اعمال 1 باب – خُداوند یسوع مسیح کا آسمان پر اُٹھایا جانا اور ایک نئے رسول کا چناؤ
الف : پیش لفظ
-
(1آیت) پچھلی تحریر کا حوالہ
اے تھیفلس ۔ مَیں نے پہلا رسالہ اُن سب باتوں کے بیان میں تصنیف کیا جو خُداوند یسوع شروع میں کرتا اور سکھاتا رہا۔
أ.مَیں نے پہلا رسالہ ۔۔۔تصنیف کیا : وہ پہلا رسالہ لوقا کی انجیل ہے۔ ایک وقت تھا کہ لوقا کی انجیل اور اعمال کی کتاب دو جلدوں پر مشتمل ایک ہی کتاب کی صورت میں جڑی ہوئی تھیں۔
-
-
-
تصور کریں کہ اگر بائبل مُقدس کے اندر اعمال کی کتاب موجود نہ ہوتی تو کیسا ہوتا۔ ایسی صورت میں آپ اپنی بائبل کو اُٹھاتے اور دیکھتے کہ خُداوند یسوع کی زمینی خدمت کا اختتام یوحنا کی انجیل کے اختتام کے ساتھ ہو
جاتا ہے۔ پھر آپ پولس نامی ایک شخص کے بارے میں پڑھتے جو روم میں خُداوند یسوع کے پیروکاروں کو خط لکھتا ہے۔ اب پولس کون ہے؟انجیل یروشلیم سے روم تک کیسے پہنچی؟اعمال کی کتاب اِن جیسے سوالات کے جواب دیتی ہے۔
“نئے عہد نامے کے ایک عظیم عالم نے کہا ہےاعمال کی کتاب کا ایک عنوان یہ ہو سکتا تھا کہ ، ‘وہ (شاگرد) انجیل کی خوشخبری کو یروشلیم سے روم تک کیسے لائے۔’ ” (بارکلے/Barclay) -
یروشلیم سے روم تک توسیع ایک حیرت انگیز کہانی ہے۔ “انسانی نقطہ نظر سے بات کی جائے تو] مسیحیت [ کے پاس کچھ بھی نہیں تھا۔ اِس کے پاس کوئی پیسہ نہیں تھا، کوئی نمایاں قابلِ اعتبار قائد نہیں تھے، اور انجیل کی
بشارت کو پھیلانے کے لیے کسی طرح کے تکنیکی ذرائع نہیں تھے۔ اور اِس کو بہت بڑی بڑی رکاوٹوں کا سامنا تھا۔ مسیحیت ایک بالکل نئی چیز تھی۔ اور اِس نے اُن سچائیوں کی تعلیم دی تھی جو نئی پیدایش کا تجربہ نہ رکھنے
والی دُنیا کے نزدیک بالکل ناقابلِ یقین تھیں۔ اِس لیے یہ شدید ترین نفرت، ظلم و ستم اور عتاب کے نشانے پر تھی۔” (بوئیس/Boice) -
اعمال کی کتاب کا طرزِ تحریر پرانے عہد نامے کے یونانی ترجمے سپتواجنتا جیسا ہے۔ “چونکہ لوقا مختلف انداز سے لکھنے کی مہارت رکھتا تھا (لوقا 1باب 1-4آیات)، پس اِس طرزِ تحریر کا چناؤ ارادی ہے۔غالباً اِس کتاب کو
لکھتے ہوئے لوقا کو احساس تھا کہ وہ پاک تاریخ کو قلمبند کر رہا تھا ۔” (مارشل/Marshall) -
حقیقت یہ ہے کہ نئے عہد نامے کی بنیاد پر ہم لوقا کے بارے میں زیادہ کچھ نہیں جانتے:
-
ہم یہ جانتے ہیں کہ وہ ایک طبیب تھا (کلسیوں 4باب14آیت)۔
-
ہم یہ جانتے ہیں کہ وہ غیر قوم میں سے تھا (خصوصاً اُس کے نام کی بنیاد پر)۔
-
ہم یہ جانتے ہیں کہ وہ پولس رسول کا ایک بہت وفادار ساتھی تھا (یہ بات ہم اعمال کی کتاب اور کلسیوں 4 باب14 آیت، فلیمون 24آیت ، 2 تیمتھیس 4باب11آیت کے بیانات کی بدولت جانتے ہیں۔)
-
-
ایک ایسا وقت بھی تھا جب بہت سارے علماء اور ناقدین خیال کرتے تھے کہ اعمال کی کتاب ابتدائی کلیسیا کے رومانوی ناول کی طرح ہے جو غالباً اِن واقعات کے وقوع پذیر ہونے کے قریباً 100 سال بعد لکھی گئی تھی۔ لیکن
بائبل کے ایک بہت معروف عالم اور ماہرِ آثارِ قدیمہ نے یہ ثابت کیا کہ اعمال کی کتاب میں مخصوص سماجی سرگرمیوں ، قوانین اور اُس دور کی رسومات کے متعلق بیان کردہ تاریخی ریکارڈ حیرت انگیز حد تک درست ہے۔ یہ
یقینی طور پر کسی ایسے شخص کی تصنیف ہے جو اُس دور میں جی رہا تھا اور اُن سب باتوں کا چشمِ دید گواہ تھا۔ -
1960کی دہائی کے وسط میں اے۔ این۔ شروِن وائٹ، جس نے یونانی اور رومی تاریخ کے بارے میں آکسفورڈ سے تعلیم پائی تھی اور اِس کا ماہر تھا، اعمال کی کتاب کے بارے میں لکھا کہ: “تاریخی ڈھانچہ بالکل درست ہے۔ وقت اور
جگہوں کے حوالے سے پیش کردہ تفصیلات بڑی واضح اور درست ہیں۔۔۔بطورِ دستاویزات یہ بیان اُسی تاریخی سلسلے کیساتھ جڑے ہوئے ہیں جو پہلی اور دوسری صدی عیسوی کے اوائل کے رسم الخط اور ادبی ذرائع میں صوبائی اور شاہی
مقدمات سے تعلق رکھتے تھے ۔ اعمال کی کتاب کے لیے تاریخی تصدیق انتہائی زبردست ہے۔ ۔۔اِس کی تفصیلات کے معاملات میں اِس کی بنیادی ترین تاریخی باتوں کو بھی مسترد کرنا مضحکہ خیز ہوگا۔ رومی مورخین نے ایک طویل
عرصے سے اِن باتوں کو معمولی سمجھا ہے۔” -
جان کیلون نے لکھا ہے کہ “اعمال کی کتاب ایک بہت ہی بڑا خزانہ ہے۔”ڈی۔ مارٹن لوئیڈ جونس (D. Martyn Lloyd-Jones)نے اعمال کی کتاب کو “سب کتابوں میں سے زیادہ بربطی (سرودی/غنائی) کتاب ” قرار دیتے ہوئے کہا
ہے کہ ، “مَیں آپ کو نصیحت کرتا ہوں کہ اِس کتاب میں جئیں: یہ ایک مقوی (قوت بخش) تصنیف ہے، رُوحانی دُنیا میں ایسی مقوی چیز جسے مَیں آج کے دن تک جان پایا ہوں۔”(سٹاٹ سے اقتباس/Cited in Stott)
-
-
ب: تھیفلس: عین ممکن ہے کہ یہ کوئی ایسا مسیحی شخص ہو جسے ہدایت و رہنمائی کی ضرورت تھی۔ ہو سکتا ہے کہ وہ کوئی رومی افسر ہو جس کے سامنے لوقا مسیحی تحریک کی
تاریخ کا خلاصہ پیش کر رہا ہو، یا پھر ہو سکتا ہے کہ یہ نام محض علامتی ہو کیونکہ تھیفلس نام کے معنی ہیں “خُدا سے محبت کرنے والا۔”-
-
اپنی تصنیف کی پہلی جلد میں (لوقا 1باب3آیت) لوقا تھیفلس کے نام سے پہلے’ اَے معزز’ جیسا لقب استعمال کرتا ہے اور یہ ایسے لوگوں کو مخاطب کرنے کا طریقہ تھا جو کسی اعلیٰ عہدے پر فائز ہوتے تھے۔
-
اب جبکہ اعمال کی کتاب کا اختتام اِس مقام پر ہوتا ہے جہاں پولس رسول روم میں قیصر کے سامنے اپنے مقدمے کی سنوائی کا انتظار کر رہا ہے تو کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ شاید لوقا کی انجیل اور اعمال کی کتاب کی صورت
میں پولس رسول کے ایماء پر رومی افسرانِ بالا کو مقدمے کے پسِ منظر کے طور پر تفصیل فراہم کی جا رہی تھی۔ لوقا اعمال 21باب17 آیت میں پولس رسول کے ساتھ یروشلیم پہنچا؛ اِس کے بعد وہ اعمال 27باب1آیت کے مطابق
پولس رسول کے ساتھ روم کے سفر پر روانہ ہوا۔ اِن دو سالوں کے دوران لوقا کے پاس کافی زیادہ وقت تھا کہ وہ اپنی انجیل اور اعمال کی کتاب کو تحریر کر سکے۔ -
“قدیم کتابیں عام طور پر پاپائری کے طوماروں پر تحریر کی جاتی تھیں۔ عام طور پر ایک طومار قریباً 35 فٹ تک کی لمبائی کا ہوتا تھا۔ اگر کوئی طومار اِس سے زیادہ لمبا ہو جاتا تو وہ عام طور پر اتنا بڑا طومار بن
جاتا تھا کہ اُسے آسانی سے اپنے ساتھ اِدھر اُدھر اُٹھا کر لے جانا آسان نہیں ہوتا تھا۔ بائبل مُقدس کی بہت ساری کتابوں کی طوالت کا تعین اِسی ساختی حد بندی کی بنیاد پر کیا گیاہے ” (بوئیس/Boice) ۔ لوقا نے اپنی
کہانی بیان کرنے کے لیے دو طوماروں کو استعمال کیا، اُن میں سے ایک کو ہم “لوقا کی انجیل” جبکہ دوسرے کو “اعمال کی کتاب” کہتے ہیں۔ -
لوقا تھیفلس اور رومیوں کو دکھانا چاہتا تھا کہ :
-
مسیحیت بے ضرر ہے (کئی رومی افسرخود مسیحیت کو قبول کر چکے تھے)۔
-
مسیحیت بالکل بے قصور ہے (رومی مُنصفوں کو سزا دینے کی کوئی بنیاد نظر نہ آئی)۔
-
مسیحیت بالکل قانونی/شرعی ہے (یہ یہودیت کی تکمیل ہے جو کہ رومی سلطنت کے اندر ایک منظور شدہ مذہب تھا)۔
-
-
ج: جو خُداوند یسوع شروع میں کرتا اور سکھاتا رہا: یہاں پر غور کریں کہ پہلا رسالہ ُن سب باتوں کے بارے میں تھا جو خُداوند یسوع شروع میں کرتا اور سکھاتا رہا۔
-
-
اپنی ہمیں اِس بات کو یاد رکھنا چاہیے کہ اعمال کی کتاب اُس دور کی کلیسیا کی مکمل تاریخ نہیں پیش کرتی۔ مثال کے طور پر اِس کتاب میں گلیل اور سامریہ کی کلیسیاؤں کا شاذونادر ہی ذکر ملتا ہے (اعمال
9باب31آیت)،اور اِس میں مصر کے اندر قائم کی جانے والی اُس مضبوط کلیسیا کا بالکل بھی ذکر نہیں ہے جو اُس دور میں قائم کی گئی تھی۔ -
اعمال کی کتاب قریباً 30 سالوں کے دورانیے کا احاطہ کرتی ہے اور ہمیں 60 یا 61 بعد ازمسیح تک کے حالات سے آگاہ کرتی ہےجب پولس رسول روم میں نیرؔو قیصر کے سامنے پیش ہونے کا انتظار کر رہا تھا۔ اِسی قیصر نیرؔو نے
64 بعد از مسیح میں مسیحیوں کی بدنامِ زمانہ ایذا رسانی کا آغاز کیا تھا۔ -
حیرت انگیز طور پر وہ سب جس کا آغاز خُداوند یسوع نے کیا تھا ابھی تک جاری تھا۔ حقیقت تو یہ ہے کہ اعمال کی کتاب کا لکھا جانا آج کے دن تک جاری ہے۔ اور یہ تحریر کسی معتبر تصنیفی انداز سے نہیں ، بلکہ اِس دُنیا
کے اندر رُوح القدس کی ہدایت میں کلیسیا کی طرف سے جاری خُدا کے کام کے تسلسل کی شکل میں ہو رہی ہے۔ -
“اعمال کی کتاب اِس لیے اِن دو اہم مقاصد کے حصول کے لیے پڑھی جانی چاہیے: سب سے پہلے تو اپنے خُداوند کی غیبی لیکن حقیقی طور پر الٰہی تعلیم اور کام کے تسلسل کا سراغ لگانے کے لیے؛ اور دوسرے نمبر پر کلیسیا کے
اندر رُوح القدس کی فعال خدمت کی موجودگی کا سراغ لگانے کے لیے۔” (پیرسن/Pierson)
-
-
-
(3-2آیات)آسمان پر اُٹھائے جانے سے پہلے اِس زمیں پر خُداوند یسوع کا آخری کام
اُس دن تک جس میں وہ اُن رسولوں کو جنہیں اُس نے چُنا تھا رُوح القدس کے وسیلہ سے حکم دے کر اُوپر اُٹھایا گیا۔ اُس نے دُکھ سہنے کے بعد بہت سے ثبوتوں سے اپنے آپ کو اُن پر زندہ ظاہر بھی کیا ۔ چنا نچہ و ہ چالیس دن تک
اُنہیں نظر آتا اور خدا کی بادشاہی کی باتیں کہتا رہا۔أ: اُس دن تک جس میں وہ ۔۔۔ اُوپر اُٹھایا گیا : خُداوند یسوع نے رُوح القدس کے وسیلہ سے پنے شاگردوں کو اُن سب باتوں کی ہدایت دی جن پر اُنہوں نے اُسکی غیر موجودگی میں عمل کرنا تھا۔ اُس نےرسولوں کو حکم دیا ۔
-
- نمایاں طور پر خُداوند یسوع نے یہ سب رُوح القدس کے وسیلہ سے کیا۔ یہ مُردوں میں سے جی اُٹھا، جلالی خُداوند یسوع مسیح ہی تھا جو پورے اختیار اور حاکمیت کے ساتھ موت پر فتح مند ہوا تھا۔ اِس کے باوجود اِس معاملے میں اُس نے اپنے وسائل پر (جو کہ اُسکے پاس موجود تھے) انحصار کرنے کا چناؤ نہیں کیا بلکہ اُس نے رُوح القدس کی قدرت اور حضوری پر انحصار کیا جو اُس میں بسا ہوا تھا۔
- رُوح القدس پاک تثلیث کا تیسرا اقنوم–خُدا کی ذات کا وہ پہلو ہے جو ایماندار انسانوں میں بستا، اُنہیں قوت بخشتا اور اُنہیں تحریک دیتا ہے۔ رُوح القدس اُن لوگوں کے درمیان بھی کام کرتا ہے جو ابھی ایمان نہیں لائے، لیکن اِس کے ساتھ ساتھ بہت ہی عظیم اور نمایاں کام اُن لوگوں کے درمیان میں کرتا ہے جو ایمان لا چکے ہیں۔
- اگر جلالی اور مُردوں میں سے جی اُٹھے خُداوند یسوع کو رُوح القدس پر انحصار کرنے کی ضرورت تھی اور اگر اُس نے ایسا کیا ہے تو پھر ہمیں بھی ایسا کرنا چاہیے۔ یہ اہم بات ہی باقی کی ساری اعمال کی کتاب کا نمونہ ہے
جو ہمیں دکھاتی ہے کہ رُوح القدس کلیسیا کے وسیلے سے کیا کام کرتا ہے۔ “شاگرد اپنے اُستاد سے بڑا نہیں ہوتا ، نہ نوکر اپنے مالک سے۔ اگر خُداوند یسوع مسیح کو اپنی زمینی خدمت کے لیے رُوح القدس کی قدرت کی ضرورت
تھی تو پھر ہم تو یقینی طور پر اُسی مسّح کے بغیراُس کام کو تکمیل دینے کی کوشش کرنے کے متحمل نہیں ہو سکتے۔ ” (پیرسن/Pierson)
ب: اُس نے دُکھ سہنے کے بعد بہت سے ثبوتوں سے اپنے آپ کو اُن پر زندہ ظاہر بھی کیا خُداوند یسوع نے اپنے جی اُٹھنے کے چالیس دن بعد تک کے دورانیے میں، آسمان پر اُٹھائے جانے سے پہلے اپنے جی اُٹھنے کی حقیقت کو بھی ثابت کیا تھا۔ اُس نے اِس حوالے سے اُن کے ذہنوں میں کسی طرح کے ممکنہ شک کو نہیں رہنے دیا ، وہ حقیقت میں بالکل اُسی طرح جی اُٹھا تھا جیسے اُس نے اُن سے وعدہ کیا تھا۔
- 1 کرنتھیوں 15باب6آیت کے اندر پولس رسول اِن بہت سے ثبوتوں میں سے ایک کو پیش کرتا ہے: “وہ پانچ سو سے زِیادہ بھائیوں کو ایک ساتھ دِکھائی دِیا۔ جن میں سے اکثر اَب تک موجود ہیں اور بعض سو گئے۔”پانچ سو سے زیادہ لوگوں نے جی اُٹھے خُداوند یسوع کو دیکھا تھااور اُن میں سے زیادہ تر اُس وقت سے 25 سال بعد کے عرصہ تک بھی پولس رسول کی خدمت کے دوران زندہ تھے۔
ج: خدا کی بادشاہی کی باتیں کہتا رہا: وہ ساری تعلیم جو خُداوند یسوع نے اپنے مُردوں میں سے جی اُٹھنے کے بعد اور اپنے آسمان پر جانے سے پہلے اپنے شاگردوں کو دی وہ تحریری صورت
میں موجود نہیں ہے، لیکن ہمیں بتایا گیا ہے کہ اُس نے وہ سارا وقت خُدا کی بادشاہی کی باتیں کرنے کے لیے استعمال کیا۔-
ہو سکتا ہے کہ کئی غناسطی اور نیو ایج موومنٹ کے اُستاد یہ سوچیں کہ خُداوند یسوع نے اِن چالیس دِنوں کو اپنے شاگردوں کو عجیب اور مخفی و غیر واضح تعلیمات دینے کے لیے استعمال کیا تھا جسے موجودہ دور کے نئے مکاشفہ
جات کی مدد سے نئے سرے سے دریافت کیا جانا چاہیے۔ لیکن لوقا ہمیں بتاتا ہے کہ اُس نے اُنہیں زیادہ تر اُنہی باتوں اور اُنہی موضوعات کے بارے میں تعلیم دی تھی جو وہ اُنہیں اپنی زمینی خدمت کے دوران سکھاتا رہا تھا:
خدا کی بادشاہی کی باتیں۔
-
ب : خُداوند یسوع کا آسمان پر اُٹھایا جانا
-
(5-4 آیات) خُداوند یسوع کی اپنے شاگردوں کو آخری ہدایات۔
اور اُن سے مل کر اُن کو حکم دیا کہ یروشلیم سے باہر نہ جاؤ بلکہ باپ کے اُس وعدہ کے پورا ہونے کے منتظر رہو جس کا ذکر تم مجھ سے سن چکے ہو۔ کیونکہ یوحنا نے تو پانی سے بپتسمہ دیا مگر تم تھوڑے دِنوں کے بعد رُوح القدس سے
بپتسمہ پاؤ گے۔أ. اُن کو حکم دیا کہ یروشلیم سے باہر نہ جاؤ: خُداوند یسوع نے اپنے شاگردوں کو کوئی بھی اور کام کرنے کو نہیں کہا سوائے رُوح القدس کے منتظر رہنے کے (جو باپ کے وعدہ کے مطابق آنے والا تھا)۔ خُداوند یسوع
اِس بات کو جانتا تھا کہ جب تک وہ رُوح القدس کو پا نہ لیں وہ خُداکی بادشاہی کے لیے کوئی بھی موثر کام نہیں کر سکیں گے۔-
-
منتظر رہنے کا مطلب ہے کہ وہ(رُوح القدس) اِس لائق ہے کہ اُس کا انتظار کیا جائے۔
-
منتظر رہنے کا مطلب ہے کہ اُن کے ساتھ وعدہ کیا گیا تھا کہ وہ آئے گا۔
-
منتظر رہنے کا مطلب ہے کہ اُن کے لیے ضروری تھا کہ وہ اُسے حاصل کریں؛ وہ اُسے خود سے تخلیق نہیں کر سکتے تھے۔
-
منتظر رہنے کا مطلب ہے کہ چاہے یہ تھوڑا سا ہی انتظار ہوگا لیکن اِس کے ذریعے سے اُن کی آزمائش کی جائے گی۔
-
ب. اُن کو حکم دیا۔۔۔باپ کے وعدہ۔۔۔رُوح القدس سے پبتسمہ پاؤ:یہاں پر یہ ایک اور ثبوت ہے کہ کس طرح تثلیث کی حقیقت – کہ تین اقنوم میں ایک خُدا –کی ذات نئے عہد نامے کے تانے بانے میں بُنی ہوئی ہے۔ یہاں
پر ہم دیکھتے ہیں کہ اُس(خُداوند یسوع) نے باپ کے وعدے کے بارے میں بتایا، جو کہ رُوح القدس کے نزول کے بارے میں ہے۔-
-
یہ بات بہت ہی اہم ہے کہ رُوح القدس کا آنا، ایمانداروں کو معمور کرنا اور اُنہیں قوت بخشنا “باپ کا وعدہ” کہلاتا ہے۔
-
اِس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ہمیں اُس کا انتظار بےتابی اور توقع کے ساتھ کرنا چاہیے؛ “باپ کا وعدہ” صرف اچھا ہی ہو سکتا ہے۔
-
اِس سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ قابلِ اعتبار اور قابلِ انحصار ہے؛ باپ کسی بھی ایسی چیز کا وعدہ نہیں کر سکتا جسے وہ پورا نہ کر سکے۔
-
اِس سے ظاہر ہوتا ہے کہ اِس وعدے کا تعلق اُس کے سبھی فرزندوں کے ساتھ ہے؛ کیونکہ یہ وعدہ خُدا سےآتا ہے جو کہ ہمارا باپ ہے۔
-
اِس سے ظاہر ہوتا ہے کہ اِسے ایمان کے ذریعے حاصل کیا جانا چاہیے، جیسے کہ پوری بائبل کے اندر خُدا کے وعدوں کے تعلق سے طریقہ کار ظاہر ہوتا ہے۔
-
-
“باپ کا وعدہ اب بیٹے کا وعدہ بھی بن گیا تھا”(پیرسن/Pierson)
-
ج: تم رُوح القدس سے بپتسمہ پاؤ گے: بپتسمہ پانے کے تصور کا مطلب کسی چیز میں ڈوبنا یا اُس سے ڈھانپا جانا ہے؛ بالکل ویسے جیسے یوحنا اصطباغی پانی کے اندر لوگوں کو بپتسمہ دیتا تھا، پس رُوح کا بپتسمہ پانے
کے ذریعے یہ شاگرد رُوح میں ڈوبیں گے یا رُوح سے ڈھانپے جائیں گے۔-
-
رُوح القدس کے بپتسمے کو بطورِحالت بیان کرنا اِسکو بطورِ تجربہ بیان کرنے سے زیادہ مفید ہوگا۔ ہمیں غالباً یہ پوچھنا چاہیے کہ “کیا آپ نے رُوح القدس میں بپتسمہ پایا ہے؟” بجائے اِس کے کہ “کیا آپ کو رُوح القدس
کا بپتسمہ دیا گیا ہے؟”
-
د: آج سے زیادہ دن نہیں: وہ جانتے تھے کہ باپ کا وعدہ پورا ضرور ہوگا لیکن یہ فوری طورپر پورا نہیں ہوگا۔ یہ آج سے کچھ دن بعد پورا ہوگا، لیکن زیادہ دن نہیں۔ اُنہیں بالکل ٹھیک وقت نہ بتانے میں بھی
خُداوند یسوع کا ایک مقصد تھا۔-
-
رُوح القدس کے بپتسمے کو بطورِحالت بیان کرنا اِسکو بطورِ تجربہ بیان کرنے سے زیادہ مفید ہوگا۔ ہمیں غالباً یہ پوچھنا چاہیے کہ “کیا آپ نے رُوح القدس میں بپتسمہ پایا ہے؟” بجائے اِس کے کہ “کیا آپ کو رُوح القدس
کا بپتسمہ دیا گیا ہے؟”
-
-
-
(6آیت) شاگرد خُداوند یسوع کے آسمان پر اُٹھائے جانے سے پہلے اُس سے آخری سوال پوچھتے ہیں۔
پس اُنہوں نے جمع ہوکر اُس سے یہ پوچھا کہ اے خدا وند ۔ کیا تُو اِسی وقت اسرائیل کو بادشاہی پھر عطا کرے گا ؟
أ. پس اُنہوں نے جمع ہو کر : یہ وہ آخری موقع تھا جب وہ خُداوند یسوع کو اُس کے جسمانی بدن میں دیکھ رہے تھے، اِس کے بعد وہ تب تک اُسے نہیں دیکھیں گے جب وہ خود اُس کے پاس ابدیت تک کے لیے آسمان پر نہ چلے گئے۔ اِس متن میں کوئی بھی ایسی خاص چیز نہیں ہے جو ہمیں یہ بتائے کہ اُن کو یہ معلوم تھا کہ وہ خُداوند یسوع کو اِس زمین پر آخری دفعہ دیکھ رہے تھے سوائے اُس سوال کے وزن کے جو اُنہوں نے اِس موقع پر خُداوند یسوع سے پوچھا تھا۔
-
ب. اَے خُداوند کیا تُو اِسی وقت اسرائیل کو بادشاہی عطا کرے گا؟ یہ سوال پہلے بھی بہت دفعہ پوچھا گیا تھا لیکن اِس وقت اِس کی اِن خاص حالات کے ساتھ بہت زیادہ مطابقت تھی۔ وہ جانتے تھے کہ خُداوند یسوع نے نئے عہد کو قائم کر دیا تھا (لوقا 22باب20آیت)۔ وہ یہ بھی جانتے تھے کہ اسرائیل کی بادشاہی2.کی بحالی بھی نئے عہد نامے کا ایک حصہ تھی (جیسا کہ یرمیاہ 23باب1-8آیات؛ حزقی ایل 36باب16-30 آیات؛ 37 باب 21-28 آیات)۔
-
اُن کے لیے اِس بات پر حیران ہونا دراصل بالکل بجا ہے کہ باقی نئے عہد نامے کی تکمیل کب ہوگی۔ آئندہ آیات کے اندر خُداوند یسوع کا جواب ظاہر کرتا ہے کہ اُس نے اُنہیں ڈانٹا نہیں تھا اور نہ ہی سوال پوچھنے پر
اُن کی کسی طرح کی تصحیح کی تھی۔ اُس نے بڑی سادگی کے ساتھ اُنہیں جواب دیا تھا کہ اُن وقتوں اور میعادوں کا جاننا اُن کا کام نہیں تھا۔ -
“اِس فقرے میں فعل ‘بحال’ ظاہر کرتا ہے کہ وہ سیاسی اور علاقائی بحالی کی توقع کر ر ہے تھے؛ اسرائیل کا بطورِ اسم استعمال ظاہر کرتا ہے کہ وہ قومی حکومت کی بحالی کی توقع کر رہے تھے اور تمیزی فقرہ ‘اِسی
وقت’ ظاہر کرتا ہے کہ وہ اُس حکومت کے قیام کی فوری توقع کر رہے تھے۔” (سٹوٹ/Stott ) -
شاگرد پرانے عہد نامے کی بہت ساری پیشن گوئیوں سے واقف تھے جو اسرائیل قوم کی رُوحانی اور قومی نئی پیدایش کی بات کرتی تھیں۔ شاگردوں نے غالباً یہ سوچا ہوگا کہ نئی رُوحانی پیدایش واضح طور پر نظر آرہی ہے
لہذاقومی پیدایش بھی ضرور جلد ہونے والی ہے۔
-
-
-
(8-7آیات) کلام کا پیش رُو (آمد کی خبر دینے والا)
اُس نے اُن سے کہا اُن وقتوں اور میعادوں کا جاننا جنہیں باپ نے اپنے ہی اختیار میں رکھا ہے تمہارا کام نہیں ۔ لیکن جب رُوح القدس تم پر نازل ہوگا تو تم قوت پاؤ گے اور یروشلیم اور تمام یہودیہ اور سامریہ میں بلکہ زمین کی
انتہا تک میرے گواہ ہوگے ۔- اُن وقتوں اور میعادوں کا جاننا۔۔۔تمہارا کام نہیں : خُداوند خُداوند یسوع نے اپنے اُن شاگردوں کو خبردار کیا کہ وہ خُدا کی بادشاہت کے مختلف پہلوؤں کے وقتوں اور میعادوں کے بارے میں اپنے طور پر جاننے کی کوشش نہ کریں کیونکہ اُن چیزوں کا مکمل طور پر تعلق خُدا باپ کے ساتھ ہے (جنہیں باپ نے اپنے ہی اختیار میں رکھا ہے)۔
- خُداوند یسوع کی طرف سے یہ بہت ہی پُرحکمت عمل تھا کہ اُس نے اگلے 2000 سالوں کے لیے اپنے سارے منصوبے کی تفصیلات اُنہیں فراہم کرنا شروع نہیں کر دیا تھا۔ شاگردوں کے لیے یہ نہ جاننا اچھا تھا کہ اسرائیل کی
بحالی جس کے جلد واقع ہونے کے بارے میں وہ اُمید لگائے بیٹھے تھے اگلے 2000 سالوں تک نہیں ہونے والی تھی۔ اگر ایسا ہوتا تو وہ بہت زیادہ بے حوصلہ ہو جاتے اور جو کام اُنہوں نے اُس وقت کرنا تھا اُسے وہ
دلجمعی سے نہ کر پاتے اور ایسا بھی ہو سکتا تھا کہ اِس وجہ سے وہ خُدا کی بادشاہی کے اُس پہلو پر غور نہ کرتے جو اُن کے ساتھ موجود تھی۔ - اِس کے ساتھ ساتھ خُداوند یسوع نے یہ بھی نہیں کہا تھا کہ اسرائیل کی بحالی نہیں ہونے جا رہی؛ اُس نے محض یہ کہا تھا کہ اُسکے شاگردوں کے لیے بحالی کے وقتوں اور میعادوں کے بارے میں قیاس آرائی کرنا درست
نہیں ہے۔ - اپنے ہی اختیار میں : مُردوں میں سے جی اُٹھنے اور آسمان پر اُٹھائے جانے والے خُداوند یسوع نے ایک بار پھر خُدا باپ کی تابعداری کو شاگردوں پر ظاہر کیا۔ خُداوند یسوع مسیح کی خُدا باپ کے سامنے تابعداری وقتی نہیں بلکہ ابدی تھی۔
- خُداوند یسوع کی طرف سے یہ بہت ہی پُرحکمت عمل تھا کہ اُس نے اگلے 2000 سالوں کے لیے اپنے سارے منصوبے کی تفصیلات اُنہیں فراہم کرنا شروع نہیں کر دیا تھا۔ شاگردوں کے لیے یہ نہ جاننا اچھا تھا کہ اسرائیل کی
- لیکن جب رُوح القدس تم پر نازل ہوگا تو تم قوت پاؤ گے : اگرچہ وہ قومی مملکت جس کے قیام کے وہ خواہاں تھے ابھی قائم نہیں ہونےجا رہی تھی، لیکن وہ قوت جو اُنہیں چاہیے تھی اُس کے ملنے میں زیادہ دیر نہیں لگنے والی تھی۔ وہ جلد ہی رُوح القدس کے نازل ہونے کے ساتھ قوت پانے والے تھے۔
- اسرائیل کی بحالی کے بارے میں سوال کرتے ہوئے عین ممکن ہے کہ شاگردوں کے ذہن میں قیصر جیسی طاقت کا تصور تھا نہ کہ اُس طاقت اور قوت کا جو خُدا کی طرف سے ملتی ہے۔
- تم ۔۔۔ میرے گواہ ہوگے : اُس قوت کو حاصل کرنے کا فطری نتیجہ یہ ہوگا کہ وہ ساری زمین پر خُداوند یسوع مسیح کے گواہ بن جائیں گے۔
- اِس بات پر غور کریں کہ یہ کوئی حکم نہیں تھا؛ یہ حقیقت پر مبنی ایک سادہ سا بیان ہے: جب رُوح القدس تم پر نازل ہوگا تو تم ۔۔۔ میرے گواہ ہوگے یہ الفاظ ‘ہوگے’ اشارہ کنندہ ہیں نہ کہ حکم آمیز۔ خُداوند یسوع نے اُنہیں یہ اصلاح نہیں دی کہ وہ اُس کے گواہ خود سے بنیں، بلکہ اُس نے بتایا کہ وہ اُس کے گواہ ہونگے۔
- اگر ہم خُداوند یسوع کے گواہ بننا چاہتے ہیں ، تو ہمیں رُوح القدس سے معمور ہونے کی ضرورت ہے۔ رُوح القدس کی معموری کے بغیر انجیل کی بشارت کی خدمت کا کوئی بھی تربیتی پروگرام انتہائی کم موثر ہوگا۔
- یسعیاہ 43باب 10آیت میں خُدا اپنے لوگوں کے سامنے اعلان کرتا ہے کہ “تم میرے گواہ ہو۔”ایک بدعتی گروہ آجکل یہ دعویٰ کرتا ہے کہ اُن کےلیے “یہواہ کے گواہ” ہونے کا فرمان یہی ہے۔ افسوس کی بات یہ ہے کہ وہ
یسعیاہ 43باب10آیت کو اعمال 8باب1آیت کے سیاق و سباق میں دیکھنے میں ناکام رہتے ہیں؛ جب ہم خُداوند یسوع مسیح کے گواہ ہیں تو ہم دراصل یہواہ کے ہی گواہ ہیں۔
- یروشلیم اور تمام یہودیہ اور سامریہ میں بلکہ زمین کی انتہا تک 4.: انجیل کے پیغام کے یروشلیم، یہودیہ اور سامریہ اور زمین کی انتہا تک پھیلنے کے سلسلے کی ترتیب ہی اعمال کی ساری کتاب میں خدمت کی ترتیب کا خلاصہ ہے۔
- اعمال 1-7 ابواب یروشلیم میں انجیل کی بشارت کے متعلق بیان کرتے ہیں۔
- اعمال 8-12 ابواب یہودیہ اور سامریہ میں انجیل کی بشارت کے متعلق بیان کرتے ہیں۔
- اعمال 13-28 ابواب زمین کی انتہا تک انجیل کی بشارت کے متعلق بیان کرتے ہیں۔
- خُداوند یسوع نے خدمت کے جن علاقوں کو بیان کیا ہے اُن کے بارے میں آپ شاگردوں کی طرف سے آنے والے اعتراض کے بارے میں سوچ سکتے ہیں۔
- یروشلیم وہ مقام تھا جہاں پر ایک غیظ و غصب سے بپھرے ہوئے ہجوم کے کہنے پر خُداوند یسوع کو مصلوب کر کے مار دیا گیا تھا۔
- یہودیہ نے خُداوند یسوع مسیح کی خدمت کو رَد کر دیا تھا۔
- سامریہ وہ بنجر زمین تھی جہاں پر ناپاک دونسلے سامری رہتے تھے۔
- بیرونی دُنیا یعنی زمین کی انتہا تک کے علاقوں میں وہ غیر قومیں آباد تھیں جنہیں اُس دور کے یہودی لوگ جہنم کے ایندھن سے بڑھکر کچھ اور خیال نہیں کرتے تھے۔
- اِس کے باوجود خُدا چاہتا تھا کہ وہ اِن سبھی جگہوں پر اپنے گواہ بھیجے ؛ اور رُوح القدس اُنہیں اِس خدمت کے لیے قوت بخشنے والا تھا۔
- اُن وقتوں اور میعادوں کا جاننا۔۔۔تمہارا کام نہیں : خُداوند خُداوند یسوع نے اپنے اُن شاگردوں کو خبردار کیا کہ وہ خُدا کی بادشاہت کے مختلف پہلوؤں کے وقتوں اور میعادوں کے بارے میں اپنے طور پر جاننے کی کوشش نہ کریں کیونکہ اُن چیزوں کا مکمل طور پر تعلق خُدا باپ کے ساتھ ہے (جنہیں باپ نے اپنے ہی اختیار میں رکھا ہے)۔
-
(11-9آیات) خُداوند یسوع آسمان پر اُٹھا لیا جاتا ہے
یہ کہہ کر وہ اُن کے دیکھتے دیکھتے اُوپر اٹھالیا گیا اور بدلی نے اُسے اُن کی نظروں سے چھپالیا ۔اور اُس کے جاتے وقت جب وہ آسمان کی طرف غور سے دیکھ رہے تھے تو دیکھو دو مرد سفید پوشاک پہنے اُن کے پاس آکھڑے ہوئے ۔ اور کہنے لگے اے گلیلی مردو ۔ تم کیوں کھڑے آسمان کی طرف دیکھتے ہو؟ یہی یسوع جو تمہارے پاس سے آسمان پر اُٹھایا گیا ہے اسی طرح پھر آئے گا جس طرح تم نے اُسے آسمان پر جاتے دیکھا ہے ۔
- وہ ۔۔۔ اُوپر اٹھالیا گیا اور بدلی نے اُسے اُن کی نظروں سے چھپالیا : جب خُداوند یسوع نے اُنہیں برکت دی تووہ اُن سے جُدا ہو گیا اور آسمان پر اُٹھا لیا گیا (لوقا 24باب50آیت)۔ جب وہ بدلی کی بدولت اُن کی نظروں سے اوجھل ہو گیا تو اِس کے باوجود شاگردوں نے اوپر کی طرف دیکھنا جاری رکھا۔
- وہ بدلی جس نے خُداوند یسوع کو چھپا لیا تھا اُس کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ جلال کی بدلی ہے (جسے شیکائنا کہا جاتا ہے) جو پرانے اور نئے عہد نامے کے اندر خُدا کی حضوری کے ساتھ منسلک ہے۔
- اُس کے جاتے وقت جب وہ آسمان کی طرف غور سے دیکھ رہے تھے : خُداوند یسوع کے لیے اپنے شاگردوں کو اِس انداز سے چھوڑ کر جانا ضروری تھا۔ دیکھا جائے تو وہ یقینی طور پر محض غائب ہو سکتا تھا اور ایک خفیہ طریقے سے اپنے باپ کی حضوری میں جا سکتا تھا۔ لیکن اِس طرح آسمان پر اُٹھائے جانے کی بدولت خُداوند یسوع چاہتا تھا کہ اُس کے شاگرد جانیں کہ وہ ہمیشہ ہمیشہ کے لیے چلا گیا ہے، اور اُس کا یوں جانا اُس کے مُردوں میں سے جی اُٹھنے کے بعد شاگردوں پر ظاہر ہونے اور پھر غائب ہو جانے جیسا ہرگز نہیں ہے۔
- یوحنا 16باب7آیت میں مرقوم خُداوند یسوع کے اُن الفاظ کو یاد رکھیں جو اُس نے اپنے شاگردوں سے کہے تھے کہ :”لیکن مَیں تم سے سچ کہتاہوں کہ میرا جانا تمہارے لئے فائدہ مند ہے کیونکہ اگر مَیں نہ جاؤں تو وہ مددگار تمہارے پاس نہ آئے گا لیکن اگر جاؤں گا تو اُسے تمہارے پاس بھیج دُوں گا۔” اب شاگرد یقینی طور پر جان سکتے تھے کہ خُداوند یسوع کا وہ وعدہ پورا ہونے جا رہا تھا۔ رُوح القدس آ رہا تھا کیونکہ خُداوند یسوع نے اپنے جانے سے پہلے رُوح القدس کے آنے کے بارے میں وعدہ کیا تھا۔
- تم کیوں کھڑے آسمان کی طرف دیکھتے ہو؟: دو مَرد (ظاہری طور پر فرشتے) وہاں پر ظاہر ہوئے اور اُنہوں نے شاگردوں کو بتایا کہ وہ اپنی توجہ درست جگہ (خُداوند یسوع کی طرف سے یروشلیم کی طرف لوٹنے کے حکم ) پر لگائیں، نہ کہ اِس بات پر حیران ہونے پر کہ خُداوند یسوع کہاں چلا گیا ہےا ور وہ کیسے گیا ہے۔ خُداوند یسوع نے اُنہیں زمین کی انتہا تک جانے کے بارے میں کہا تھا اور وہ وہاں پر کھڑے آسمان کی طرف دیکھتے تھے۔
- مورگن قیاس آرائی کرتا ہے کہ وہ دو مرد ممکنہ طو رپر موسیٰ اور ایلیاہ تھے۔ لیکن اُن دو مردوں کو فرشتوں کے طور پر بیان کرنا زیادہ موضوع لگتا ہے۔
- یہی یسوع : یہ بہت ہی جلالی الفاظ ہیں۔ یہ الفاظ ہمیں یاد دلاتے ہیں کہ وہ خُداوند یسوع جو آسمان پر اُٹھایا گیا اور خُداباپ کی دہنی طرف بیٹھا ہوا ہے وہ یہی خُداوند یسوع ہے جسے اناجیل پیش کرتی ہیں۔ وہ محبت، فضل، بھلائی ، حکمت اور پرواہ کا یہی خُداوند یسوع ہے۔
- اِسی طرح پھر آئے گا جس طرح تم نے اُسے آسمان پر جاتے دیکھا ہے : جس طرح سے خُداوند یسوع گیا ہے اُسی طرح سے وہ واپس بھی آئے گا۔
- وہ جسمانی طور پر آسمان پر گیا ہے اور اِسی طرح پھر آئے گا
- وہ سب کی نظروں کے سامنے آسمان پر گیا ہے اور اِسی طرح پھر آئے گا
- وہ زیتون کے پہاڑ پر سے آسمان پر گیا ہے اور اِسی طرح پھر آئے گا
- وہ اپنے شاگردوں کی موجودگی میں آسمان پر گیا ہے اور اِسی طرح پھر آئے گا
- وہ اپنی کلیسیا کو برکت دیتے ہوئے آسمان پر گیا ہے اور اِسی طرح پھر آئے گا۔
- وہ ۔۔۔ اُوپر اٹھالیا گیا اور بدلی نے اُسے اُن کی نظروں سے چھپالیا : جب خُداوند یسوع نے اُنہیں برکت دی تووہ اُن سے جُدا ہو گیا اور آسمان پر اُٹھا لیا گیا (لوقا 24باب50آیت)۔ جب وہ بدلی کی بدولت اُن کی نظروں سے اوجھل ہو گیا تو اِس کے باوجود شاگردوں نے اوپر کی طرف دیکھنا جاری رکھا۔
-
- ج:یہوداہ کی جگہ پر متیاہ کی تقرری کی جاتی ہے۔
-
-
(14-12 آیات) خُداوند یسوع کے پیروکار یروشلیم کو واپس آتے ہیں۔
تب وہ اُس پہاڑ سے جو زیتون کا کہلاتا ہے اور یروشلیم کے نزدیک سبت کی منزل کے فاصلہ پر ہے یروشلیم کو پھر ے ۔اور جب اُس میں داخل ہوئے تو اُس بالاخانہ پر چڑھے جس میں وہ یعنی پطرس اور یوحنا اور یعقوب اور اندریاس اور فلپس اور توما اور برتلمائی اور متی اور حلفئی کا بیٹا یعقوب اور شمعون زیلوتیس اور یعقوب کا بیٹا یہوداہ رہتے تھے ۔ یہ سب کے سب چند عورتوں اور یسوع کی ماں مریم اور اُس کے بھائیوں کے ساتھ ایک دِل ہوکر دعا میں مشغول رہے ۔
- تب وہ ۔۔۔یروشلیم کو پھر ے : یہ قابلِ ذکر تابعداری تھی۔ خُداوند یسوع نے اُنہیں بتایا تھا کہ وہ یروشلیم کو جائیں اور رُوح القدس کے نازل ہونے کا انتطار کریں (اعمال 1باب4آیت) اور یہی کچھ اُنہوں نے کیا تھا۔ اُنہوں نے پیغام کو سننے کے کچھ ہی دیر بعد اُسے بُھلا نہیں دیا تھا، بلکہ اُنہوں نے بالکل وہی کچھ کیا تھا جو خُداوند یسوع نے اُنہیں کرنے کو کہا تھا حالانکہ وہ اب جسمانی طور پر اُن کے ساتھ موجود نہیں تھا۔
- سبت کی منزل کے فاصلہ پر : زیتون کا پہاڑ قدیم یروشلیم سے باہر تھوڑے فاصلے پر تھا۔ یہ الفاظ ایک مختصر سے فاصلے کی طرف اشارہ کرتے ہیں، وہ فاصلہ جسے طے کرنے کی سبت کے دن اجازت تھی۔
- جب اُس میں داخل ہوئے تو اُس بالاخانہ پر چڑھے : اعمال 1باب15آیت ہمیں بتاتی ہے کہ اُس کمرے میں قریباً 120 لوگ موجود تھے۔ اِن میں گیارہ شاگرد تھے(بارہ رسولوں میں سے یہوداہ اسکریوتی نکل چکا تھا)؛ خُداوند یسوع کی ماں مریم، خُداوند یسوع کے بھائی (جیسے کہ یعقوب اور یہوداہ)، وہ عورتیں جو خُداوند یسوع کے پیچھے پیچھے جاتی تھیں اور مزید کچھ اور لوگ بھی شامل تھے۔
- خُداوند یسوع کی موت اور جی اُٹھنے سے پہلے اُس کے بھائی کبھی بھی اُس کی خدمت میں اُس کے حامی نہیں نظر آئے تھے (یوحنا 7 باب5آیت، مرقس 3باب21آیت)۔ لیکن مُردوں میں سے جی اُٹھے خُداوند یسوع سے ملنے کے بعد وہ اُس کے سچے پیروکاروں میں تبدیل ہو گئے تھے۔
- کیلون چند عورتوں کی تفسیر اُن کی بیویوں کے طور پر کرتا ہے ، اور اُس کے مطابق یہ رسولوں کی بیویوں کی طرف اشارہ ہے۔
- یہ سب کے سب ۔۔۔ساتھ ایک دِل ہوکر :یہ قابلِ غور اتحاد ہے۔ جب ہم اِن شاگردوں کو اناجیل میں دیکھتے ہیں تو وہ ہمیشہ ہی آپس میں لڑتے رہتے اور بے وجہ غیر اہم باتوں پر بحث کرتے رہتے تھے۔ ابھی کیا تبدیلی آئی تھی؟پطرس کی زندگی میں خُداوند یسوع کا انکار کرنے کی تاریخ اور یادیں ابھی تازہ تھیں، متی ایک محصول لینے والا تھا، شمعون زیلوتیس ابھی تک کٹر اور جوشیلا تھا۔ اُن کی شخصیات میں پائے جانے والے سبھی فرق وہیں کہ وہیں موجود تھے لیکن اُن کے دِلوں میں بسنے والا جی اُٹھا مسیح اُن میں پائے جانے والے کسی بھی فرق سے بڑا تھا۔
- یہ سب کے سب۔۔۔ایک دِل ہوکر دعا میں مشغول رہے : یہ دُعا بھی قابلِ غور تھی۔ وہ سب کے سب دُعا کرتے تھے، اور وہ دُعا میں مشغول رہے۔ انگریزی ترجمے میں دُعا کے ساتھ دوسرا لفظ supplication بھی استعمال ہوا ہے جس کے معنی التجا یا التماس کرنا ہیں۔ یہاں پر التجا اور التماس کا تصور بیتابی اور آرزومندی کے ساتھ دُعا کرنے کا مفہوم پیش کرتا ہے۔
- اب تک ہم نے خُدا پرستی کیساتھ فیصلے کرنے کے تین اہم درجات کو دیکھ لیا ہے: شاگرد خُدا کی تابعداری میں تھے، وہ باہمی طور پر رفاقت میں تھے اور وہ سب دُعا میں مشغول تھے۔
-
(20-15آیات) پطرس یہوداہ کی جگہ پر کسی اور کو مقرر کرنے کی تجویز پیش کرتا ہے۔
-
اور اُنہی دنوں پطرس بھائیوں میں جو تخمیناً ایک سوبیس شخصوں کی جماعت تھی کھڑا ہوکر کہنے لگا ۔ اے بھائیو اُس نوشتہ کا پورا ہونا ضرور تھا جو رُوح القدس نے داؤد کی زبانی اُس یہوداہ کے حق میں پہلے سے کہا تھا جو یسوع کے پکڑنے والوں کا رہنما ہؤا ۔ کیونکہ وہ ہم میں شمار کیا گیا اور اُس نے اِس خدمت کا حصہ پایا ۔ اُس نے بدکاری کی کمائی سے ایک کھیت حاصل کیا اور سر کے بل گرا اور اُسکا پیٹ پھٹ گیا اور اُس کی سب انتڑیاں نکل پڑیں۔اور یہ یروشلیم کے سب رہنے والوں کو معلوم ہوا ۔ یہاں تک کہ اُس کھیت کا نام اُن کی زبان میں ہقل دما پڑگیا یعنی خون کا کھیت ۔ کیونکہ زبُور میں لکھا ہے کہ اُس کا گھر اُجڑ جائے اور اُس میں کوئی بسنے والا نہ رہے اور اُس کا عہدہ دوسرا لے لے ۔
-
-
- پطرس بھائیوں میں ۔۔۔ کھڑا ہوکر کہنے لگا :یہاں پر پطرس نے دوسرے سبھی شاگردوں کے درمیان فطری قیادتی کردار اپنایا۔ پطرس کو رسولوں کے پہلے گروہ کے قائد کے طور پر دیکھنے میں کچھ بھی غلط نہیں ہے، حتیٰ کہ خُداوند یسوع کی زمینی خدمت کے دوران بھی پطرس شاگردوں کے درمیان ایک ترجمان کا کردار نبھاتا رہا تھا
- بہرحال یہ تصور کہ پطرس کا یہ اختیار سب سے بالا تھا اور یہ کہ اُس نے اپنا یہ اختیار جانشینی کے ایک نہ ٹوٹنے والے سلسلے کے سپرد کیا تھا بالکل غیر بائبلی ہے۔
- اے بھائیو اُس نوشتہ کا پورا ہونا ضرور تھا : پطرس کے اِن الفاظ میں وہ حکمت نظر آتی ہے جو ہم نے اِس سے پہلے اُس کی باتوں میں نہیں دیکھی تھی۔ اِس نے اِس بات پر توجہ مرکوز کرتے ہوئے بات کا آغاز کیا کہ یہوداہ اسکریوتی نے خُدا کے منصوبے کو خراب نہیں کیا بلکہ اُس کے ایسا کرنے سے خُدا کا منصوبہ پورا ہو گیا ہے (اُس نوشتہ کا پورا ہونا ضرور تھا) یہ ایک ایسی چیز ہے جسے ساری بُرائی کے نتائج کو دیکھنے کے بعد ایک عقلمند اور رُوحانی طور پر بالغ شاگرد ہی دیکھ سکتا تھا۔
- سر کے بل گرا اور اُسکا پیٹ پھٹ گیا اور اُس کی سب انتڑیاں نکل پڑیں : لوقا کی طرف سے لکھا گیا یہ تاریخی بیان ہماری توجہ اِس بات کی طرف مبذول کرواتا ہے کہ یہوداہ اسکریوتی کس طرح مرا تھا۔ متی 27باب 5 آیت بیان کرتی ہے کہ یہوداہ نے اپنے آپ کو پھانسی دی۔ لیکن ظاہر یہ ہوتا ہے کہ وہ اپنی اُس کوشش میں کامیاب نہ ہوا اور گر پڑااور اُس درخت پر لگے پھندے میں سے خون کے کھیت میں گرنے کی وجہ سے وہ ہلاک ہوا تھا۔
- یہ تمہارے گناہ کا کھیت تھاصرف اِس لیے نہیں کہ یہوداہ نے اُس کھیت میں اپنا خون بہایا تھا بلکہ اِس لیے بھی کہ اُس کھیت کو “خون کی قیمت” کے روپوں سے خریدا گیا تھا جو یہوداہ کو خُداوند یسوع مسیح کودھوکا دینے اور پکڑوانے کے لیے دئیے گئے تھے۔
- کیونکہ ۔۔۔ لکھا ہے : پطرس نے دو مختلف زبوروں میں سے حوالہ دیتے ہوئے اُن پر ظاہر کیا کہ کیوں خُدا چاہتا ہے کہ وہ یہوداہ کی جگہ پر ایک اور شاگرد کا چناؤ کریں۔
- یہ خُدا کے کلام پر قابلِ غور بھروسہ اور انحصار تھا۔ یہاں پر انسانی حکمت کام نہیں کر رہی تھی بلکہ کلامِ مُقدس میں ظاہر ہونے والا ایک اصول سرگرمِ عمل تھا۔ مزید برآں نئے عہد نامے میں یہ پہلا موقع ہے جب ہم پطرس کو کلامِ مُقدس کا حوالہ پیش کرتے ہوئے دیکھتے ہیں۔
- اُس کا گھر اُجڑ جائے :یہاں جن زبوروں کا حوالہ دیا جا رہا ہے اُن کا مصنف داؤد اچھی طرح جانتا تھا کہ کسی دوسرے انسان سے دھوکا کھانے کے بعد کیسا محسوس ہوتا ہے۔ جب داؤد ساؤل سے جان بچانے کے لیے بھاگا بھاگا پھر رہا تھا تو اُس وقت دوئیگ نامی ایک آدمی نے اُسے دھوکا دیا تھا (1 سموئیل 21-22 ابواب) اور اُس کے نتیجے میں بہت سارے بے گناہ لوگ مارے گئے تھے۔ عین ممکن ہے کہ داؤد نے یہ الفاظ اُس دھوکے کو یاد کرتے ہوئے لکھے تھے جو اُس کے ساتھ ہوا تھا۔
- اُس کا عہدہ دوسرا لے لے : جب داؤد کو دھوکا دیا گیا تھا تو اُس کی یہ خواہش تھی کہ اُس کو دھوکا دینے والے کا گھر اجڑ جائے اور اُس کا عہدہ دوسرا لے لے۔ اب یہ سمجھنا مشکل نہیں تھا کہ ابنِ داؤد – خُداوند یسوع مسیح جس کی ذات کی تصویر کشی داؤد نے خود کئی ایک جگہوں پر کی تھی – خود کو دھوکا دئیے جانے کے وقت پر شاید ایسا ہی کچھ محسوس کر رہا تھا۔
- یہ خُدا کی مرضی کے لیے ایک قابلِ غور خواہش تھی۔ کلام کے جس حصے کا یہاں پر حوالہ دیا گیا ہے اُس میں بیان کردہ اصول کی روشنی میں وہ یہوداہ کی جگہ پر کسی دوسرے شاگرد کو چننا چاہتے تھے، اِس لیے نہیں کہ وہ خود ایسا چاہتے تھے بلکہ اِس لیے کہ اُن کے ایمان کے مطابق یہ خُداوند یسوع مسیح کی مرضی اور خواہش تھی۔
- پطرس بھائیوں میں ۔۔۔ کھڑا ہوکر کہنے لگا :یہاں پر پطرس نے دوسرے سبھی شاگردوں کے درمیان فطری قیادتی کردار اپنایا۔ پطرس کو رسولوں کے پہلے گروہ کے قائد کے طور پر دیکھنے میں کچھ بھی غلط نہیں ہے، حتیٰ کہ خُداوند یسوع کی زمینی خدمت کے دوران بھی پطرس شاگردوں کے درمیان ایک ترجمان کا کردار نبھاتا رہا تھا
-
(23-21آیات) اہلیت و قابلیت کا بیان کیا جاتا ہے اور دو لوگوں کو نامزد کیا جاتا ہے۔
-
پس جتنے عرصہ تک خُداوند یسوع ہمارے ساتھ آتا رہا یعنی یوحنا کے بپتسمہ سے لے کر خدا وند کے ہمارے پاس سے اُٹھائے جانے تک جو برابر ہمارے ساتھ رہے ۔ چاہئے کہ اُن میں سے ایک مرد ہمارے ساتھ اُس کے جی اُٹھنے کا گواہ بنے ۔ پھر اُنہوں نے دو کو پیش کیا ۔ ایک یوسف کو جو برسبا کہلاتا اور جس کا لقب یوستس ہے ۔ دوسرا متیاہ کو
-
-
- چاہئے کہ اُن میں سے ایک مرد ہمارے ساتھ ۔۔۔ گواہ بنے : شاگرد ایسا کوئی فیصلہ لینے کے لیے کافی بہادری کا مظاہرہ کرتے ہیں کیونکہ خُدا کے کلام کی روشنی میں وہ جانتے تھے کہ خُدا بھی یہی چاہتا ہے۔ اِس وقت تک رسولوں نے اپنے اوپر رُوح القدس کے انڈیلے جانے کا تجربہ نہیں کیا تھا، یہ ابھی مستقبل میں ہونا تھا۔ لیکن خُدا نے اُنہیں ہدایت کے بغیر نہیں چھوڑا تھا۔ وہ خُدا کے کلام کی مدد سے جانتے تھے کہ اُنہیں کیا کرنا ہے۔
- یقینی طور پر اگر ہمیں یہ محسوس ہو رہا ہے کہ رُوح القدس ہمیں کچھ کرنے کی تحریک دے رہا ہے تو اِس کے باوجود ہمارے پاس خُدا کی آواز اُس کے حتمی اور ہمیشہ قائم کلامِ مُقدس کی صورت میں موجود ہے۔ رُوح القدس کی طر ف سے ملنے والی کسی بھی طرح کی کوئی رہنمائی کبھی بھی اُس کلام کے خلاف نہیں ہوگی جو ہمارے پاس تحریری صورت میں موجود ہے۔
- جو برابر ہمارے ساتھ رہے : جو کوئی بھی یہوداہ اسکریوتی کی جگہ پر شاگرد بنتا اُس کے لیے ضروری تھا کہ وہ یوحنا سے بپتسمہ لینے کے دِنوں کے دوران، خُداوند یسوع کی زمینی خدمت کے دوران اور جی اُٹھے مسیح کو دیکھنے اور اُس کے آسمان پر اُٹھائے جانے کے واقعے کے دوران برابر اُن کے ساتھ ساتھ رہا ہو۔
- ہمارے پاس اِس بات کا کوئی ثبوت نہیں ہے کہ اہلیت کے اِس معیار کو اُنہوں نے کلامِ مُقدس میں سے دریافت کیا تھا یا رُوح القدس کی خاص رہنمائی سے وہ اِس اہلیت کی ضرورت کے بارے میں جان پائے تھے۔ ہم یہاں پر بس یہ کہہ سکتے ہیں کہ اُنہوں نے تقدیس شدہ اپنی عقلِ سلیم کا استعمال کیا۔ یہوداہ کی جگہ پر خُداوند یسوع کے شاگرد کا عہدہ سنبھالنے والے کے لیے منطق اور عقلِ سلیم کی روشنی میں اِس تقاضے کو پورا کرنا بالکل بجا تھا۔
- اُن کی عقلِ سلیم تقدیس شدہ تھی کیونکہ یہ بات اُن کے ذہن میں اُس وقت آئی جب وہ خُدا کی تابعداری ، رفاقت، دُعا اور خُدا کے کلام میں ہوتے ہوئے خُدا کی مرضی کو پورا کرنے کے خواہشمند تھے۔
- عقلِ سلیم کا یوں تقدیس شُدہ ہونا قابلِ غور ہے۔ اِس نے اُنہیں ہر ایک چیز کا جواب نہیں دیا لیکن اُس نے دو لوگوں کی نشاندہی ضرور کی۔
- چاہئے کہ اُن میں سے ایک مرد ہمارے ساتھ اُس کے جی اُٹھنے کا گواہ بنے :جو بھی شخص یہوداہ کی جگہ پر اِس عہدے کو سنبھالتا اُس کے سبھی کاموں میں سے اہم ترین یہی والا کام تھا۔ اب جب کہ خُداوند یسوع آسمان پر جا رہا تھا تو اُس کے جی اُٹھنے کے گواہ کی ضرورت پہلے کی نسبت بہت زیادہ ہو گئی تھی۔
- ہم سب بھی رسولوں کی گواہی کا اعلان کرنے کے وسیلے اور اِس بات کی گواہی دینے کے وسیلے کہ جی اُٹھا مسیح ہماری زندگیوں کے اندر اور ہماری زندگیوں کے وسیلے کام کرتا ہے اُس کے جی اُٹھنے کے گواہ بن سکتے ہیں۔
- چاہئے کہ اُن میں سے ایک مرد ہمارے ساتھ ۔۔۔ گواہ بنے : شاگرد ایسا کوئی فیصلہ لینے کے لیے کافی بہادری کا مظاہرہ کرتے ہیں کیونکہ خُدا کے کلام کی روشنی میں وہ جانتے تھے کہ خُدا بھی یہی چاہتا ہے۔ اِس وقت تک رسولوں نے اپنے اوپر رُوح القدس کے انڈیلے جانے کا تجربہ نہیں کیا تھا، یہ ابھی مستقبل میں ہونا تھا۔ لیکن خُدا نے اُنہیں ہدایت کے بغیر نہیں چھوڑا تھا۔ وہ خُدا کے کلام کی مدد سے جانتے تھے کہ اُنہیں کیا کرنا ہے۔
-
(26-24آیات) شاگرد دُعا کرتے ہیں اور یہوداہ کی جگہ پر کسی کے انتخاب کے لیے قرعہ ڈالتے ہیں۔
-
اور یہ کہہ کر دُعا کی کہ اے خدا وند ۔ تو جو سب کے دِلوں کی جانتا ہے۔ یہ ظاہر کرکہ اِن دونوں میں سے تو نے کس کو چنا ہے ۔کہ وہ اِس خدمت اور رسالت کی جگہ لے جسے یہوداہ چھوڑ کر اپنی جگہ گیا ۔ پھر اُنہوں نے اُن کے بارے میں قرعہ ڈالا اور قرعہ متیاہ کے نام کا نکلا ۔ پس وہ اُن گیارہ رسولوں کے ساتھ شمار ہوا ۔
-
- اور ۔۔۔دُعا کی :اُنہوں نے پہلے دُعا کی اور اُن کے لیے دُعا کرنا آسان تھا کیونکہ وہ پہلے بھی دُعا کی حالت میں تھے (اعمال 1باب14آیت)
- یہ ایسا کام کرنے کا قابلِ غور طریقہ ہے جو کسی بھی ایسی حالت میں خُداوند یسوع کرتا۔ ہمیں یاد ہے کہ جب خُداوند یسوع نے اپنے شاگردوں کو چُنا تو اُس نے دُعا کی (لوقا 6باب12-13آیات)۔ یہاں پر شاگردوں نے یسو ع کی ہی پیروی کرتے ہوئے حکمت کے لیے دُعا کی تاکہ وہ جان سکیں کہ خُداوند کسے اُن میں شامل کرے گا۔
- پھر اُنہوں نے۔۔۔قرعہ ڈالا : قرعہ ڈالنے کے عمل میں عام طور پر پانسہ پھینکا جاتا تھا یا مختلف چیزوں کے بارے میں چناؤ کے لیے ہاتھ میں کچھ تنکے یا لکڑیاں پکڑ کر اُن میں سے چند ایک یا صرف ایک تنکے کو کھینچا جاتا تھا اور پھر اُس کی روشنی میں فیصلہ کیا جاتا تھا۔ بہت سارے لوگوں نے شاگردوں کی طرف سے اِن دو لوگوں میں سے ایک کے چناؤ کے لیے اپنائے گئے طریقے پر سوال اُٹھایا ہے؛ ایسا لگتا ہے کہ جیسے اِن سارے حیرت انگیز رُوحانی اقدام کے بعد اُن کے سارے عمل کا اختتام پانسہ پھینکنے یا تنکوں کے ذریعہ قرعہ ڈالنے کے ذریعے سے ہوا۔ پس یہ پوچھنا بالکل بجا ہے کہ ، “کیا یہ ایک رُسول کو چننے کا درست طریقہ ہے؟”
- بہرحال یہ خُدا پر قابلِ غور بھروسہ تھا۔ اگرچہ وہ ابھی تک رُوح القدس سے نہیں بھرے تھے، وہ جلد ہی رُوح سے معمور ہونے والے تھے، لیکن اِس کے باوجود وہ کوئی ایسا طریقہ اپنانا چاہتے تھے جس میں وہ اپنی بجائے زیادہ سے زیادہ انحصار خُدا کی ذات پر کریں۔ غالباً امثال 16باب 33 آیت اُن کے ذہن میں تھی: “قُرعہ گود میں ڈالا جاتا ہے پر اُس کا سارا اِنتظام خُداوند کی طرف سے ہے۔”
- ممکن ہے کہ قرعہ ڈالنا خُدا کی مرضی کو جاننے کا ایک ناکامل طریقہ ہو، لیکن یہ اُن بہت سارے طریقوں سے کافی بہتر ہے جنہیں آجکل بہت سارے مسیحی استعمال کرتے ہیں – یعنی اپنے جذبات پر انحصار کرنا، اپنے حالات یا احساسات یا نفسانی خواہشات وغیرہ پر انحصار کرنا۔
- قرعہ متیاہ کے نام کا نکلا : کچھ لوگ اِس بات پر اصرار کرتے ہیں کہ متیاہ ایک غلط انتخاب تھا اور قرعہ ڈالنے کے ذریعے سے ایک رسول کو چننے کا فیصلہ درست نہیں تھا۔ اور یہ تصور پیش کیا جاتا ہے کہ اگر اُس عہدے کو خالی رہنے دیا جاتا تو اُس کے لیے خُدا بالآخر پولس کو چن لیتا۔ لیکن ہمیں کلامِ مُقدس کی گواہی کی عزت کرنی چاہیے۔ خُدا نہیں چاہتا تھا کہ وہ عہدہ خالی رہتا۔ اگر وہ عہدہ خالی رہتا تو شاید اُسے شیطان کی فتح کے طور پر دیکھا جاتا، کہ خُداوند یسوع نے تو بارہ شاگردوں کو چُنا اور اُن میں سے ایک کم ہو گیا ، پس شیطان نے خُداوند یسوع کی 12 شاگرد رکھنے کی خواہش کو ناکام بنا دیا۔
- اگرچہ ہم متیاہ کے بارے میں مزید کچھ بھی نہیں پڑھتے ، لیکن ہمیں یہ قیاس آرائی نہیں کرنی چاہیےکہ بطورِ رسول وہ ایک ناکام شخص تھا۔ پطرس اور یوحنا کے علاوہ باقی اصل رسولوں کا اعمال 1 باب کے بعد کہیں پر کبھی ذکر نہیں کیا گیا۔ اگر کہا جائے کہ متیاہ ناکام تھا تو وہ بھی غالباً اُسی قدر ناکام تھاجس قدر متی یا اندریاس یا توما یا دوسرا کوئی بھی رسول کہیں نہ کہیں ناکام رہا ہوگا۔
- اور جہاں پر پولس کی بات ہے تو وہ واضح طور پر اپنے آپ کو رسول خیال کرتا تھا، لیکن ایسا رسول جو ادھورے دِنوں کی پیدایش تھا (1 کرنتھیوں 15باب 8آیت)۔ اور ہمیں کہیں پر بھی یہ نہیں لگتا کہ اُسے متیاہ کے بطورِ شاگرد چناؤ پر کبھی کوئی اعتراض تھا۔
- مکاشفہ 21باب14آیت ایک بہت ہی دلچسپ سوال کو سامنے لاتی ہے۔ یہ ہمیں بتاتی ہے کہ نئے یروشلیم کی شہر پناہ کی 12 بنیادیں ہیں اور اُن پر برّہ کے بارہ رسولوں کے نام لکھے ہوئے ہیں۔ جب ہم آسمان پر پہنچتے ہیں تو ہمارے لیے اِس بات کو دیکھنا کافی دلچسپ ہوگا کہ برّہ کا بارہواں رسول پولس ہے یا متیاہ۔
- پس وہ اُن گیارہ رسولوں کے ساتھ شمار ہوا : قرعہ ڈالنے سے پہلے اُنہوں نے جتنے کام بھی کئے اُس میں کوئی بھی شخص غلطی نہیں نکال سکتا۔ ہمیں ایمان رکھنا چاہیے کہ یہ تمام چیزیں اُنہیں اُس مقام تک لے کر گئیں جہاں خُدا یقینی طور پر اُس چناؤ میں اُنکی رہنمائی کرتا۔
- اگر ہم بھی وہ سب چیزیں کریں جو شاگردوں نے بڑے فیصلے کرنے سے پہلے کیں تو ہم کبھی غلط فیصلے نہیں کریں گے۔
- شاگردوں نے تابعداری کی۔
- شاگرد باہمی طور پر اتحاد اور رفاقت میں تھے۔
- شاگرد دُعا میں ٹھہرے ہوئے تھے۔
- شاگرد کلام پر غور کر رہے تھے۔
- شاگرد خُدا کی مرضی کو پورا کرنا چاہتے تھے۔
- شاگردوں نے تقدیس شُدہ عقلِ سلیم کا استعمال کیا۔
- شاگردوں نے وہی کچھ کیا جو خُداوند یسوع کرتا۔
- شاگردوں نے وہی کچھ کیا جو وہ خُدا پر بھروسہ کرنے کے لیے کر سکتے تھے۔
- اگر ہم بھی وہ سب چیزیں کریں جو شاگردوں نے بڑے فیصلے کرنے سے پہلے کیں تو ہم کبھی غلط فیصلے نہیں کریں گے۔
- اور ۔۔۔دُعا کی :اُنہوں نے پہلے دُعا کی اور اُن کے لیے دُعا کرنا آسان تھا کیونکہ وہ پہلے بھی دُعا کی حالت میں تھے (اعمال 1باب14آیت)
