نور کی وجہ سے ہےاور وہ حقیقی نور یسوع دُنیا کو عطا کر تا ہے۔
    2. اور دُنیا نے اُسے نہ پہچانا: یہ بہت عجیب بات ہے۔ خُدا اپنی ہی تخلیق کردہ دُنیا میں اُس مخلوق کے پاس آیا جسے اُس نے اپنی شبیہ پر پیدا کیا تھا، لیکن دُنیا نے اُسے نہ پہچانا۔ اِس سے ہمیں معلوم ہوتا ہے کہ گناہ میں گِرنے کے سبب سے بگڑنے والی انسان کی فطرت کیسے خُدا کو رَد کرتی ہے اور یوں بہت سارے انسان خُدا کے کلام اور اُسکے نور کورَد کرتے ہیں (قبول نہیں کرتے)۔
      1. وہ اپنے گھر آیا: “یہاں پر لکھے گئے الفاظ بالکل وہی تاثر دیتے ہیں جو ہم خُداوند کے پیارے شاگرد یوحنا کے اُس عمل میں دیکھتے ہیں جو اُس نے یسوع کے صلیب پر سے دیئے گئے حکم کی تعمیل میں کیایعنی وہ مریم کو اپنے گھر لے گیا۔ (یوحنا 19باب 27 آیت بالموازنہ 16 باب32 آیت)۔ جب کلام اِس دُنیا میں آیا وہ کسی اجنبی (کسی غیر مخلوق) کی طرح نہیں آیا بلکہ وہ اپنے ہی گھر آیا تھا۔” (مورس/Morris)
      2. “اُس کے اپنوں کے حوالے سے کہا گیا ہے کہ اُنہوں نے اُسے نہ پہچانا۔ اور جب یسوع تاکستان کے بدکارٹھیکیداروں کی تمثیل بیان کرتا ہے تو اُس تمثیل میں اُنہوں نےتاکستان کے وارث کو انجانے میں قتل نہیں کیا تھا بلکہ اِس لئے قتل کیا تھا کیونکہ وہ جان گئے تھے کہ یہی وارث ہے۔” (ڈوڈز/Dods)
      3. “اِس چھوٹی اور معمولی دُنیا نے مسیح کو نہ پہچانا، کیونکہ خُدا کی ذات ایک بڑھئی کے بیٹے کے روپ میں چھپی ہوئی تھی ، اُس کا جلال اُس کی اپنی ذات کے اندر پنہاں تھا اور اُس کی بادشاہی سرِعام دیکھی نہ جا سکتی تھی۔” (ٹراپ/Trapp)
  5. (12- 13آیات) کلام کو قبول کرنا

    لیکن جتنوں نے اُسے قبول کیا اُس نے اُنہیں خُدا کے فرزند بننے کا حق بخشا ، یعنی اُنہیں جو اُس کے نام پر ایمان لاتے ہیں۔ وہ نہ خون سے نہ جسم کی خواہش سے نہ انسان کے ارادہ سے بلکہ خُدا سے پیدا ہوئے۔

    1. لیکن جتنوں نے اُسے قبول کیا اُس نے اُنہیں خُدا کے فرزند بننے کا حق بخشا ، یعنی اُنہیں جو اُس کے نام پر ایمان لاتے ہیں: اگرچہ کچھ نے اِس مکاشفے کو رَد کیا لیکن پھر بھی کچھ ایسے تھے جنہوں نے اُسے قبول کِیا اور اِس کے وسیلے خُدا کے فرزند ٹھہرے۔ وہ نئی پیدایش کے ذریعے سے خُدا کے فرزند بنے۔۔۔یعنی خُدا سے پیدا ہونے کے وسیلے سے۔
      1. “اِس کہانی کا اختتام رَد کئے جانے کا المناک واقعہ نہیں بلکہ قبولیت کا فضل ہے۔” (مورث/Morris)
      2. لیکن جتنوں نے اُسے قبول کیا: یسوع کو قبول کرنے کا نظریہ بائبلی طور پر بالکل درست ہے۔ ہمیں یسوع سے بغلگیر ہونے کی اور اُسے اپنی زندگیوں میں قبول کرنے کی ضرورت ہے۔ جتنوں نے اُسے قبول کیا کا مطلب ہے کہ جتنے اُس پر ایمان لائے۔ “یہاں پر ایمان کو یسوع کے قبول کرنے کے طور پر بیان کیا گیا ہے۔” یہ بالکل ایسے ہی ہے جیسے ایک خالی برتن کو ایک رواں چشمے کے سامنے رکھ دیا جائے، جیسے کسی کنگال کا ہاتھ آسمانی خیرات کے حصول کے لئے بڑھایا جائے۔” (سپرجن/Spurgeon)
      3. خُدا کے فرزند بننے کا حق: بچّوں کے لئے استعمال ہونے والا لفظ (عبرانی ٹیکنہ/Tekna) اسکاٹش زبان کے لفظ’ بیرن /Bairns’کے مترادف ہے جس کے معنی ہیں جنم لینے والے بچّے۔یہ بات نسب کی اہمیت پر زور دیتی ہے اور فرزند بننے کی اصطلاح یہاں پر محبت کے اظہار کے لئے پیش کی گئی ہے۔ (دیکھئے لوقا 15باب31 آیت)۔ ایمان دار خُدا کے نزدیک ایسے ہی ہیں جیسے کسی باپ کے چھوٹے چھوٹے بچّے ہوتے ہیں جو اپنی پیدایش کی وجہ سے باپ کے ساتھ منسلک ہوتے ہیں۔” (ٹینی/Tenney)
    2. وہ نہ خون سے نہ جسم کی خواہش سے نہ انسان کے ارادہ سے بلکہ خُدا سے پیدا ہوئے: یہاں پر یوحنا ہمیں پیدایش کی نوعیت کے بارے میں بتاتا ہے۔ وہ جنہوں نے اُسے قبول کیا وہ انسان کی کسی کوشش یا کاوش سے نہیں بلکہ خُدا سے پیدا ہوئے ہیں۔
      1. “خون یہاں پر واحد نہیں بلکہ جمع کے صیغے میں استعمال ہوا ہے۔ خون کا جمع کے صیغے میں استعمال ہونا غالباً پُرتجسس ہے۔۔۔جمع کے صیغے میں استعمال ہونے والا لفظ خون دونوں والدین کی طرف اشارہ کر سکتا ہے، یا پھر خون کے بہت سارے قطروں کی طرف بھی۔” (مورث/Morris)
      2. یہ نئی پیدایش بہت ہی خاص چیز ہے جو ہماری زندگی میں تبدیلی لے کر آتی ہے۔ “نئے سرے سے پیدا ہونے والا شخص ایک ایسی گھڑی کی مانند ہے جس کا صرف بیرونی شیشہ اور سوئیاں ہی نہیں بدلی گئیں بلکہ اُس کے اندر کا سارا میکانکی نظام بدلا گیا ہے۔ اُس کی ساری مشینری بدلی گئی ہے اور وہ نئے سرے سے نئے انداز سے کام کرنے کے لائق ہے۔ وہ ابھی مختلف اوقات میں نئے انداز سے کام کرتا ہے۔ پہلے وہ خراب گھڑی کی مانند تھا جو دُرست طریقے سے کام نہیں کرتی تھی۔ ابھی وہ دُرست طریقے سے کام کرتا ہے کیونکہ وہ اندرونی طور پر ٹھیک ہو چکا ہے۔” (سپرجن/Spurgeon)
  6. (14آیت) کلام مجسم ہوا۔

    اور کلام مجسم ہوا اور فضل اور سچائی سے معمور ہو کر ہمارے درمیان رہا۔ اور ہم نے اُس کا ایسا جلال دیکھا جیسا باپ کے اِکلوتے کا جلال۔

    1. اور کلام مجسم ہوا اور۔۔۔ ہمارے درمیان رہا: یہ یوحنا کا اب تک کا سب سے زیادہ حیران کر دینے والا بیان ہے۔ اُس کے اِس بیان نے کہ کلام مجسم ہوا ضرور اُس کے دور کے یہودی اور یونانی مفکرین کو حیرت میں ڈال دیا ہوگا۔
      1. “اِس بڑی سچائی کا بالکل عام خلاصہ یہ ہے کہ وہ انسان بنا۔ وہ وہی کچھ بنا جو ایک آدمی اپنے جسم میں ہے۔۔۔اِس اظہار کو اِس سادگی سے بیان کرنا بلا شک یوحنا رسول کے دور کے اُن لوگوں کے عقیدے کی تردید کرنا تھا جو مسیح کی عدم بشریت کے قائل تھے اور یہ مانتے تھے کہ اُس کی ذات انسانی نہیں بلکہ نوری اور رُوحانی ہی تھی۔” (ایلفرڈ/Alford)
      2. “یونانیوں کے نزدیک دیوتا یا خُدا کا تصور بہت بلند نہیں تھا۔ اُن کے لئے یوحنا نے لکھا کہ کلام مجسم ہوا۔ قدیم دور کے یونانی لوگوں کے لئے زیوس اور ہرمیس جیسے دیوتا محض سپر مین جیسے لوگ تھے اور وہ بلند ترین ہستی لوگوس کے کسی طور پر بھی برابر نہیں تھے۔ پس یہاں پر یوحنا یونانی مفکرین کو بتانا چاہتا ہے کہ وہ لوگوس جس کے بارے میں تمہارا خیال ہے کہ اُس نے ساری کائنات کو تخلیق کیا وہ دراصل مجسم ہو کر انسان بن گیا۔”
      3. یہودیوں کا خُدا کے بارے میں تصور بہت ہی بلند تھا۔ اُن کے لئے بھی یوحنا نے یہ لکھا کہ کلام مجسم ہوا اور ہمارے درمیان رہا۔ قدیم دور کے یہودیوں کے لئے اِس تصور کو قبول کرنا تقریباً نا ممکن تھا کہ پُرانے عہد نامے میں ظاہر ہونے والا خُدا کبھی انسانی صورت بھی اپنا سکتا ہے۔ پس یہاں پر یوحنا نے یہودی مفکرین کو یہ بتایا کہ” خُدا کا کلام مجسم ہوا۔”
      4. خُدا کی ذات خُداوند یسوع مسیح کی صورت میں آپ کے نزدیک آگئی ہے۔ ابھی آپ کو اُسکی تلاش کے لیے جستجو کرنے کی قطعی کوئی ضرورت نہیں۔ وہ خود بخود آپ کے پاس آگیا ہے۔ کچھ لوگ سوچتے ہیں کہ اُنہیں خُدا کو ڈھونڈنے کے لئے جگہ جگہ گھومنے کی ضرورت ہے۔ عام طور پر وہ کسی ایک مقام پر خُدا کو تلاش کرنے کے لئے کچھ عرصہ گزارتے ہیں اور اُن کے مطابق جب وہاں پر اُنہیں خُدا کی نزدیکی حاصل ہوتی ہے تو پھر وہ کسی اور مقام کی طرف نکل پڑتے ہیں۔
      5. “مسیح انسان کے طور پر پیدا ہو کروجودیت کی نئی حدود میں داخل ہوااور اُس نے ایسا کرتے ہوئے انسانوں کے درمیان قیام کیا۔”(ٹینی/Tenney)
      6. “اگسٹن نے بعد میں کہا کہ مسیحیت کو قبول کرنے سے پہلے کے دِنوں میں اُس نے غیر اقوام کے بہت سارے عظیم فلسفیوں کو پڑھا تھا، اور اِس کے علاوہ بھی اُس نے بہت ساری دیگر چیزوں کا مطالعہ کیا تھا۔ لیکن اُس نے کبھی بھی کہیں پر یہ نہیں پڑھا تھا کہ کلام مجسم ہوا۔” (بارکلے/Barclay)
    2. اور ہمارے درمیان رہا: اِس بات کے لغوی معنی ہیں کہ وہ ہمارے درمیان ایسے رہا جیسے کوئی آکر خیمہ زن ہوتا ہے۔ یہاں پر یوحنا مسیح کے اِس دُنیا میں آنے اور ہمارے درمیان رہنے کو اُس یہودی پس منظر کے ساتھ جوڑ رہا ہے جس کے مطابق زندہ خُدا خیمہ اجتماع میں اسرائیل قوم کے درمیان رہتا تھا۔ اِس کو اِس طرح بھی بیان کیا جا سکتا ہے کہ اُس نے ہمارے درمیان ڈیرہ لگایا۔
      1. “اور ہمارے درمیان رہا: جو انسانی فطرت اُس نے مریم کے وسیلے پیدا ہو کر اپنائی وہ مقدس مقام، ایک مکان یا ایک ہیکل کی طرح تھی جس میں اُس کی بے عیب الٰہی ذات فروتنی اختیار کر کے آبسی۔یہاں پر کلام غالباً یہودی ہیکل میں خُدا کی سکونت کی علامت ہے۔” (کلارک/Clarke)
      2. “فقرے میں استعمال ہونے والا فعل خیمہ زن ہونے، ڈیرہ ڈالنے کی طرف اشارہ کرتا ہے۔”(مورث/Morris) “یہ بیان لکھتے ہوئے غالباً یوحنا کے ذہن میں بیابان میں خیمہ اجتماع کا تصور تھا جہاں پر خُدا اپنے لوگوں کے درمیان خیمہ زن ہوا۔”( ڈوڈز/Dods)
      3. خیمہ اجتماع اسرائیلی قوم کے لئے بہت ذیادہ اہمیت کا حامل تھا اور یسوع بھی اپنے لوگوں کے درمیان ویسے ہی ہے:
        • خیمہ اجتماع کسی بھی پڑاؤ کے وقت اسرائیل کے تمام خیموں کا مرکز تھا۔
        • خیمہ اجتماع وہ مقام تھا جہاں پر موسیٰ کے ذریعے ملنے والی شریعت رکھی ہوئی تھی۔
        • خیمہ اجتماع خُدا کی اسرائیل کے درمیان سکونت کی جگہ تھا۔
        • خیمہ اجتماع خُدا کے مکاشفے کا مقام تھا۔
        • خیمہ اجتماع وہ مقام تھا جہاں پر قربانیاں لائی جاتی تھیں۔
        • خیمہ اجتماع اسرائیل قوم کی پرستش کا مرکز تھا۔
      4. “اب جبکہ کلام کے مجسم ہونے کی صورت میں کلام ہمارے درمیان آکر بس گیا ہے تو پھر آئیں ہم اُس کے چوگرد اپنے خیمے لگائیں۔ ہمارے درمیان خُدا کی یہ سکونت ہمیں اِس طرح رہنے کی اجازت نہیں دیتی جیسے کہ خُدا ہم سے کہیں بہت دُور ہو۔” (سپرجن/spurgeon)
      5. “عبرانی لفظ شکائنا کے معنی ہیں ‘وہ جو بستا، ڈیرہ ڈالتا یا سکونت کرتا ہے’۔ اور یہاں پر یہ لفظ ہمارے درمیان خُدا کی نظر آنے والی حضوری کو بیان کرنے کے لئے استعمال ہوا ہے۔” ( بارکلے/Barclay)
    3. ہم نے اُس کا ایسا جلال دیکھا: یوحنا رُسول یہاں پر اپنی اِس بات کی تصدیق بطور چشم دید گواہ کر رہا ہے بالکل ویسے جیسے یوحنا اصطباغی کرتا ہے۔ یوحنا یہاں پر شخصی طور پر بھی یہ کہنے میں حق بجانب ہے کہ “مَیں نے اُس کاایساجلال دیکھا جیسا باپ کے اِکلوتے کا جلال۔”
      1. یہاں پر انگریزی زبان میں دیکھنے کے لئے beheld کی اصطلاح استعمال ہوئی ہے جومحض دیکھنے یا کسی چیز پر نظر کرنے سے کہیں زیادہ گہرے معنی رکھتی ہے۔ یوحنا یہاں پر ہمیں یہ بتاتا ہے کہ اُس نے اور دیگر شاگردوں نے مجسم ہونے والے کلام کے جلال کا محتاط اور گہرا مطالعہ کیا تھا۔
      2. “یوحنا کی انجیل میں(اور پورے نئے عہد نامے کے اندر بھی) انگریزی فعل beheldہمیشہ ہی غیر متغیر طور پر انسانی آنکھوں سے دیکھنے کے لئےاستعمال ہوا ہے۔ یہ رویائیں دیکھنے کے لئے استعمال نہیں ہوا۔ یوحنا یہاں پر اُس جلال کی بات کر رہا ہے جو اُنہوں نے حقیقی طور پر اپنی آنکھوں سے ناصرت کے یسوع میں دیکھا تھا۔” (مورث/Morris)
    4. فضل اور سچائی سے معمور ہو کر: یسوع کا جلال بنیادی طور پر لوگوں کی جوش و خروش سے بھری بھیڑ جمع کرنے یا اُن کو محظوظ کرنے والی کوئی چیز نہیں تھا۔اُس کا جلال فضل اور سچائی سے بھرپور تھا۔
      1. “عزیزو، اِس بات پر غور کریں کہ یہ دونوں خصوصیات ہمارے خُداوند میں مکمل طور پر تھیں یعنی اُس میں اُن کی بھرپوری تھی۔ وہ فضل سے معمور تھا، اِس سے بڑھ کر فضل سے معمور کون ہو سکتا ہے؟ خُداوند یسوع مسیح کی ذات میں خُدا کے بے انتہا و بے قیاس فضل کی بھرپوری ہے۔” (سپرجن/Spurgeon)
      2. “اِن دونوں خیالات پر ہی ہمارے ذہن مرتکز رہنے چاہییں اور اِن خیالات سے ہی ہماری زندگی کو ہدایت ملنی چاہیے۔ خُدا فضل اور سچائی ہے۔ وہ اِن دونوں میں سے صرف ایک نہیں۔اور نہ ہی اِن دونوں میں سے کسی ایک کی بجائے دوسر ا ہے۔ اُس کی حکمرانی میں سادہ سچائی کا جو حتمی معیار ہے اُسے کم نہیں کیا جا سکتا اور نہ ہی اُس کے مقصد اور فضل کے لئے اُس کے جذبے سے منہ موڑا جا سکتا ہے۔” (مورگن/Morgan)
  7. (15- 18آیات) خُدا کی طرف سےنئے سلسلے/ نئی ترتیب کی گواہی

    یوحنا نے اُس کی بابت گواہی دی اور پکار کر کہا ہے کہ یہ وہی ہے جس کامَیں نے ذکر کیا کہ جو میرے بعد آتا ہے ۔ وہ مجھ سے مُقدّم ٹھہرا کیونکہ وہ مجھ سے پہلے تھا۔ کیونکہ اُسکی معموری میں سے ہم سب نے پایا یعنی فضل پر فضل۔ اِس لئے کہ شریعت تو موسیٰ کی معرفت دی گئی مگر فضل اور سچائی یسوع مسیح کی معرفت پہنچی۔ خُدا کو کسی نے کبھی نہیں دیکھا ۔ اِکلوتا بیٹا جو باپ کی گود میں ہے اُسی نے ظاہر کیا۔

    1. جو میرے بعد آتا ہے ۔ وہ مجھ سے مُقدّم ٹھہرا کیونکہ وہ مجھ سے پہلے تھا: یوحنا اصطباغی کی مسیح کے بارے میں گواہی کی بنیاد مسیح کی ذات کے ابدی پہلو کا فہم تھا۔ وہ جانتا تھا کہ یسوع ہر لحاظ سے اُس سے پہلے تھا۔
      1. “قدیم دور میں تاریخی لحاظ سے جو بڑے ہوتے تھے اُنہیں بلند مرتبہ خیال کیا جاتا تھا۔ لوگ عام طور پر اپنی پشت کے حوالے سے حلیمی کا مظاہرہ کرتے ہوئے یہ سوچتے تھے کہ اُن کے آباؤ اجداد اُن سے قدرے زیادہ سمجھدار تھے۔ ہمارے دور کے لوگوں کو شاید یہ بات بہت زیادہ نا قابلِ اعتبار لگتی ہو۔” (مورث/Morris)
    2. اُسکی معموری میں سے ہم سب نے پایا یعنی فضل پر فضل : اس نئے سلسلے یا نئی ترتیب میں فضل کی نا ختم ہونے والی فراوانی پائی جاتی ہے۔ (فضل پر فضل ویسے ہی ہے جیسے عام طور پر ہم دُکھ پر دُکھ جیسے الفاظ استعمال کرتے ہیں جس کے معنی ہوتے ہیں کہ ابھی پہلے والا دُکھ ختم نہیں ہوا تھااور اگلا مل گیا۔ فضل پر فضل سے مُراد ہے کہ فضل کی فراوانی کا لا متناہی سلسلہ)اور اِس کے ساتھ ساتھ سچائی کے حصول کا بھی۔ اِس نئی ترتیب یا نئے سلسلے کاموازنہ موسیٰ کے دور سے کیا جا رہا ہے جس میں موسیٰ کے ذریعے سے بہت سارے سخت اور غیر لچکدار قوانین اور اصول و ضوابط دئیے گئے تھے۔
      1. فضل پر فضل: “لغوی طور پر اِس کے معنی ہیں کہ فضل بعوض فضل۔ یہاں پر یہ بات واضح طور پر دیکھی جا سکتی ہے کہ یوحنا فضل پر زیادہ زور دینا چاہتا ہے۔ غالباً وہ (زبان دانی کے لحاظ سے)شاید کچھ یوں کہنا چاہتا ہے کہ اگر کسی کی زندگی میں الٰہی فضل کی کچھ کمی ہوتی ہے تو پھر اُس کی جگہ پر اُس شخص کو مزید فضل مل جاتا ہے۔ خُدا کا فضل اُس کے اپنے لوگوں کے لئے ہمیشہ ہی رواں ہے اور کبھی بھی ختم نہیں ہوتا۔ خُدا کے فضل میں نہ تو کوئی خلل آتا ہے نہ ہی اُسکی کوئی انتہا ہے۔” (مورث/Morris)
    3. اِس لئے کہ شریعت تو موسیٰ کی معرفت دی گئی مگر فضل اور سچائی یسوع مسیح کی معرفت پہنچی: یہاں پر یہ بات اُس فضل کو بیان اور ظاہر کرتی ہے جس کا یوحنا اصطباغی نے اعلان کیا تھا اور جو خُداوند یسوع مسیح کے وسیلے سے ملتی ہے۔ کلامِ خُدا یعنی یسوع مسیح نے ایک نیا سلسلہ اور ایک نئی ترتیب کا آغاز کیا جواُس پہلے سلسلے سے مختلف تھی جس کا قیام موسیٰ نے کیا تھا۔
      1. فضل اور سچائی یسوع مسیح کی معرفت پہنچی: “یہاں پر بھی جیسا کہ پولس کے خطوط میں بیان کیا گیا ہے یسوع کے وسیلے اِس بات کی وضاحت ہوتی ہے کہ خُدا کے مکاشفے کا مرکز اور زندگی کی راہ کا وسیلہ موسیٰ کے وسیلے دی گئی شریعت نہیں بلکہ خود مسیح کی ذات ہے۔” (بروس/Bruce)
    4. خُدا کو کسی نے کبھی نہیں دیکھا: یسوع مسیح ، کلامِ حق اَن دیکھے خُدا کی ذات کا کامل اظہار ہے۔ خُدا باپ اور خُدا بیٹے کا جوہر ایک ہے اور یسوع نے اَندیکھے خُدا کی ذات کے اوصاف کو عام انسانوں پر ظاہر کیا ہے۔ لہذا ہمیں خُدا کی ذات اور اُس کی فطرت کے حوالے سے پریشانی یا تذبذب کا شکار نہیں ہونا چاہیے کیونکہ یہ دونوں چیزیں یسوع نے اپنی زندگی اور اپنی تعلیمات کے وسیلے ہم پر ظاہر کر دی ہیں۔
      1. “خُدا کے لئے جو اسم (theon)استعمال ہوا ہے یونانی متن میں اُس کے ساتھ آرٹیکل کا استعمال نہیں ہواجو اِس چیز کی طرف اشارہ ہے کہ مصنف اصل میں خُدا کی ذات نہیں بلکہ اُسکی ہستی کو پیش کرنا چاہتا ہے۔ اِس کا بہتر اور درست ترجمہ اُس کی الوہیت ہوگا۔ مطلب یہ کہ کبھی کسی انسان نے خُدا کی الوہیت کے جوہر کو نہیں دیکھا۔” (ٹینی/Tenney)
      2. “خُدا کو دیکھنے کا یہاں پر مطلب اُسے جسمانی طور پر دیکھنا نہیں(اگر ایسا بھی کہا جائے تو اِس میں کوئی مسئلہ نہیں، دیکھئے خروج 33باب20 آیت؛ 1 تیمتھیس 6باب16 آیت)بلکہ اِس کا مطلب ہے خُدا کی ذات کا وجدانی اور حقیقی علم جو اُس شخص کوجس کے پاس یہ علم ہوتا ہے اِس قابل بناتا ہے کہ وہ خُدا کی فطرت اور اُس کی مرضی کو بیان کر سکے۔”(ایلفرڈ/Alford)
      3. جو باپ کی گود میں ہے : “یہ بیان کریسوسٹم(Chrysostom) کے مشاہدے کے مطابق قرابت، ناتے داری اور جوہر میں ایک ہونے کی طرف اشارہ کرتا ہے۔ اور یہ بیان والدین اور بچّوں کے درمیان گہرے دلی اتحاد اور پر شفقت محبت سے مشتق ہے۔” (ایلفرڈ/Alford)

ج: یوحنا کی گواہی

  1. (19- 22 آیات) یروشلیم سے مذہبی رہنماؤں کے یوحنا سے سوالات

    اور یوحنا کی گواہی یہ ہے کہ جب یہودیوں نے یروشلیم سے کاہن اور لاوی یہ پوچھنے کو اُس کے پاس بھیجے کہ تُو کون ہے؟ تو اُس نے اقرار کیا اور انکار نہ کیابلکہ اقرار کیا کہ مَیں تو مسیح نہیں ہوں۔ اُنہوں نے اُس سے پوچھا پھر کون ہے؟ کیا تُو ایلیاہ ہے؟ اُس نے کہا مَیں نہیں ہوں۔ کیا تُو وہ نبی ہے؟ اُس نے جواب دیا نہیں۔ پس اُنہوں نے اُس سے کہا پھر تُو ہے کون؟ تاکہ ہم اپنے بھیجنے والوں کو جواب دیں۔ تُو اپنے حق میں کیا کہتا ہے؟

    1. اور یوحنا کی گواہی یہ ہے: ہم پہلے ہی اِس بات کے بارے میں پڑھ چکے ہیں کہ یوحنا اصطباغی یسوع کی گواہی کے لئے آیا تھا (یوحنا 1باب7 آیت اور 1باب 15 آیت)۔ اب ہم یہاں پر دیکھتے ہیں کہ یسوع کے بارے میں اُس کی گواہی کیا تھی۔
      1. یہودی: “یہاں پر ہم اِس انجیل کے اندر پہلی دفعہ یہودیوں کا ذکر پڑھتے ہیں۔ یہاں پر یہودیوں سے مُراد پوری یہودی قوم نہیں بلکہ ایک خاص طبقہ ہے۔ یہ اصل میں یروشلیم کے اندر موجود مذہبی قیادت سے منسلک لوگ ہیں۔ ” (بروس/Bruce)
      2. “اُس پیدایشی اندھے شخص کے والدین بھی یہودی قوم سے تھے جسے یسوع نے شفا دی تھی، لیکن انجیلی بیان میں لکھا ہوا ہے کہ وہ یہودیوں سے ڈر گئے تھے (یوحنا 9باب22 آیت)۔” (مورث/Morris)
    2. مَیں مسیح نہیں ہوں: یہاں پر یوحنا نے زور دے کر یہودی قیادت کو بتایا کہ وہ کون نہیں ہے۔ وہ لوگوں کی توجہ اپنی ذات پر مبذول کروانے کے لئے نہیں آیا تھا کیونکہ وہ مسیحا نہیں تھا۔ اُس کا کام لوگوں کی توجہ مسیحا کی طرف مبذول کروانا تھا۔
      1. “یوحنا نے اِس بیان یا دعوے کو مکمل طور پر رَد کیا، لیکن رَد کرنے کے ساتھ ساتھ اُس نے مسیح کی ذات کی طرف اشارہ بھی کیا ہے۔ یونانی متن میں لفظ مَیں پر زور دیا گیا ہے۔ یہ قریباً ایسے ہی ہے جیسے یوحنا کہہ رہا ہو کہ مَیں نہیں ہوں مسیحا، لیکن اگر تم ذرا سا غور کرو تو مسیحا یہیں پر ہے۔” (بارکلے/Barclay)
      2. تو اُس نے اقرار کیا اور انکار نہ کیا “بڑے خلوص اور سرگرم انداز سے بہت زیادہ سنجیدگی کے ساتھ اُس نے اِس اعزاز کو دونوں ہاتھوں سے ایک طرف کر دیا، کیونکہ وہ جانتا تھا کہ غیور خُدا کی ذات کے حوالے سے غلط بیانی کے کیا خطرات ہو سکتے ہیں۔” (ٹراپ/Trapp)
      3. “اِس انجیل کے مصنف یوحنا رسول کے لئے اِس بات کی وضاحت کرنا بہت ضروری تھا کہ یوحنا اصطباغی نے اُس سے زیادہ کچھ ہونے کا دعویٰ ہرگز نہیں کیا تھا جو وہ اصل میں تھا۔250 بعد ازمسیح میں Clementine Recognitions نامی دستاویز ہمیں بتاتی ہے کہ یوحنا اصطباغی کے کچھ شاگرد ایسے تھے جنہوں نے اپنی تعلیمات میں یہ بات سکھانے کی کوشش کی کہ اُن کا اُستاد ہی مسیحا تھا۔” (بارکلے/Barclay)
    3. کیا تُو ایلیاہ ہے؟ یروشلیم کے کاہنوں اور لاویوں کے لئے یوحنا اصطباغی کی شخصیت کی وجہ سے اُسکے کردار کو ایلیاہ نبی کے ساتھ جوڑنا قدرے آسان تھا کیونکہ وہ اُس وعدے کے بارے میں جانتے تھے کہ خُداوند کے دن سے پیشتر ایلیاہ نبی کو بھیجا جائے گا۔ (ملاکی 4باب5-6 آیات)
      1. یوحنا اِس حوالے سے بھی بہت زیادہ محتاط تھا کہ وہ اُن کو بتائے کہ وہ ایلیاہ نہیں ہے۔ لیکن یسوع اِس بات کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ یوحنا اصطباغی ایلیاہ نبی کے منصب پر اُسی کی رُوح اور قوت میں آیاتھا۔( متی 11باب13-14 آیات اور مرقس 9باب 11-13)
    4. کیا تُو وہ نبی ہے؟ اِستثنا 18باب15- 19 آیات میں خُدا نے یہ وعدہ کیا تھا کہ ایک مخصوص وقت پر ایک اور نبی آئے گا۔ اِسی وعدے کی بناء پر وہ ایک اور نبی کے آنے کے منتظر تھے اور سوچ رہے تھے کہ کہیں یوحنا ہی وہ نبی تو نہیں ہے۔
  2. (23- 28آیات) یوحنا مذہبی رہنماؤں پر اپنی شناخت ظاہر کرتا ہے۔

    اُس نے کہا مَیں جیسا یسعیاہ نبی نے کہا ہے بیابان میں ایک پکارنے والے کی آواز ہوں کہ تم خُداوند کی راہ کو سیدھا کرو۔ یہ فریسیوں کی طرف سے بھیجے گئے تھے۔ اُنہوں نے اُس سے یہ سوال کیا کہ اگر تُو نہ مسیح ہے نہ ایلیاہ نہ وہ نبی تو پھر بپتسمہ کیوں دیتا ہے؟ یوحنا نے جواب میں اُن سے کہا مَیں پانی سے بپتسمہ دیتا ہوں تمہارے درمیان ایک شخص کھڑا ہے جسے تم نہیں جانتے۔ یعنی میرے بعد کا آنے والا جس کی جوتی کا تسمہ مَیں کھولنے کے لائق نہیں۔یہ باتیں یردن کے پار بیت عنیاہ میں واقع ہوئیں جہاں یوحنا بپتسمہ دیتا تھا۔

    1. مَیں ۔۔۔ بیابان میں ایک پکارنے والے کی آواز ہوں: یسعیاہ 40باب3 آیت کا حوالہ دیتے ہوئے یوحنا نے اپنے کام کے بارے میں اُنہیں بتایا۔ وہ خُداوند کی راہ تیار کرنے کے لئے آیا تھا۔ اُس کی طرف سے دیا گیا بپتسمہ لوگوں کو تیار کرتا تھا، وہ اُنہیں آنے والے بادشاہ کے لئے صاف کرتا تھا۔ یہاں پر اصل تصور یہ ہے کہ “اپنے آپ کو پاک صاف کرو، اور شاہی استقبال کے لئے تیار ہو جاؤ۔”
      1. “یوحنا کا اصل کام لوگوں کو اخلاقیات کی تعلیم دینا نہیں تھا بلکہ اُس کا اصل کام لوگوں کی مسیح تک آنے میں رہنمائی کرنا تھا۔’خُداوند کی راہ کو سیدھا کرو ‘دراصل تیار ہونے کے لئے ایک اعلان تھا کیونکہ مسیحا کا آنا قریب تھا۔”(مورث/Morris)
      2. یہودی مذہبی قیادت یہ جاننا چاہتی تھی کہ یوحنا اصل میں تھا کون، لیکن وہ حقیقت میں اِس سوال کا جواب دینے میں بالکل کوئی دلچسپی نہیں رکھتا تھا۔ وہ اپنے مقصد کے بارے میں بات کرنے میں دلچسپی رکھتا تھا اور اُس کا مقصد آنے والے مسیحا کی راہ کو سیدھا کرنا تھا۔
    2. اگر تُو نہ مسیح ہے نہ ایلیاہ نہ وہ نبی تو پھر بپتسمہ کیوں دیتا ہے؟ اگر یوحنا اصطباغی اُن ہستیوں میں سے ایک نہیں تھا جن کے بارے میں پیشن گوئیاں کی گئی تھیں تو یہ بات فریسیوں کو اُسکی خدمت اور اختیار کےبارے میں حیرت میں ڈال رہی تھی۔لیکن پھر بھی یوحنا اصطباغی کا بپتسمہ دینے کا عمل جیسا کہ اُس نے کہا ہے اُسکی بلاہٹ کے عین مطابق تھا۔
      1. “یوحنا کی طرف سے دیا جانے والا بپتسمہ اِس لحاظ سے امتیازی خصوصیت کا حامل تھا کہ اُس کا انتظام وہ خود کرتا تھا۔ یہ نو مرید یہودیوں کے بپتسمے جیسا نہیں تھا جس کا انتظام بپتسمہ لینے والا کرتا تھا۔” (بروس/Bruce)
    3. مَیں پانی سے بپتسمہ دیتا ہوں: یوحنا کا بپتسمہ عاجزی کے ساتھ توبہ کرنے، اپنے آپ کو پاک کرنے اور آنے والے مسیحا کے لئے تیاری کرنے کا اظہار تھا۔ لیکن یہ بپتسمہ کسی انسان کو مسلسل پاک رہنے کے لئے کوئی مدد فراہم نہیں کرتا تھا۔ یسوع کی صلیب پر دی گئی قُربانی اور رُوح القدس کا بپتسمہ یوحنا کے بپتسمے سے بہت زیادہ بڑھ کر ہے۔
      1. یوحنا کے دَور میں یہودی لوگ بپتسمے کو عمل میں لایا کرتے تھے۔ اِس نے اُن کی رسوماتی طہارت (نہانے ) سے ہی جنم لیا تھا، لیکن اُن کا یہ بپتسمہ صرف غیر قوم کے اُن لوگوں کے لئے تھا جو یہودیت کو قبول کرکے یہودی بننا چاہتے تھے۔وہ یہودی جو اپنے آپ کو یوحنا کے بپتسمے کے لئے پیش کرتے تھے وہ ایک طرح سے اپنے آپ کو اُن غیر قوم کے لوگوں کے برابر بناتے تھے جنہوں نے توبہ کر کے یہودیت کو قبول کیا تھا۔یہ اُن لوگوں کی طرف سے توبہ کی واقعی حقیقی علامت تھا۔
      2. “یہ بات خلافِ قیاس نہیں ہے کہ یوحنا بھی اُس طرز پر بپتسمہ دیتا تھا جیسے نومرید بپتسمہ لیتے تھے، جس کے لئے ہر طرح کی برائی سے دستبرداری، مکمل طور پر پانی کے اندر ڈبکی (غوطہ) لگانے، اور شریعت کی پاسداری کرنے والوں کی طرح لباس پہننے اور اُنہی کی ماننداپنا حلیہ بنانے کا تقاضا کیا جاتا تھا۔” (ٹینی/Tenney)
      3. “یوحنا کے معاملے میں نئی چیز اور اُس کے اِس عمل کے پیچھے یہودیوں کے نزدیک چبنے والی بات یہ تھی کہ وہ یہودیوں کو ایک ایسی رسم میں شریک کر رہا تھا جو اصل میں غیر قوم کے اُن لوگوں کے لئے تھی جو اپنی زندگی کو بدل کر یہودی ایمان میں آتے تھے۔ ۔۔۔پس یوحنا کا یہودیوں کو غیر اقوام کے زمرے میں شامل کرنا اُن کے لئے تشویش ناک تھا۔” (مورث/Morris)
    4. تمہارے درمیان ایک شخص کھڑا ہے جسے تم نہیں جانتے۔ یعنی میرے بعد کا آنے والا: یوحنا نے یہودی مذہبی قیادت کے سامنے اِس بات کی وضاحت کی کہ وہ جو کچھ کر رہا ہے اُس کا مرکز وہ خود نہیں بلکہ ایک اور شخص ہے جو اُن کے درمیان ہی ہے۔یوحنا کا سارا کام اُس آنے والے شخص کی راہ کو تیار کرنا تھا۔
    5. جس کی جوتی کا تسمہ مَیں کھولنے کے لائق نہیں: پاؤں دھونے سے پہلے جوتی کے تسمے کھولنا کسی بھی گھر میں کمتر ترین غلام کا کام ہوا کرتا تھا۔
      1. ربیوں اور اُن کے شاگردوں کے درمیان اُستاد شاگرد کا ایک خاص رشتہ ہوتا تھا اور اُس میں شاگردوں کے ساتھ نا روا سلوک یا اُن کا ناجائز فائدہ اُٹھانے جیسی چیزوں کاقوی امکان رہتا تھا۔ یہ بات بالکل ممکن تھی کہ کوئی ربی اپنے کسی شاگرد سے بلا وجہ کوئی خدمت یا فائدہ لے سکتا تھا ۔ ایک چیز جو کسی بھی ربی کے حوالے سے بہت ہی زیادہ ہتک آمیز تصور کی جا سکتی تھی وہ اُس کا اپنے کسی شاگرد کو اپنے جوتے کے تسمے کھولنے کا حکم دینا تھا۔ یوحنا یہاں پر کہتا ہے کہ وہ تو مسیح کے جوتے کاتسمہ کھولنے کے بھی لائق نہیں ہے۔
      2. “ایک دفعہ ایک ربی نے یہ بتایا تھا کہ ہر وہ خدمت جو ایک غلام اپنے مالک کی کرتا ہے وہ ایک یہودی شاگرد اپنے اُستا د کے لئے کرسکتا ہے سوائے اُس کے جوتے کے تسمے کھولنے کے۔” (بروس/Bruce)
      3. یہ باتیں یردن کے پار بیت عنیاہ میں واقع ہوئیں جہاں یوحنا بپتسمہ دیتا تھا: “یہ ساری باتیں بیت عنیاہ میں ہوئیں (جو پتن کشتی [مسافروں کو دریا پار کروانے والی کشتی] کا گھر بھی کہلاتا ہے)۔ یہ یردن کے مشرقی کنارے پر اُس مقام پر واقع تھا جو اوریجن کے دور میں بیت بارا (ندی، کم گہرے پانی کی جگہ) کہلاتا تھا ۔روایت کے مطابق یہ وہی جگہ ہے جہاں سے یشوع کےدَور میں عہد کا صندوق لے کر گزرا گیا تھا ۔(یشوع 3باب14-17 آیات)” (ٹرینچ/Trench)
  3. (29آیت) یوحنا اصبطاغی کی گواہی کہ یسوع خُدا کا برّہ ہے۔

    دوسرے دن اُس نے یسوع کو اپنی طرف آتے دیکھ کر کہا دیکھو یہ خُدا کا برّہ ہے جو دُنیا کا گناہ اُٹھا لے جاتا ہے۔

    1. دوسرے دن اُس نے یسوع کو اپنی طرف آتے دیکھ کر کہا: زیادہ تر لوگوں کے خیال میں یہ یسوع کے بپتسمہ لینے اور اُس کے بعد چالیس دن تک بیابان میں آزمائے جانے کے بعد کی بات ہے۔ اپنی آزمائش کے بعد یسوع یوحنا سے ملنے اُسی مقام پر آیا جہاں پر وہ بپتسمہ دیتا تھا۔
      1. “یسوع کے یوحنا سے بپتسمہ لینے کے بعد غالباً کچھ ہفتے گزر چکے تھے اور تب سے یسوع یوحنا سے دُور چلا گیا تھا، لیکن اب وہ واپس آیا تھا اور یوحنا یہاں پر اپنے پاس موجود ہجوم کی توجہ یسوع کی طرف مبذول کروانے کی کوشش کرتا ہے۔” (بروس/Bruce)
      2. “29 آیت کا واقعہ یسوع کے بپتسمے اور حتیٰ کہ اُس کی بیابان میں چالیس دن کی آزمائش کے بھی بعد کا ہے۔ اور اِس خیال کو ماننے میں قطعی طور پر بھی کوئی مشکل چیز نہیں ہے۔” (ایلفرڈ/Alford)
    2. دیکھو یہ خُدا کا برّہ ہےجو دُنیا کا گناہ اُٹھا لے جاتا ہے: اپنی خدمت کے آغاز میں ہی یسوع کا استقبال اُن الفاظ کے ساتھ کیا گیا جو اُس کی خدمت کی حتمی منزل کا اعلان کرتے ہیں ۔ یعنی انسان کے گناہوں کے کفارے کے لئے اُس کی صلیبی موت۔ صلیب کا سایہ یسوع کی ساری زمینی خدمت پر نظر آتا ہے۔
      1. یوحنا نے یسوع کو کسی عظیم اخلاقی مثال یا پاکیزگی اور محبت کے عظیم اُستاد کے طور پر نہیں پیش کیا تھا۔ اُس نے یسوع کے گناہ کے کفارے کے لئے قربان ہونے کا اعلان کیا تھا۔ ہم یہاں پر یہ نہیں پڑھتے کہ دیکھو کیسی عظیم مثال ہے یا کیسا عظیم اُستاد ہے ۔ وہ کہتا ہے کہ دیکھو خُدا کا برّہ جو دُنیا کا گناہ اُٹھا لے جاتا ہے۔
      2. “اُس نے لفظ برّہ قُربانی کی عمومی علامت کے طور پر استعمال کیا۔ جانوروں کی تمام قربانیاں جس حقیقت کی علامت تھیں اُسے یہاں یوحنا نےبیان ہے۔” (ڈوڈز/Dods)
    3. دیکھو یہ خُدا کا برّہ ہے جو دُنیا کا گناہ اُٹھا لے جاتا ہے! اِس ایک فقر ے میں یوحنا یسوع کے اُس سارے کام کا خلاصہ کرتا ہے جو اُس نے گناہ کے مسئلے کے حل کے لئے کرنا تھا جس کی وجہ سے ساری انسانیت متاثر تھی۔ اِس فقرے کا ہر ایک لفظ بہت زیادہ اہم ہے۔
      1. دیکھو! یوحنا نے یہ اُس وقت کہا جب اُس نے یسوع کو اپنی طرف آتے ہوئے دیکھا۔ ایک منادی کرنے والے کے طور پر یوحنا نے پہلے خود یسوع کو دیکھا اور پھر اُس نے اپنے تمام سننے والوں کو یسوع کو دیکھنے کو کہا۔
      2. خُدا کا برّہ: یہاں پر یوحنا اصطباغی نے پُرانے عہد نامے میں بیان کئے جانے والے قربانی کے برّے کے تصور کو یسوع کی ذات کے بیان کے لئے استعمال کیا۔ جتنی دفعہ بھی اُس تصور کو پیش کیا گیا ہے یسوع کی ذات مکمل طور پر اُس کے تقاضوں کو پورا کرتی ہے۔
        • وہ بنایِ عالم سے پیشرذبح کیا جانے والا برّہ ہے۔
        • وہ باغِ عدن میں پہلے گناہگاروں کی برہنگی ڈھانپنے کے لئے ذبح ہونے والا برّہ ہے۔
        • یسوع وہ برّہ ہے جو خُدا نےخود ابرہام کواُس وقت مہیا کیا جب وہ اضحاق کو قربان کرنے کے لئے پہاڑ پرگیا تھا۔
        • وہ بنی اسرائیل قوم کا فسح کا برّہ ہے۔
        • وہ احبار کی کتاب میں بیان کردہ جرم اور خطا کی قربانیوں کے لئے قربان ہونے والا برّہ ہے۔
        • یسوع یسعیاہ کی کتاب میں بیان کردہ وہ برّہ ہے جو خاموشی سے اپنے ذبح کرنے والے اور بال کترنے والے کے ساتھ چلا جاتا ہے۔
        • اِن سب حوالہ جات میں بیان کردہ برّوں نے اپنی موت کے ذریعے سے کوئی نہ کوئی اہم کام سر انجام دیا؛ اور یہاں پر یسوع کو برّہ کہہ کر پکارنا یوحنا کی طرف سے ایک اعلا ن تھا کہ وہ دُنیا کے انسانوں کے گناہوں کے کفارے کے لئے قربان ہوگا۔
      3. جو ۔۔۔ اُٹھا لے جاتا ہے: اصل زبان کے متن میں اِن الفاظ کے معنی ہیں برداشت کرنااور دُور کرنا۔ یسوع ہمارے گناہوں کی سزا کو اپنے اوپر برداشت کرتا ہے اور اُنہیں ہم سے دُور کرتا ہے۔” اُٹھا لے جانے کے لئے جو فعل استعمال ہوا ہے وہ ایک طرح سے اُن کا رخ موڑ دینے کے بھی معنی دیتا ہے۔” (مورث/Morris)
        • “یوحنا یہاں پر ‘گناہوں’ کا لفظ استعمال نہیں کرتا جیسا کہ Litany (مختلف ادوار میں کلیسیائی عبادات و اجتماعات میں استعمال ہونے والی دُعاؤں کی کتاب [لطانیہ]) میں غلط ترجمے کی وجہ سے لکھا ہوتا ہے۔بلکہ وہ کہتا ہے کہ ‘دُنیا کا گناہ’یہ ایسے ہی ہے جیسے تمام انسانوں کی ساری خطاؤں اور گناہوں کو ایک ہیبت ناک کالے گٹھے میں باندھ کر اُس ذات کے نہ لرزنے والے کندھوں پر رکھ دیا جائے جو یونانی دیومالائی دیوتا اٹلس سے بہت عظیم ہے اور وہ اِس کے بوجھ کو برداشت کر سکتا ہے اور اِس سے مکمل طور پر نپٹ سکتا ہے۔” (میکلیرن/Maclaren)
      4. گناہ : یہاں پر گناہ کا لفظ جمع کے صیغے یعنی گناہوں کے طور پر نہیں بلکہ واحد کے صیغے میں استعمال ہوا ہے۔ یہاں پر اِس کا مطلب یہ ہے کہ ساری انسانیت کے سب گناہ اور قصور کو ایک ہی جگہ پر جمع کر کے برّے یسوع پر لاد دیا گیا ہے۔ “جو کچھ یہاں پر یوحنا اصطباغی نے بیان کیا ہے اُسکے مطلب کو یوحنا رسول اپنے ماضی پر نظر دوڑا کر مسیح کی صلیبی موت کی صورت میں سمجھ پایا ہوگا۔” (ٹرینچ/Trench)
      5. دُنیا کا : خُدا کے برّے کی اِس قربانی کی وسعت، اِس کے اثر اور اِسکی صلاحیت کا اندازہ اِس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ یہ اِس دُنیا کے ہر ایک انسان کی ہر ایک خطا کو دھو ڈالنے کے لئے کافی ہے۔ اُسکی قربانی ساری دُنیا کے گناہوں کےلئے ضروری کفارے سے بھی بہت زیادہ ہے۔ “وہ برّہ نہ صرف اپنے لوگوں کے تمام گناہوں بلکہ آدم کی اولاد کے اندر موجود گناہ کے جرثوموں ، اِس دُنیا کے گناہوں ، عدن میں کی گئی نافرمانی، حتیٰ کہ یوحنا اصطباغی کے تصورات کے طول و عرض کے تمام گناہوں کا کفارہ دینے جا رہا تھا۔” (ٹرینچ/Trench)
  4. (30- 34آیات) یوحنا اصطباغی کی گواہی کہ یسوع خُدا کا بیٹا ہے۔

    یہ وہی ہے جس کی بابت مَیں نے کہا تھا کہ ایک شخص میرے بعد آتا ہےجو مجھ سے مُقدّم ٹھہراکیونکہ وہ مجھ سے پہلے تھا۔ اور مَیں تو اُسے پہچانتا نہ تھا مگر اِس لئے پانی سے بپتسمہ دیتا ہوا آیا کہ وہ اسرائیل پر ظاہر ہو جائے۔ اور یوحنا نے یہ گواہی دی کہ مَیں نے رُوح کو کبوتر کی طرح آسمان سے اُترتے دیکھا ہے اور وہ اُس پر ٹھہر گیا۔ اور مَیں تو اُسے پہچانتا نہ تھا مگر جس نے مجھے پانی سے بپتسمہ دینے کو بھیجا اُسی نے مجھ سے کہا کہ جس پر تُو رُوح کو اُترتے اور ٹھہرتے دیکھے، وہی رُوح القدس سے بپتسمہ دینے والا ہے۔ چنانچہ مَیں نے دیکھا اور گواہی دی ہے کہ یہ خُدا کا بیٹا ہے۔

    1. کیونکہ وہ مجھ سے پہلے تھا: یوحنا اصطباغی کی پیدایش یسوع سے پہلے ہوئی تھی اور یوحنا اِس بات سے بخوبی واقف تھا (لوقا 1 باب)۔ جب وہ یہ کہتا ہے کہ وہ مجھ سے پہلے تھا، تو وہ یسوع کی ذات کے ابدی پہلو کو بیان کر رہا ہے۔ یوحنا جانتا تھا کہ یسوع مسیح ابدی ہے اور وہ خُدا ہے۔
      1. ایک شخص میرے بعد آتا ہے: “یہاں پر یونانی اصطلاح anerکو متعارف کروایا گیا ہے، اِس کے معنی ہیں مرد اور یہ لفظ بیان کردہ شخص کی مردانگی پر زور دیتا ہے ۔یہاں اِس لفظ پر دیا گیا زور عام انسانی جنسی اور نسلی امتیاز کےبیان میں نظر نہیں آتا۔ یہاں پر یونانی اصطلاح aner کا استعمال یسوع کی اپنے پیروکاروں پر ویسی ہی فوقیت کو ظاہر کرتا ہے جیسی کلام کی روشنی میں مرد اور عورت کے تعلق میں پائی جاتی ہے۔” (ٹینی/Tenney)
    2. جس پر تُو رُوح کو اُترتے اور ٹھہرتے دیکھے، وہی رُوح القدس سے بپتسمہ دینے والا ہے: خُدا نے یوحنا اصطباغی کو ایک بہت ہی پکا اور خاص نشان دیا تھا جس کی مدد سے وہ مسیحا کو پہچان سکتا تھا۔ اُسے بتایا گیا تھا کہ جس پر آسمان پر سے رُوح القدس اُترے اور ٹھہر جائے وہی مسیحا ہوگا۔ لہذا یوحنا یسوع کے بارے میں ایک بہت ہی قابلِ اعتماد گواہ تھا کیونکہ اُس نے خُدا کی طرف سے مسیح کی ذات کی تصدیق کو خود دیکھا تھا اور پھر اُسکی گواہی دی تھی۔
      1. “یسوع کے بپتسمے کے وقت اُسے کوئی بھی ایسی چیز نہیں ملی تھی جو پہلے سے اُس کے پاس نہیں تھی۔ یوحنا اصطباغی نے در اصل اُن چیزوں کو اپنی آنکھوں سے دیکھا تھا جو غیر مرئی طور پر (یسوع کے رُوح القدس کی قدرت سے پیٹ میں پڑنے کے وقت) ہو چکی تھیں۔” ( ٹرینچ/Trench)
      2. “اگر پانی کے ذریعے صاف کئے جانےکے عمل کا تعلق یوحنا اصطباغی کی خدمت کے ساتھ تھاتو پھر رُوح القدس کا نزول اُس ذات کی خدمت کے لئے تھا جو یوحنا سے بلند مرتبہ تھا۔” (بروس/Bruce)
    3. چنانچہ مَیں نے دیکھا اور گواہی دی ہے کہ یہ خُدا کا بیٹا ہے: یہ یوحنا اصطباغی کی باقاعدہ اور سنجیدہ گواہی تھی کہ یسوع خُدا کا بیٹا ہے۔ وہ کس طرح سے خُدا کا بیٹا ہے یہ ہمیں یوحنا 1باب 18 آیت میں دکھایا گیا ہے ۔ یعنی وہی واحد ذات ہے جس نے خُدا کی ذات اور اوصاف کو مکمل طور پر ہم پر منکشف کیا ہے۔
      1. یوحنا کی انجیل یوحنا اصطباغی کے کردار پر ایک بپتسمہ دینے والے کے طور پر نہیں بلکہ مسیح کی گواہی دینے والے کے طور پر زور دیتی ہے۔ گواہ ہمیشہ اُن باتوں کی گواہی دیتے ہیں جو اُنہوں نے دیکھی ہوتی ہیں یا اُن کا تجربہ کیا ہوتا ہے تاکہ سچائی کو واضح طور پر قائم کیا جا سکے۔ حقیقی گواہوں کے علاوہ باقی لوگ قابل اعتبار نہیں کیونکہ وہ سُنی سنائی بات کرتے ہیں کیونکہ وہ اُس سچائی کے براہِ راست یا چشمِ دید گواہ نہیں ہوتے۔
      2. “جب یوحنا اصطباغی یسوع کو خُدا کا بیٹا کہتا ہے تو وہ کسی بھی ابہام کے بغیر مکمل ہوش و حواس میں یہ بات کہہ رہا ہے۔ یہاں پر اُس کا مطلب اِس مسیحی عقیدے سے کسی طور پر ذرا سا بھی کم نہیں کہ یسوع ابدی خُدا کا ابدی بیٹا ہے جو خُدا کے برابر اور اُسی کی طرح ابدی ہے۔” (ٹرینچ/Trench)
      3. گواہ حقیقت اور سچائی سے غیر جانبدار یا بے تعلق نہیں ہوتے، بلکہ وہ اپنی گواہی سے منسلک سچائی کیساتھ مخلص ہوتے ہیں، اگر وہ ایسا نہ کریں تو پھر وہ قابلِ اعتبار گواہ نہیں ہو سکتے۔ یوحنا ایک انتہائی قابلِ اعتبار گواہ تھا اور جانتا تھا کہ یسوع کون ہے کیونکہ اُس نے اُس کی ذات کے بارےمیں پائی جانے والی سچائی کو اپنی آنکھوں سے دیکھا تھا۔

د: پہلے شاگردوں کی گواہی

  1. (35- 39 آیات) یوحنا کے دو شاگرد یسوع کے پیچھے چلے گئے۔

    دوسرے دن پھر یوحنا اور اُس کے شاگردوں میں سے دو شخص کھڑے تھے۔ اُس نے یسوع پر جو جا رہا تھانگاہ کر کے کہا، دیکھو یہ خُدا کا برّہ ہے۔ وہ دونوں شاگرد اُس کو یہ کہتے سن کر یسوع کے پیچھے ہو لئے۔ یسوع نے پھر کر اُنہیں پیچھے آتے دیکھ کر اُن سے کہا تم کیا ڈھونڈتے ہو؟ اُنہوں نے اُس سے کہا اَے رَبی (یعنی اَے اُستاد) تُو کہاں رہتا ہے؟ اُس نے اُن سے کہا چلو! دیکھ لو گے۔ پس اُنہوں نے آکر اُس کے رہنے کی جگہ دیکھی اور اُس روز اُس کے ساتھ رہے اور یہ دسویں گھنٹے کے قریب تھا۔

    1. یوحنا اور اُس کے شاگردوں میں سے دو شخص کھڑے تھے: انجیل نویس ہمیں بتاتا ہے کہ اُن دو لوگوں میں سے ایک اندریاس تھا (یوحنا 1باب 40 آیت)۔ اِن میں سے دوسرے شخص کی شناخت کے بارے میں تو نہیں بتایا گیا، لیکن کئی ایک وجوہات کی بناء پر کچھ لوگوں کا ماننا ہے کہ یہ خود یوحنا رسول یعنی اِس انجیل کا مصنف ہے ۔ ہم دیکھتے ہیں کہ اِس انجیل میں کئی دفعہ اُس کی ذات کا ذکر آتا ہے لیکن کبھی اُس کا نام نہیں بتایا گیا۔
      1. “یہ دوسرا شاگرد کون تھا اِس بات کے بارے میں یقینی طور پر تو کچھ بھی کہا نہیں جا سکتا۔ لیکن اگر اِن باتوں پر غور کیا جائے کہ (1) اِس انجیل کے مصنف یوحنا نے انجیل میں کہیں پر اپنی پہچان اپنے نام کیساتھ نہیں کروائی، (2) انجیلی بیان اِس قدر تفصیلی ہے کہ دن کے اُس پہر تک کا ذکر کیا گیا ہے جس میں وہ واقعہ ہوا تھا، اور اِس سے معلوم ہوتا ہے کہ لکھنے والا اِس واقعے کا چشمِ دید گواہ تھا، مزید یہ کہ (3) جب اتنی زیادہ تفصیل دی جا رہی ہے تو اِس واقعے کے دوسرے شاگرد کا نام بتانا بھی غالباً قطعی طور پر مشکل نہیں تھا اگر اُسے جان بوجھ کر کسی خاص مقصد کے تحت صیغہ راز میں نہ رکھا جاتا، پس ہم یہ نتیجہ اخذ کرنے میں کسی حد تک حق بجانب ہوتے ہیں کہ یہ دوسرا شاگرد یوحنا رسول خود ہی ہے۔” (ایلفرڈ/Alford)
      2. یسوع پر۔۔۔نگاہ کر کے : “یہاں پر نگاہ کرنے سے مُراد غور سے دیکھنا ہے۔ اِس کے لئے یونانی اصطلاح embleqavکا استعمال ہوا ہے۔یہ جن الفاظ کا مرکب ہے اگر اُنہیں دیکھا جائے تو enسے مُراد into یعنی’میں’ ہے اور blepw سے مراد کسی چیز کو تسلسل اور توجہ کے ساتھ دیکھنا ہے۔” (کلارک/Clarke) “یہاں پر نگاہ کرنے سے مُراد خصوصیت کے ساتھ کسی فرد کو پڑتال کرنے یا تحقیقی انداز سے دیکھنا ہے۔” (مورث/Morris)
    2. دیکھو یہ خُدا کا برّہ ہے: یوحنا اصطباغی پہلے ہی اِس انجیل کے 1باب29 آیت میں یسوع کے بارے میں یہ کہہ چکا تھا۔ اور یہ غالباً وہ وقت تھا جب یسوع بیابان میں اپنی آزمائش کے بعد واپس آیا تھا – یوحنا جب بھی یسوع کو دیکھتا تھا وہ اُس کے بارے میں غالباً یہ بات کہتا تھا۔ یوحنا اصطباغی کے نزدیک یسوع کی ذات کے حوالے سے یہ بات سب سے زیادہ اہم تھی۔
    3. وہ دونوں شاگرد۔۔۔ یسوع کے پیچھے ہو لئے: یہاں پر متن تو یہ بیان نہیں کرتا لیکن یہ اخذ کرنا غلط نہ ہوگا کہ یہ دونوں شاگرد یوحنا اصطباغی کی اجازت اور اُس کی ہدایت کے مطابق ہی یسوع کے پیچھے ہو لئے ہونگے۔ یوحنا اصطباغی اپنے لئے شاگرد جمع کرنے کے فکر میں نہیں لگا ہوا تھا۔ وہ اِس حوالے سے بالکل مطمئن تھا کہ اُس کے شاگرد اُسے چھوڑ کر یسوع کی پیروی کرنا شروع کر دیں۔ اِس بات سے اُس کی خدمت پر منفی اثر نہیں پڑ رہا تھا بلکہ اُسکی خدمت کا اصل مقصد حل ہو رہا تھا۔
    4. تم کیا ڈھونڈتے ہو؟۔۔۔ چلو! دیکھ لو گے: یسوع نے اپنے پیچھے آنے والے اِن دو شاگردوں سے بہت ہی اہم اور منطقی سوال پوچھا – اور یہ وہ سوال ہے جو وہ آج تک ساری انسانیت سے پوچھتا چلا آرہا ہے۔ اِس سوال کے جواب کے لئے یسوع نے اُنہیں یوحنا یا کسی اور کے پاس جانے کا نہیں کہا بلکہ اُنہیں اپنے پاس آنے اور ساتھ رہنے کا کہا (چلو! دیکھ لو گے)۔
      1. تم کیا ڈھونڈتے ہو؟ “یہ کوئی حادثاتی بات نہیں تھی کہ اپنی زمینی خدمت کے دوران وہ پہلے الفاظ جو ہمارے نجات دہندہ نے بولے یا جو تحریری صورت میں ہمارے پاس موجود ہیں وہ بہت ہی اہم اور گہرےسوال کی صورت میں ہیں، ‘تم کیا ڈھونڈتے ہو؟’ وہ یہی سوال ہم میں سے ہر ایک سے پوچھتا ہے۔ وہ آج کے دن تک ہم سے یہ سوال پوچھتا ہے۔” (میکلیرن/Maclaren)
      2. “یسوع نے اُن شاگردوں کو اچھی طرح جانچا، وہ جاننا چاہتا تھا کہ اُنکی تحریک محض سطحی تجسس تھا یا پھر اُن کے دل میں اُسے جاننے کی حقیقی خواہش موجود تھی۔” (ٹینی/Tenney)
      3. یسوع نے اُن شاگردوں کو یوحنا کا پاس واپس جانے کو نہیں کہا حالانکہ یوحنا اصطباغی یسوع کے بارے میں بہت کچھ جانتا تھا۔ یسوع کے شاگرد ہونے کی صورت میں اُن کے لئے یسوع سے ذاتی اور شخصی تعلق رکھنا ضروری تھا۔ لہذا یسوع نے یوحنا (اگر اُس بے نام شاگرد کو یوحنا مان لیا جائے تو) اور اندریاس کو بلایا کہ وہ اُس کی روز مر ّہ کی زندگی کا حصہ بنیں۔یسوع نے دُنیا سے الگ تھلگ اور انتہائی خفیہ زندگی نہیں گزاری تھی، بلکہ اُس نے اپنے بارہ رسولوں کو اپنے ساتھ رکھا اور اپنی روز مر ّہ کی خدمت کے دوران ہی اُنکی تربیت بھی کی تھی۔
    5. اور یہ دسویں گھنٹے کے قریب تھا: مصنف کے لئے یسوع کے ساتھ ملاقات کا یہ لمحہ اتنا یادگار تھا کہ اُس نے اُس دن کے اُس خاص پہر کو بھی یاد رکھا۔ یہ بھی اِس بات کی طرف واضح اشارہ ہے کہ دو شاگرد جو یسوع کے پاس آئے تھے اُن میں سے ایک یوحنا رسول خود تھا جو اِس انجیل کا مصنف ہے۔
  2. (40- 42آیات) اندریاس اپنے بھائی شمعون پطرس کو یسوع کے پاس لاتا ہے۔

    اُن دونوں میں سے جو یوحنا کی بات سُن کر یسوع کے پیچھے ہو لئے تھے ایک شمعون پطرس کا بھائی اندریاس تھا۔ اُس نے پہلے اپنے سگے بھائی شمعون سے مل کر اُس سے کہا کہ ہم کو خرستس یعنی مسیح مل گیا۔ وہ اُسے یسوع کے پاس لایا۔یسوع نے اُس پر نگاہ کر کے کہا کہ تُو یوحنا کا بیٹا شمعون ہے، تو کیفا یعنی پطرس کہلائے گا۔

    1. اُس نے ۔۔ اپنے سگے بھائی ۔۔۔سےمل کر اُس سے کہا:اندریاس یسوع سے ملا اور اُس کے بعد وہ چاہتا تھا کہ اُس کا بھائی شمعون پطرس بھی یسوع سے ملاقات کرے۔ یوحنا کی انجیل میں جتنی دفعہ بھی ہمیں اندریاس کا ذکر ملتا ہے وہ کسی نہ کسی کو یسوع کے پاس لا رہا ہوتا ہے (دیکھئے یوحنا 6باب8 آیت اور 12باب 22 آیت)۔
      1. صدیوں سے اِسی طریقے سے لوگ یسوع کے پاس چلے آرہے ہیں۔ ہر کسی پطرس کو کوئی نہ کوئی اندریاس یسوع کے پاس لے کر آتا ہے۔ یہ بڑی فطری سی بات ہے، کیونکہ مسیحی تجربے کی نوعیت ہی ایسی ہے کہ جو یسوع کی رفاقت سے فضل اور برکت کا تجربہ پاتے ہیں اُن کی خواہش ہوتی ہے کہ وہ اپنے اُس تجربے کو دُوسروں کے ساتھ بانٹیں۔
      2. “اندریاس سب سے پہلے اپنے ہی بھائی شمعون کو ملتا ہے اور اُس کو یسوع کے پاس لاتا ہے” اِسی سے ہمیں اِس بات کا بھی اشارہ ملتا ہے کہ کس طرح دوسرے شاگرد کا بھائی بھی اُسی روز اور اُسی مقام پریسوع کے پاس لایا گیا۔
    2. ہم کو خرستس یعنی مسیح مل گیا: یہ ایک سادہ مگر بہت ہی اہم گواہی تھی۔ اندریاس جانتا تھا کہ یسوع ہی مسیح تھا، بنی اسرائیل اور اِس دُنیا کا وہ نجات دہندہ جس کا بہت دیر سے انتظار کیا جا رہا تھا۔
    3. تو کیفا یعنی پطرس کہلائے گا: اندریاس کے بھائی شمعون کو ایک نیا نام (کیفا یعنی پطرس بمعنی پتھر [چٹان]) دیکر یسوع نے دراصل اُسے یہ بتایا تھا کہ وہ تبدیل ہو کر کس قسم کا شخص بننے جا رہا تھا۔ پطرس دوسرے شاگردوں کے ساتھ ملکر اپنی منادی اور گواہی کے ذریعے اِس دُنیا میں ایک مستحکم چٹان بننے جا رہا تھا۔
  3. (43- 44 آیات) یسوع فلپس کو اپنے پیچھے آنے کو کہتا ہے۔

    دوسرے دن یسوع نے گلیل میں جانا چاہا اور فلپس سے مل کر کہا میرے پیچھے ہو لے۔ فلپس اندریاس اور پطرس کے شہر بیت صیداکا باشندہ تھا۔

    1. اور فلپس سے مل کر کہا میرے پیچھے ہو لے: اگر ہمارے پاس صرف یوحنا ہی کی انجیل ہوتی تو شاید ہم یہ سمجھتے کہ یسوع گلیل کے اِن لوگوں کو زندگی میں پہلی بار ملا تھا۔ہمیں دوسرے انجیلی بیانات سے پتا چلتا ہے کہ یسوع اُن میں سے بہت ساروں کو پہلے بھی مل چکا تھا ، لیکن یہاں پر وہ فلپس کو باضابطہ طور پر اپنے پیچھے آنے کی دعوت دے رہا ہے۔
    2. میرے پیچھے ہو لے: فلپس کی بلاہٹ کے بارے میں ہمیں کوئی بھی ڈرامائی واقعہ نہیں ملتا، یسوع نے اُسے بڑی سادگی کے ساتھ کہا کہ میرے پیچھے ہو لے، اور فلپس یسوع کی پیروی کرنے لگ گیا۔
      1. “پیچھے ہو لینے کے لئے جو فعل اِس فقرے میں اِستعمال ہوا ہے اُس کے معنی ہیں ایک شاگرد کے طور پر مکمل پیروی شروع کر دینا۔ یہ بات فعل حال جاری میں مرقوم ہے جس کا مطلب ہے کہ اُسکی پیروی کو ہمیشہ جاری رکھنا ہے۔” (مورث/Morris)
      2. “بیت صیدا کے معنی ہیں ‘مچھیروں کا گھر’ یا ‘مچھیروں کا شہر’۔ جہاں پر دریاے یردن گلیل کی جھیل میں داخل ہوتا ہے یہ اُس مقام سے تھوڑے سے فاصلے پر مشرق کی جانب واقع ہے۔” (بروس/Bruce)
  4. (45-51 آیات ) نتن ایل یسوع کی پیروی کے لئے اپنے تعصب پر غالب آتا ہے۔

    فلپس نے نتن ایل سے مل کر اُس سے کہا کہ جس کا ذکر موسیٰ نے توریت میں اور نبیوں نے کیا ہے وہ ہم کو مل گیا۔ وہ یوسف کا بیٹا یسوع ناصری ہے۔ نتن ایل نے اُس سے کہا کیا ناصرۃ سے کوئی اچھی چیز نکل سکتی ہے؟ فلپس نے کہا چل کر دیکھ لے۔ یسوع نے نتن ایل کو اپنی طرف آتے دیکھ کر اُس کے حق میں کہا دیکھو ! یہ فی الحقیقت اسرائیلی ہے۔ اِس میں مکر نہیں۔ نتن ایل نے اُس سے کہا تُو مجھے کہاں سے جانتا ہے؟ یسوع نے اُس کے جواب میں کہا اِس سے پہلے کہ فلپس نے تجھے بلایا جب تُوانجیر کے درخت کے نیچے تھامَیں نے تجھے دیکھا۔ نتن ایل نے اُس کو جواب دیا اَے رَبی! تُو خُدا کا بیٹا ہے۔ تُو اسرائیل کا بادشاہ ہے۔یسوع نے جواب میں اُس سے کہاکہ مَیں نے جو تجھ سے کہا کہ تجھ کو انجیر کے درخت کے نیچے دیکھا کیا تُو اِسی لئے ایمان لایا ہے؟ تُو اِن سے بھی بڑے بڑے ماجرے دیکھے گا۔ پھر اُس سے کہا مَیں تم سے سچ کہتا ہوں کہ تم آسمان کو کھلا اور خُدا کے فرشتوں کو اُوپر جاتے اور ابنِ آدم پر اُترتے دیکھو گے۔

    1. جس کا ذکر موسیٰ نے توریت میں اور نبیوں نے کیا ہے: یہ یسوع کے گواہ کے طور پر فلپس کی گواہی تھی۔ وہ یہاں پر بیان کرتا ہے کہ یسوع کے بارے میں مسیحا کے طور پر پُرانے عہد نامے میں پیشن گوئیاں پائی جاتی ہیں۔
      1. “آج زیادہ تر عالمین کے مطابق نتن ایل دراصل برتلمائی تھا جو یسوع کے بارہ شاگردوں میں سے ایک تھا۔ نتن ایل اُس کا ذاتی نام تھا جبکہ برتلمائی اُس کا آبائی لقب تھا (اِس کے معنی ہیں تلمائی کا بیٹا)۔” (ٹرینچ/Trench)
    2. کیا ناصرۃ سے کوئی اچھی چیز نکل سکتی ہے؟ نتن ایل نے فلپس کی بات کا جواب تعصب اور بد گمانی کے ساتھ دیا۔ جب اُس نے سنا کہ یسوع کا تعلق ناصرۃ سے تھا تو اُس نے سوچ لیا کہ اُس کے پاس یسوع کے مسیحا یا کوئی اور اہم شخص ہونے کے متعلق سوچنے کا کوئی بھی مناسب جواز نہیں ہے۔
    3. چل کر دیکھ لے: نتن ایل کے تعصب اور بدگمانی پر بحث و مباحثہ کرنے کی بجائے فلپس نے اُسے سادگی کے ساتھ یہ کہا کہ وہ خود چل کر اور یسوع سے مل کر دیکھ لے۔
    4. دیکھو ! یہ فی الحقیقت اسرائیلی ہے: یسوع نے بڑے احسن طریقے سے نتن ایل کی تعریف کی۔ جو کچھ یسوع نے کہا اُس کا مطلب یہ ہے کہ نتن ایل میں کسی بھی طرح کی چالاکی، مکاری یا دھوکہ دہی نہیں پائی جاتی تھی۔ اُس نے اپنے چہرے پر کوئی نقاب نہیں چڑھا رکھا تھا۔
      1. اِس میں مکر نہیں: “مکر کے لئے جو لفظ یہاں پر استعمال ہوا ہے وہ پُرانے یونانی مصنفیں نے چارہ ڈالنے(مچھلی پکڑنےکے لئے جو چارہ لگایا جاتا ہے) کے لئے استعمال کیا ہے۔ پس اِس سے یہاں پر یہ مطلب لیا جاتا ہے کہ دھوکہ دینے یا پکڑنے کے لئے دیا گیا جھانسہ یا تدبیر۔ ۔۔پس یہ دھوکے یا چالاکی کی طرف اشارہ کرتا ہے۔ اِس لفظ کا استعمال بائبل میں یعقوب کے حوالے سے کیا گیا ہے جب اُسکی زندگی یا اُس کا دل مکمل طور پر تبدیل نہیں ہوا تھا (پیدایش 27باب 35 آیت، جس کو ٹیمپل(Temple’s translation,) نے اپنے ترجمے میں یوں بیان کیا ہے کہ ‘فی الحقیقت اسرائیلی جس میں یعقوب نہیں ہے!’۔)۔” (مورس/Morris)
      2. “وہ فی الحقیقت اسرائیلی ہے، یہ اُس قسم کا آدمی ہے جس کو زبور نویس زبور 32 کی 2 آیت میں مبارک کہتا ہے جس کے دل میں مکر نہیں ہے۔” (ٹاسکر/Tasker)
    5. جب تُوانجیر کے درخت کے نیچے تھا مَیں نے تجھے دیکھا: یہ بات قدرے ممکن ہے کہ نتن ایل انجیر کے درخت کےسائے میں خُداکی ذات اور اُس کے کلام پر دھیان و گیان کر رہا ہوگا۔لیکن ایک اور بات بھی قابلِ غور ہے کہ ‘انجیر کے درخت کے نیچے’ دراصل ایک فقرہ یا کہاوت تھی جسے ربی عام طور پر کلام پر دھیان و گیان کے لئے استعمال کرتے تھے۔ پس ہم اِس بات کے بارے میں پر یقین ہو سکتے ہیں کہ نتن ایل دُعا اور کلامِ مُقدس پر دھیان و گیان میں وقت گزارہ کرتا تھا اور یسوع نے اُس کو بتایا کہ جب وہ ایسا کر رہا تھا تب اُس نے اُسے دیکھا۔
      1. “بیرشیتھ Bereshith نامی کتابچے میں ربی ہاسا کے بارے میں لکھا ہےکہ وہ اور اُس کے شاگرد انجیر کے درخت کے نیچے کلام کا مطالعہ کیا کرتے تھے۔” (ٹرینچ/Trench)
      2. “ہوسکتا ہے کہ حالیہ طور پر نتن ایل کسی ایسے مقام پر دھیان و گیان کے لئے بیٹھا ہو اور اُسے کوئی خاص رُوحانی تجربہ ہوا ہو۔ انجیر کے درخت پر چونکہ پتوں کی کثرت ہوتی ہے اِس لئے اُس کا سایہ دن کی گرمی سے بچنے کے لئے بہت موزوں ہوتا ہے۔” (بروس/Bruce)
    6. تُو خُدا کا بیٹا ہے۔ تُو اسرائیل کا بادشاہ ہے: یہ نتن ایل کی یسوع کے بارے میں گواہی تھی۔ خُدا کا بیٹا ہونا یسوع اور خُدا باپ کے درمیان پائے جانے والے منفرد تعلق کو بیان کرتا ہے، اور اسرائیل کا بادشاہ ہونا یسوع کے بطور مسیحا رتبے کو بیان کرتا ہے۔
      1. خُدا کا بیٹا: “یہاں پر حرف تنکیر (آرٹیکل) بہت زیادہ اہم ہے۔ یسوع کی ذات میں الٰہی خصوصیات کسی حد تک نہیں بلکہ مکمل طور پر پائی جاتی تھیں۔ ۔۔ یہاں پر ایسے شخص کی بات کی جا رہی ہے جسے عام انسانی اصطلاحات میں آسانی کے ساتھ بیان نہیں کیا جا سکتا۔” (مورث/Morris)
    7. تُو اِن سے بھی بڑے بڑے ماجرے دیکھے گا: نتن ایل نے اِس حد تک جو کچھ یسوع میں یا اُس کے حوالے سے دیکھا تھا وہ اُسی سے متعجب تھا، لیکن یسوع نے اُسے بتایا کہ ابھی تو اُس کے دیکھنے کے لئے اور بھی بہت ساری عجیب اور بڑی بڑی چیزیں تھیں۔اُسے بتایا گیا کہ وہ اِس سے بھی بہت زیادہ بڑی بڑی چیزیں یا ماجرے دیکھے گا۔
      1. ” اِن سے بھی بڑے بڑے ماجرے دیکھنے کا وعدہ ہر ایک ایماندار کے لئے آج بھی رواں ہے۔ کیا آپ نے یسوع کو کلامِ خُدا کے طور پر جانا ہے؟وہ اِس سے بھی بڑھ کر ہے یعنی رُوح اور زندگی۔ کیا وہ مجسم ہوا ہے؟ آپ اُسے اُسکے جلال میں بھی دیکھیں گے، وہی جلال جو وہ جہاں کی ابتدا سے پہلے اپنے باپ کے ساتھ رکھتا تھا۔ کیا آپ نے اُسے بطور الفا، یعنی ہر ایک چیز سے پہلے دیکھا ہے؟وہ اومیگا بھی ہے۔ کیا آپ کی ملاقات یوحنا اصطباغی سے ہوئی ہے؟ آپ اُس سے بہت زیادہ عظیم اور مقدم ذات سے بھی ملیں گے۔ کیا آپ پانی کے وسیلے بپتسمے سے واقف ہیں؟ آپ آگ سے بھی بپتسمہ پائیں گے۔کیا آپ نے برّے کو صلیب پر مصلوب ہوتے دیکھا ہے؟آپ اُسے جلالی تخت کے بیچ میں براجمان بھی دیکھیں گے۔” (مائیر/Meyer)
    8. تم آسمان کو کُھلا اور خُدا کے فرشتوں کو اُوپر جاتے اور ابنِ آدم پر اُترتے دیکھو گے: یسوع نے نتن ایل سے وعدہ کیا کہ جو نشان اُس نے دیکھا ہے وہ اُس سے بھی بڑا نشان یا معجزہ دیکھے گا، حتیٰ کہ وہ آسمان کو کُھلا ہوا دیکھے گا۔
      1. یسوع کا یہ بیان کہ خُدا کے فرشتوں کو اُوپر جاتے اور ابنِ آدم پر اُترتے دیکھو گے غالباً پیدایش 28باب 12 آیت میں مرقوم یعقوب کے خواب کے ساتھ منسلک ہے جس میں یعقوب نے ایک ایسی سیڑھی دیکھی جو زمین سے آسمان تک پہنچی ہوئی تھی اور اُس پر فرشتے اُتر اور چڑھ رہے تھے۔ یہاں پر اصل میں یسوع یہ کہہ رہا ہے کہ اُسکی ذات وہ سیڑھی ہے جو آسمان اور زمین کو آپس میں جوڑتی ہے۔ جس وقت نتن ایل نے اِس حقیقت کے بارے میں جانا کہ خُدا اور انسان کے درمیان میں درمیانی یسوع ہی کی ذات ہے تو یہ اُس کے لئے پہلے سے بھی بڑا نشان تھا۔ ( تُو اِن سے بھی بڑے بڑے ماجرے دیکھے گا)
      2. “اب اُس نے جانا کہ یسوع مسیح ہی وہ حقیقی سیڑھی تھی جو زمین اور آسمان کے درمیان پائے جانے والے خلا ءکو مٹاتی ہے۔” (ٹاسکر/Tasker)
      3. لگتا یوں ہے کہ جیسے یہ حوالہ جو یسوع نے نتن ایل کے سامنے پیش کیا قدرے دھندلا یا مبہم تھالیکن حقیقت یہ ہے کہ وہ نتن ایل کے لئے بہت ہی بامعنی تھا۔ممکن ہے کہ یہ کلام کا وہی حصہ تھاجس پر وہ انجیر کے درخت کے نیچے بیٹھ کر دھیان و گیان کر رہا تھا۔
    9. ابنِ آدم: اِس بات کے پیچھے یہ تصور نہیں تھا کہ” کامل انسان” یا “مثالی انسان” یا پھر “عام آدمی۔” بلکہ اِس کا تعلق دانی ایل 7باب13- 14 آیات کے حوالے کیساتھ ہے جہاں پر اِس دُنیا کی عدالت کے لئے آنے والے جلال کے بادشاہ کو ابنِ آدم (آدمزاد) کا لقب دیا گیا ہے۔
      1. یسوع نے اپنی ذات کے لئے یہ لقب بہت زیادہ استعمال کیا کیونکہ اُس کے دور کا یہ ایسا مسیحانہ لقب تھا جو سیاسی یا قوم پرست جذبے یا تاثر سے پاک تھا۔ یسوع کے دور میں جب کوئی بھی یہودی لفظ بادشاہ یا مسیحا سنتا تھا تو اُس کے ذہن میں فوری طور پر ایک سیاسی اور جنگجو نجات دہندہ کا تصور اُبھرتا تھا۔ پس یسوع نے اپنی ذات کے تعلق سے ایک اور اصطلاح یعنی ابنِ آدم کے استعمال پر زور دیا۔
      2. “ابنِ آدم کی اصطلاح یسوع کے اپنی ذات کے حوالے سے اِس تصور کی طرف نشاندہی کرتی ہے کہ وہ آسمانی ہستی ہے اور آسمانی جلال کا مالک ہے۔اور ایک ہی وقت میں یہ اُسکی حلیمی، فروتنی اورانسان کے گناہوں کے لئے دُکھ اُٹھانے کی طرف بھی اشارہ کرتی ہے۔ پس اِس لقب کے دونوں تصورات ایک ہی ذات کے بارے میں ہیں۔” (مورث/Morris)
      3. یوحنا کی انجیل کا یہ حصہ وہ چار طریقے بیان کرتا ہے جن کے وسیلے کوئی بھی شخص یسوع کے پاس آتا ہے۔
        • اندریاس یسوع کے پاس یوحنا اصطباغی کی مُنادی کی وجہ سے آیا۔
        • پطرس یسوع کے پاس اپنے ہی بھائی کی گواہی کی وجہ سے آیا۔
        • فلپس یسوع کے پاس یسوع کی طرف سے براہِ راست بلاہٹ کی وجہ سے آیا۔
        • نتن ایل یسوع کے پاس اپنے ذاتی تعصبات پر غالب آ کر اُس کے ساتھ ذاتی ملاقات کی بدولت آیا۔
      4. اِس حصے میں ہم چار مختلف گواہوں کوبھی دیکھتے ہیں جو یسوع کی ذات کی شناخت کرتے نظر آتے ہیں۔اِس سے زیادہ کسی اور کو کیا گواہی چاہیے؟
        • یوحنا اصطباغی نے یہ گواہی دی کہ یسوع ابدی ہے، وہ ایسا منفرد اور خاص شخص ہے جسے رُوح نے منفرد انداز سے مسّح کیا ، وہ خُدا کا برّہ ہے اور یہ کہ وہ زندہ خُدا کا بیٹا ہے۔
        • اندریاس نے یہ گواہی دی کہ یسوع مسیح ہے، یعنی وہ مسیحا ہے جس کے وہ منتظر تھے۔
        • فلپس نے یہ گواہی دی کہ یسوع وہ مسیحا ہے جس کے بارے میں پُرانے عہد نامے میں پیشن گوئیاں کی گئی تھیں۔
        • نتن ایل نے یہ گواہی دی کہ یسوع خُدا کا بیٹا اور اسرائیل کا بادشاہ ہے۔