کرنتھیوں 1 باب:یسوع مسیح، خُدا کی حکمت
الف : سلام اور شکرگزاری
-
(1آیت) یہ خط کس کی طرف سے ہے: رسُول ہونے کے لیے بلائے گئے پولس کی طرف سے۔
پَولُس کی طرف سے جو خُدا کی مرضی سے یسُو ع مسیح کا رسُول ہونے کے لئے بُلایا گیا اور بھائی سوستِھینس کی طرف سے۔
- پَولُس : پَولُس رسول قدیم دور میں خط لکھنے کے معمول کے نمونے کو اپناتا ہے۔ جب ہم کسی کو خط لکھتے ہیں تو ہم ابتدا میں یہ لکھتے ہیں کہ خط کس کو لکھا جا رہا ہے اور خط کا اختتام ہم اُس شخص کے نام کے ساتھ کرتے ہیں جس کی طرف سے خط لکھاجا رہا ہے۔پَولُس رسُول کے قدیم دور میں خط کا آغاز لکھنے والے کے تعارف سے ہوتا تھا، اور پھر اِس کے ساتھ ہی یہ بیان کیا جاتا تھا کہ وہ خط کس کے لیے لکھا جا رہا تھا۔
- پَولُس رسول کے کرنتھس کے ساتھ تعلق کی ایک پرانی اور وسیع تاریخ تھی، جس کا آغاز اُس وقت ہوا جب اتھینے کے دَورےکے بعد وہ کرنتھس میں آیا، ڈیڑھ سال وہاں قیام کیا اور پھر وہاں پر ایک کلیسیا قائم کی (اعمال 18 باب) ۔
- اُس نے کرنتھس میں بسنے والے مسیحیوں کو افسس شہر سے ایک خط لکھا(اعمال 9باب) جس کا ذکر 1 کرنتھیوں 5باب9 آیت میں کیا گیا ہے۔ یہ “پہلے کا لکھا ہوا خط” غالباً کھو چکا ہے۔
- پَولُس کو خلوؔئے کے گھر والوں کی طرف سے یہ خبر پہنچتی ہے کہ کلیسیا میں مسائل چل رہے ہیں(1 کرنتھیوں 1باب11 آیت)؛ اور ممکن ہے کہ پولس سے ملاقات کے لیے کرنتھس کی کلیسیا کی طرف سے ایک وفد بھیجا گیا ہو (1 کرنتھیوں 16باب7 آیت)، جو اُس کلیسیا کی طرف سے مختلف سوالات پولس کے پاس لایا ہو (1 کرنتھیوں 7باب1 آیت)۔
- پھرپَولُس نے اُن خبروں اور سوالوں کا جواب دینے کے لیےکرنتھیوں کے نام یہ پہلا خط تحریر کیا۔ لیکن پَولُس رسول کی طرف سے کرنتھس میں سب سے زیادہ وقت گزارنے اور اُس کی طرف سے کرنتھس کی کلیسیا کو لکھے جانے والے خطوط کی بدولت ہم نئے عہد نامے میں مذکور کسی بھی اور کلیسیا سے زیادہ کرنتھس کی کلیسیا کے بارے میں جانتے ہیں۔
- رسُول ہونے کے لئے بُلایا گیا: خط کے بالکل شروع میں –درحقیقت پہلے چند الفاظ میں ہی –پَولُس بڑی بے خوفی سے اپنے رسُول ہونے کا اعلان کرتا ہے۔ جیسا کہ 1 اور 2 کرنتھس میں ظاہر ہوتا ہے وہاں کی کلیسیا کے اندر پَولُس کے رسولی عہدے اور اختیار کی زیادہ قدر نہیں تھی۔
- رسُول ہونے کے لئے بُلایا گیا کے لغوی معنی ہیں بلایا ہوا رسُول۔ پَولُس اُنہیں بتاتا ہے کہ وہ کس قسم کا رسُول ہے، ایک بلایا ہوا رسُول۔ “پَولُس یہ جانتا ہے کہ وہ بارہ رسولوں میں سے ایک نہیں ہے، لیکن وہ اُن کے برابر ہے کیونکہ اُنہی کی طرح وہ خُدا کی طرف سے چُنا گیا ہے۔”(روبرٹسن)
- خُدا کی مرضی سے یسُو ع مسیح کا رسُول ہونے کے لئے بُلایا گیا : اِن الفاظ کے ساتھ پولس اپنے نکتے پر زور دیتا ہے ، اور ایک طرح سے وہ کرنتھس کی کلیسیا کے ساتھ جانفشانی کی ایک کشمکش میں داخل ہوتا ہے۔ یہ ایسا ہے جیسے کہ وہ کہہ رہا ہو کہ ، “شاید تم سب میرے رسُولی عہدے کو نہیں مانتے، یہ بات میرے لیے بہت کم اہمیت رکھتی ہے، کیونکہ مَیں مقبولیت کی بناء پر چناؤ کی بدولت ایک رسُول نہیں بنا۔ مَیں دیگر رسُولوں کی طرف سے کسی تقرری کی وجہ سے رسُول نہیں بنا ۔ مَیں خُدا کی مرضی سے یسُو ع مسیح کا رسُول ہونے کے لئے بُلایا گیا ہوں، نہ کہ کسی انسان کی مرضی سے۔”
- یسُو ع مسیح کا رسُول کیا ہے؟1 کرنتھیوں 15باب میں پَولُس اِس بارے میں زیادہ جامع انداز سے بات کرتا ہے کہ کونسی چیز کسی شخص کو ایک رسُول بناتی ہے۔ تاہم، ہم قدیم یونانی کے لفظ “اپوس ٹولوس/apostolos”کے معنی سے کچھ سیکھتے ہیں جو کہ ایک “سفیر/ایلچی” کا تصور پیش کرتا ہے۔ پَولُس دُنیا اور کلیسیا کے لیے یسوع مسیح کا ایک “خصوصی سفیر/ایلچی” تھا۔
- حتیٰ کے تعارف میں ہی پولس اہم مسائل کے بارے میں سوچتا ہے جن کے بارے میں کرنتھس کی کلیسیا کے ساتھ بات چیت کرنے کی ضرورت ہے۔ پَولُس نے اپنے اُس خط کے بارے میں بہت زیادہ احتیاط اور غور کے ساتھ سوچا ہوگا۔
- بھائی سوستِھینس: اِس شخص سوستِھینس کا ذکر غالباً اعمال 18باب17 آیت میں عبادت خانہ کے سردار کے طور پر ہوا ہےجسے پَولُس رسول کو بچانے کی وجہ سے پیٹا گیا تھا۔
- جس وقت پولس پہلی دفعہ کرنتھس میں آیا ، اُس وقت عبادت خانہ کا سردار کرسپُس نامی ایک شخص تھا۔ کرسپُس اپنے تمام گھرانے سمیت خُداوند پر ایمان لے آیا (اعمال 18باب8 آیت) اور اُس نے نجات پائی۔ پس یا تو اُسے عبادت خانہ کے سردار کے عہدے سے ہٹا دیا گیا تھا یا پھر اُس نے خود ہی اپنی اُس نوکری کو چھوڑ دیا تھا!
- اُس کی جگہ پر غالباً اِس سوستھِینس نامی شخص کو ذمہ داری دی گئی تھی جسےغالباً رومی حکام اوراُن عام لوگوں کی طرف سے مارا پیٹا گیا تھا جو پَولُس کو ایذا دینا چاہتے تھے۔ غالباً اعمال 18باب17 آیت میں مذکور وہی سوستِھینس اب پَولُس کے ساتھ ہے، پس پَولُس بھائی سوستِھینس کہہ کر یہاں پر اُس کا ذکر تا ہے اور اُس کی طرف توجہ مبذول کرواتا ہے کیونکہ کرنتھس کے لوگ غالباً اُسے اچھی طرح سے جانتے ہونگے۔
- قدیم دُنیا میں عام رواج یہ تھا کہ خط کو کسی دوسرے شخص سے لکھوایا جاتا تھا جو ایک کاتب کے طور پر اُسے قلمبند کرتا تھا۔ عین ممکن ہے کہ جب پَولُس یہ خط لکھوا رہا تھا تو سوستِھینس اُس کا کاتب تھا(یا بجا طور پر کہا جائے تو اُس کا اَملاء نویس تھا)۔
-
(2آیت) خُدا کی اُس کلِیسیا کے نام جو کُرِنتُھس میں ہے۔
خُدا کی اُس کلِیسیا کے نام جو کُرِنتُھس میں ہے یعنی اُن کے نام جو مسیح یِسُو ع میں پاک کئے گئے اور مُقدّس لوگ ہونے کے لئے بُلائے گئے ہیں اور اُن سب کے نام بھی جو ہر جگہ ہمارے اور اپنے خُداوند یِسُو ع مسیح کا نام لیتے ہیں۔
- خُدا کی اُس کلِیسیا کے نام: آجکل کے دور میں زیادہ تر لوگ لفظ کلیسیا /چرچ کو ایک ایسی عمارت کے طور پر دیکھتے ہیں جہاں پر مسیحی عبادت کرتے اور رفاقت رکھتے ہیں۔ لیکن کلیسیا کے لیے استعمال ہونے والا قدیم یونانی لفظ ایکلیزیا(ekklesiai) ایک غیر مذہبی اصطلاح تھی جو لوگوں کی “جماعت/اسمبلی” ، خاص طور پر کسی خاص مقصد کے تحت جمع ہونے والے مجمعے کے لیے استعمال ہوتی تھی۔
- “اِس یونانی لفظ کے معنی کے یہودی اور غیر یہودی پسِ منظر موجود ہیں۔ غیر یہودی معنوں میں یہ لفظ بنیادی طور پر یونانی شہریوں کے اکٹھے ہونے کی طرف اشارہ کرتا ہے۔۔۔لیکن اِس لفظ کا یہودی استعمال یسوع مسیح کو ماننے والوں کے اکٹھ کی طرف اشارہ کرنے کے لیے ہوتا تھا۔ سپتواجنتا کے اندر یہ لفظ اسرائیل کے لوگوں کو اُن کے مذہبی کردار میں یہواہ کی جماعت کے طور پر بیان کرنے کے لیے بھی استعمال ہوا ہے ۔” (اعمال کی تفسیر میں بروس)۔
- خُدا کی اُس کلِیسیا کی اصطلاح کا تعلق پرانے عہد نامے کے ساتھ بھی ہےبالخصوص سپتواجنتا (پرانے عہد نامے کے یونانی ترجمے) میں۔گنتی 16باب3 آیت، گنتی 20باب4 آیت؛ اِستثنا 23باب1 آیت اور 1 کرنتھیوں 28باب8 آیت جیسے حوالہ جات دیکھئے۔
- کیونکہ کلیسیا ایک عام لا دین اصطلاح تھی (جو” ریاست میں عوامی مفاد کے معاملات پر بحث اور فیصلہ کرنے کے لیے جمع ہونے والے عام لوگوں کی طرف اشارہ کرتی تھی” ] مئیر[)، اِس لیے پولس کرنتھس کے اندر مسیحیوں کی جماعت کے اکٹھ کو خُدا کی کلیسیا کہتا ہے۔ یہ دُنیا کے عام لوگوں کا اجتماع نہیں ہے بلکہ خُدا کے لوگوں کا اجتماع ہے۔
- پَولُس صرف کرنتھس کے ایمانداروں کے لیے ہی خُدا کی کلیسیا کی اصطلاح کا استعمال نہیں کرتا۔ فلسطین کے علاقے میں رہنے والے ایمانداروں کو بھی اِسی انداز سے بیان کیا گیا ہے (1 کرنتھیوں 15باب9 آیت)، اور کسی بھی اور جگہ پر موجود کلیسیا کو بیان کرنے کے لیے بھی اِسی اصطلاح کو استعمال کیا گیا ہے (1 کرنتھیوں 10باب31-32 آیات)۔
- جو کُرِنتُھس میں ہے: کرنتھس قدیم دُنیا کے اندر عظیم شہروں میں سے ایک تھا اورکسی حد تک یہ جنوبی کیلیفورنیا جیسی کمیونٹی تھی۔ یہ خوشحال، مصروف اور ترقی پذیر شہر تھا؛ اِسے لذت پرستی اور عیش و عشرت کی جستجو کی بدولت خاص شہرت حاصل تھی۔ کرنتھس میں کئی قوموں کے لوگ رہتے تھے، اور یہ کھیلوں، سیاست، فوجی طاقت اور کاروبار کا گڑھ تھا۔
- جب پولُس سن 50 عیسوی میں کرنتھس آیا تو یہ شہر اُس کی پیدائش سے سینکڑوں برس پہلے سے ہی مشہور تھا۔ قدیم مصنفین کرنتھس کو “دولتمند، خوشحال… ہمیشہ عظیم اور مالدار” سمجھتے تھے (مئیر) ۔ اگرچہ رومیوں نے 146 قبل مسیح میں کرنتھس کو تباہ کر دیا تھا، لیکن ایک صدی بعد جولیس قیصر نے اس شہر کو دوبارہ تعمیر کیا۔
- کرنتھس کئی چیزوں کی وجہ سے مشہور تھا۔ یہاں کے برتن اور “کرنتھی پیتل” (جو سونے، چاندی اور تانبے کا مرکب تھا) دنیا بھر میں پہچانے جاتے تھے۔ بڑے کھیلوں کے مقابلے، جنہیں اِستھمیائی کھیل کہا جاتا تھا اور جو شہرت میں اولمپک کھیلوں کے بعد دوسرے درجے پر آتے تھے، ہر دو سال بعد پوسیڈون کے مندر میں منعقد ہوتے تھے۔ کرنتھس میں ایتھینا، اپالو، پوسیڈون، ہرمیس، آئسس، سیرپس اور اسکلپیئس سمیت کئی دیوتاؤں کے مندر تھے۔ لیکن سب سے زیادہ مشہورکرنتھی افروڈائٹی(زہرہ دیوی) کی پرستش تھی، جس کے مندر میں ایک ہزار سے زیادہ ہیروڈولوی (غلام عورتیں ، کاہنائیں اور طوائفیں) تھیں جو وہاں خدمت کرتی تھیں۔
- تجارت کا ایک عظیم مرکز تھا، اور اس کی اصل اہمیت اُس کے جغرافیائی محلِ وقوع سے وابستہ تھی۔ یہ ساڑھے چار میل چوڑے ایک تنگ زمینی راستے پر آباد تھا۔ “جہاں یہ زمینی راستہ سب سے زیادہ تنگ تھا، وہاں ایک ہموار راہ گذر بنائی گئی تھی جسے دیولکس کہا جاتا تھا۔ اس پر جہازوں کو رولروں پر رکھ کر ایک بندرگاہ سے دوسری بندرگاہ تک گھسیٹ کر لے جایا جاتا تھا۔ یہ راستہ ہمیشہ استعمال میں رہتا، کیونکہ یوں ملاح یونان کے جنوب مشرقی خطرناک مالیا نامی خوفناک سمندری موڑ کا چکر کاٹنے سے بچ جاتے تھے۔” (وِنسنٹ) دراصل مالیا کے گرد سفر کو اتنا مہلک سمجھا جاتا تھا کہ اس کے بارے میں یہ دو کہاوتیں زبان زدِ عام تھیں: “جو کوئی مالیا کے گرد چکر لگائے، وہ اپنے گھر کو بھول جائے”، اور “جو کوئی مالیا کے گرد سفر کرے، وہ پہلے اپنی وصیت لکھ لے۔” اور اگر کوئی جہاز اس قدر بڑا ہوتا کہ گھسیٹا نہ جا سکتا، تو اس کا مال و اسباب اتار لیا جاتا اورتنگ زمینی راستے کے اُس پار کسی دوسرے جہاز میں لاد دیا جاتا۔
- کرنتھی لوگ دنیا بھر میں شراب نوشی کرنے، جشن منانے اور جنسی بے راہ روی کی وجہ سے مشہور تھے ۔ رومی سلطنت میں “کرنتھیازومائی” کی اصطلاح کافی معروف تھی اور اِس کا لفظی مطلب لیا جاتا تھا “کسی کرنتھی کی طرح جینا” ۔ لیکن سب جانتے تھے کہ اس کا اصل مطلب “جنسی طور پر بے قابو ہونا” ہے۔ ” قدیم یونانی مصنف ایلیان کہتا ہے کہ اگر کبھی کسی کرنتھی کو یونانی ڈرامے میں دکھایا جاتا تو اُسے ہمیشہ نشے میں دکھایا جاتا تھا۔” (بارکلے)
- نئے عہد نامے کے ممتاز مفسر گورڈن ڈی۔ فی نے کرنتھس کی جنسی بے راہ روی پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ: “کرنتھس کے موجودہ عجائب گھر میں موجود ‘ایسکلیپیئس کا کمرہ’ شہر کی زندگی کے اس پہلو کے لیے خاموش گواہی فراہم کرتا ہے؛ یہاں کی ایک دیوار پر انسانی جنسی اعضاء کی متعدد مٹی کی مورتیاں موجود ہیں جو کہ جنسی بیماریوں سے متاثر لوگوں کے لیے اِس دیوتا کی طرف سے شفا کے لیے پیش کی گئی ہیں۔” فی اپنی تجزیے کا خلاصہ کرتے ہوئے لکھتا ہے: “مجموعی طور پر یہ شواہد یہ ظاہر کرتے ہیں کہ پولس کے دَور کا کرنتھس قدیم دنیا کے نیو یارک، لاس اینجلس، اور لاس ویگاس کے مترادف تھا۔” لیون موریس کرنتھس کی وضاحت اس طرح کرتا ہے: “ذہنی طور پر چست، مادّی اعتبار سے خوشحال، لیکن اخلاقی طور پر برباد۔”
- خدا کی اُس کلیسیا کے نام جو کرنتھس میں ہے: تضاد کا مشاہدہ کریں: خدا کی کلیسیا (ایک اچھی چیز) جو کرنتھس میں ہے (ایک بُرے مقام پر)۔ کرنتھیوں کے نام پولس کے پہلے خط کو سمجھنے کے لیے کلیسیا اور شہر کے درمیان کشیدگی کو سمجھنا اہم ہے۔ بنیادی سوال یہ ہے: کیا کلیسیا شہر پر اثر انداز ہو رہی ہے، یا شہر کلیسیا پر اثر انداز ہو رہا ہے؟
- مورگن نے 1 کرنتھیوں کی تفسیر کے تعارف میں بہت اچھے سے کہا ہے کہ : “کلیسیا کی ناکامی کی تصدیق اِس چیز سے کی جا سکتی ہے کہ اُس نے اپنے آپ کو کس حد تک اپنے دَور کی رُوح کےزیر اثر ہونے دیا ہے۔ اس حد تک ہے جس حد تک اُس نے خود کو اپنے دَور کے روح کے اثر میں آنے دیا ہے… آج ہمیں اکثر یہ بتایا جاتا ہے کہ کلیسیا کو سب سے زیادہ جس چیز کی ضرورت ہے وہ یہ ہے کہ وہ اپنے دَور کی رُوح کو اپنائے۔ اِس کا جواب ہے ہزار بار نہیں۔ کلیسیا کو سب سے زیادہ جس چیز کی ضرورت ہے وہ یہ ہے کہ وہ اپنے دَور کی روح کو درست کرے۔”
- یعنی اُن کے نام جو مسیح یِسُو ع میں پاک کئے گئے اور مُقدّس لوگ ہونے کے لِئے بُلائے گئے ہیں: پولس نے کرنتھس کے مسیحیوں کی وضاحت کا سلسلہ جاری رکھا۔ “پاک کئے گئے” اور “مُقدس” جیسے الفاظ ایک ہی خیال کو پیش کرتے ہیں، یعنی دنیا سے الگ اور خدا کے لیے مخصوص کئے گئے۔
- یاد رکھیں کہ “ہونے کے لیے” کے الفاظ مترجمین کی طرف سے شامل کیے گئے ہیں۔ کرنتھیوں کو “مُقدس لوگ” کہا گیا ہے، نہ کہ “مُقدس لوگ ہونے کے لیے”۔
- 1 کرنتھیوں میں بہت سی ایسی چیزیں دیکھنے کو ملتی ہیں جو کرنتھس کے مسیحیوں کے لیے اچھی نہیں ہیں۔ ان کے بارے میں یہ ظاہر ہوتا ہے کہ اکثر ان کے درمیان اخلاقی مسائل، عقیدے کے مسائل، کلیسائی حکومت کے مسائل، روحانی نعمتوں کے مسائل، کلیسائی خدمات کے مسائل، اور اختیار کے مسائل تھے۔ایسے میں ہمارے لیے یہ سوچنا قدرے آسان ہو سکتا ہے کہ وہ تو شاید نجات یافتہ بھی نہیں تھے! لیکن وہ نجات یافتہ تھے۔ انہیں “مُقدس” کہا گیا۔
- ہم یہ بھی سوچ سکتے ہیں کہ اُنہیں “مُقدس” کہنا محض خوشامد ہے، اور یہ پولس کی طرف سے انہیں آنے والی سرزنش کے لیے تیار کرنے کا طریقہ ہے۔لیکن ایسا نہیں ہے۔ کرنتھی مسیحیوں کو “مُقدس” کہا گیا، لیکن یہ کرنتھیوں کی ظاہری کارکردگی کی بنیاد پر نہیں تھا ۔ یہ خدا کے وعدے کی بنیاد پر تھا ، جب اس نے کہا تھا کہ “اِس شہر میں میرے بُہت سے لوگ ہیں۔” (اعمال 18 باب 10 آیت)۔
- جو ہر جگہ ہمارے اور اپنے خُداوند یسوع مسیح کا نام لیتے ہیں: پولس اپنے ابتدائی چند الفاظ میں ایک بنیادی مسئلے کی بنیاد رکھ دیتا ہے جس پر وہ اس خط میں بات کرے گا: یعنی مسیحی اتحاد، جو یسوع مسیح کی مشترکہ بادشاہت پر مبنی ہے۔ کرنتھی مسیحیوں کو “مُقدس” کہا گیا، لیکن یہ صرف ان کے لیے مخصوص نہیں ہے۔ وہ اُن سب لوگوں کے ساتھ “مُقدس” ہیں جو ہر جگہ ہمارے خداوند یسوع مسیح کا نام لیتے ہیں۔ خُداوند یسوع اُن کا بھی خداوند ہے اور ہمارا بھی خداوند ہے، اور کیونکہ وہ ایک مشترکہ خداوند میں شریک ہیں، اس لیے وہ ایک لازمی اتحاد بھی رکھتے ہیں۔
-
(3آیت) سلام و تسلیمات: تمہیں فضل اور اِطمِینان حاصِل ہوتا رہے۔
ہمارے باپ خُدا اور خُداوند یِسُو ع مسیح کی طرف سے تمہیں فضل اور اِطمِینان حاصِل ہوتا رہے۔
- تمہیں فضل اور اِطمِینان حاصِل ہوتا رہے : “فضل” اور “اطمینان” پر مشتمل یہ سلام پولس کے خطوط کی خاصیت ہے، اور یہ یونانی اور یہودی دونوں روایات سے ماخوذ ہے۔ پولس بالکل اسی عبارت کو نئے عہد نامے میں پانچ دیگر بار استعمال کرتا ہے۔
- “فضل ہمیشہ پہلے آتا ہے، اور اطمینان ہمیشہ دوسرے نمبر پر۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ فضل ہی اطمینان کا اصل ذریعہ ہے۔ بغیر فضل کے نہ تو اطمینان ہے اور نہ ہی ہو سکتا ہے، مگر جب فضل ہمارے پاس ہو، تو اطمینان ناگزیر طور پر ساتھ آتا ہے۔” (لینسکی)
- خُداوند یِسُو ع مسیح کی طرف سے: پولس عموماً (اس خط میں 17 سے زیادہ مرتبہ) یسوع کا “خداوند یسوع مسیح” کے طور پر ذکر کرے گا؛ یہ یاد رکھنا ضروری ہے کہ اُس کا یہ لقب کیا معنی رکھتا ہے۔
- خُداوند : یہ ایک لقب ہے جو نہ صرف آقا اور سردار کی نشاندہی کرتا ہے بلکہ اُس خداوند کو بھی ظاہر کرتا ہے جو پرانے عہد نامے میں ظاہر ہوا (جسے یہواہ کہتے ہیں)۔ “یہ اصطلاح صرف ایک شائستہ خطاب ہو سکتا ہے، جیسے ہمارے ‘عزت مآب، قابلِ احترام، یا جناب’۔ لیکن یہ اُس خُدا کے لیے استعمال ہو سکتی ہے جس کی ہم عبادت کرتے ہیں۔ تاہم، اصل اور اہم پس منظر یہ ہے کہ اِسے پرانے عہد نامے کے یونانی ترجمے میں خدا کے نام، یہواہ ، کو بیان کرنے کے لیے استعمال کیا گیا ہے۔۔۔ وہ مسیحی جو اُس ترجمے کو اپنی بائبل کے طور پر استعمال کرتے تھے، اس اصطلاح سے واقف ہوں گے کیونکہ یہ خُدا کے مترادف ہے۔” (رومیوں میں مارس کا اقتباس)
- یسوع: مریم کے بیٹے اور یوسف کے گود لیے ہوئے بیٹے کا نام، جو کہ یشوع کا یونانی تلفظ ہے۔ نام یشوع کا مفہوم ہے، “یہواہ نجات ہے۔”
- مسیح: یہ عبرانی لفظ “مسیحا” یعنی”مسّح کیا ہوا” کا قدیم یونانی ترجمہ ہے۔ یہ وہ شخص ہے جس کے بارے میں پرانے عہد نامے کے مقدس صحائف میں پیشین گوئیاں کی گئی تھیں، جسے باپ کی طرف سے ہمیں بچانے اور نجات دینے کے لیے بھیجا گیا تھا ۔
-
(4-9آیات) شکر گزاری کی دُعا
مَیں تمہارے بارے میں خُدا کے اُس فضل کے باعِث جو مسیح یِسُو ع میں تُم پر ہُؤا ہمیشہ اپنے خُدا کا شُکر کرتا ہُوں۔کہ تُم اُس میں ہو کر سب باتوں میں کلام اور عِلم کی ہر طرح کی دَولت سے دَولت مند ہو گئے ہو۔چُنانچہ مسیح کی گواہی تُم میں قائِم ہُوئی۔یہاں تک کہ تُم کِسی نِعمت میں کم نہیں اور ہمارے خُداوند یِسُو ع مسیح کے ظہور کے منتظرہو۔جو تُم کو آخِر تک قائِم بھی رکھّے گا تاکہ تُم ہمارے خُداوند یِسُو ع مسیح کے دِن بے اِلزام ٹھہرو۔خُدا سچّا ہے جِس نے تمہیں اپنے بیٹے ہمارے خُداوند یِسُو ع مسیح کی شِراکت کے لِئے بُلایا ہے۔
- مَیں ۔۔۔ اپنے خُدا کا شُکر کرتا ہُوں : پولس اس خط کا زیادہ تر حصہ بعد میں گناہ کی تنقید اور غلطیوں کی اصلاح کے لیے مخصوص کرے گا، مگر وہ کرنتھس کے مسیحیوں میں خدا کے کام کے لیے خلوص دل سے شکر گزار ہے۔
- جو لوگ آج کلیسیا میں گناہوں کی نشاندہی اور غلطیوں کی اصلاح کا جذبہ رکھتے ہیں، اُنہیں چاہیے کہ وہ پولس کے طریقے کو اپنائیں۔افسوس کی بات ہے کہ اکثر لوگ جب نصیحت کرتے ہیں تو ساتھ حوصلہ افزائی نہیں کرتے۔
- اُس فضل کے باعِث جو مسیح یِسُو ع میں تُم پر ہُؤا: یہی وہ خاص بات تھی جس پر پولس خدا کا شکر ادا کرتا تھا۔کرنتھس کے مسیحیوں کو جو کچھ بھی اچھا ملا تھا، وہ سب کچھ خدا کے فضل ہی سے ملا تھا۔فضل کا مطلب ہے کہ خدا اپنی مرضی اور مقصد کے تحت ، بغیر کسی قیمت کےانسانوں کو اپنی نعمتوں سے نوازتا ہے۔
- تُم اُس میں ہو کر سب باتوں میں کلام اور عِلم کی ہر طرح کی دَولت سے دَولت مند ہو گئے ہو: یہ فضل کا ہی اثر تھا جو کرنتھس کے مسیحیوں کی زندگی میں ظاہر ہوا۔کرنتھس کی کلیسیا ایک “دولتمند” کلیسیا تھی — نہ صرف مادی لحاظ سے، بلکہ یسوع کے بارے میں اپنی تقریر اور علم میں بھی (سب باتوں میں کلام اور عِلم۔۔۔ مسیح کی گواہی میں)، اور روحانی نعمتوں میں بھی فراوانی رکھتی تھی (کِسی نِعمت میں کم نہیں)، اور یہ کہ وہ یسوع کی آمد ِ ثانی کے منتظر تھے (خُداوند یِسُو ع مسیح کے ظہور کے منتظر)۔
- خدا کا ہاتھ کرنتھی مسیحیوں کی زندگیوں میں یوں ظاہر ہوتا تھا کہ اُن کی زبانیں اُس کی گواہی دیتی تھیں، اُن کی سمجھ یسوع کے علم سے روشن تھی، اُن کے وجود اور زندگیوں میں ایک خاص رُوحانی تاثیر تھی، اور اُن کے دل یسوع کی دوبارہ آمد کی اُمید سے لبریز تھے۔
- جب پولس کرنتھی کلیسیا پر نظر ڈالتا، تو وہ پُر اعتماد انداز میں کہہ سکتا تھا: “یہ لوگ یسوع کی منادی کرتے ہیں، اُس کی سچائی سے واقف ہیں، اُن کی زندگیوں میں خدا کی عطان کردہ رُوح کی نعمتیں رواں دواں ہیں، اور وہ یسوع کی آمدِ ثانی کے لیے بےتابی سے منتظر ہیں۔”چاہے اُن میں کئی طرح کی کمزوریاں موجود تھیں، لیکن یہ خوبیاں اُن کی روحانی زندگی کی شان تھیں۔کیا آج کی زیادہ تر کلیسیائیں بھی ایسی تعریف کے لائق ہیں؟ہم شاید اس پر خوش ہوں کہ ہم کرنتھی مسیحیوں جیسے مسائل سے بچے ہوئے ہیں،مگر کیا ہم اُن جیسی روحانی برکتوں کے وارث بھی ہیں؟
- تاہم، کرنتھی مسیحیوں کی یہ خوبیاں اُن کی اپنی کوئی بڑی روحانی فتح یا کمال نہ تھیں۔یہ تو محض اُس فضل کا اظہار تھا جو خدا نے اُن پر کیا — ایک ایسی نعمت جو اُن کی نہیں، بلکہ خدا کی کاریگری تھی۔
- تُم کِسی نِعمت میں کم نہیں: پولس اُن روحانی نعمتوں پر خدا کا شکرگزار ہے جو کرنتھی کلیسیا میں موجود تھیں، حالانکہ انہی نعمتوں کی وجہ سے کچھ گڑبڑ بھی ہو رہی تھی۔وہ یہ پہچانتا ہے کہ اصل خرابی نعمتوں میں نہیں تھی،بلکہ اُن کے بارے میں اپنائے گئے غلط نظریات اور غیر صحتمند رویے میں تھی۔
- کرنتھی مسیحی واقعی نعمتوں سے مالامال تھے، لیکن وہ جسمانی (نفسانی) بھی تھے۔ “کیا یہ حقیقت ہمیں یہ نہیں سکھاتی کہ محض نعمتیں رکھنا کافی نہیں،جب تک ہم اُنہیں خدا کے حوالے نہ کر دیں؟ زبان کی خوبی، علم، اثرورسوخ — یہ سب کچھ اگر خدا کے کام کے لیے وقف نہ ہوں تو بےمعنی ہیں ۔” (سپرجن)
-
جو تُم کو آخِر تک قائِم بھی رکھّے گا: کرنتھی مسیحیوں میں جہاں رُوحانی خوبیاں موجود تھیں،وہیں کمزوریاں بھی تھیں جو اصلاح طلب تھیں۔
پولس اُن کی خوبیوں پر خدا کی تعریف کرتا ہے،اور پُرامید ہے کہ وہی خدا اُن کی کمزوریوں کو بھی سنوارے گا،اور اُنہیں آخر تک وفاداری سے قائم رکھے گا،تاکہ خُداوند یسوع مسیح کے ظہور کے دن وہ بے داغ اور بے الزام ٹھہریں۔
- جب کرنتھس کی کلیسیا مسائل سے گھری ہوئی تھی تو پولُس کو یہ اعتماد کیسے حاصل ہوا؟ اُس کے یقین کی بنیاد خدا کی وفاداری ہے۔ وہی خدا ہے جس نے اُنہیں اپنے بیٹے کی رفاقت میں شریک کیا، اور وہی اُنہیں آخر تک قائم رکھے گا اور بے داغ اور بے الزام ٹھہرائے گا۔
- اپنے بیٹے ہمارے خُداوند یِسُو ع مسیح: پہلی دس آیات میں پولُس نے ہر آیت میں یسوع کا ذکر کیا ہے، یوں کُل گیارہ بار اُس کا نام آیا ہے۔ یسوع پر یہ مسلسل زور دینا دراصل کرنتھیوں کے مسائل کی یقینی شفا کو نمایاں کرتا ہے: نگاہوں کو خود سے ہٹا کر مسیح پر مرکوز کر دینا۔
ب: تفرقے کا مسئلہ۔
-
(10 آیت) بنیادی درخواست: تقسیم نہ ہوں بلکہ باہمی طور پر جُڑ جائیں۔
اب اَے بھائِیو! یِسُو ع مسیح جو ہمارا خُداوند ہے اُس کے نام کے وسِیلہ سے مَیں تُم سے اِلتماس کرتا ہُوں کہ سب ایک ہی بات کہو اور تُم میں تفرِقے نہ ہُوں بلکہ باہم یک دِل اور یک رای ہو کر کامِل بنے رہو۔
- اَے بھائِیو! ۔۔۔مَیں تُم سے اِلتماس کرتا ہُوں: پولُس یسوع مسیح کا رسول تھا۔ اُس کے پاس کلیسیا میں اختیار تھا۔ اُسے یہ حق اور اختیار حاصل تھا کہ وہ کرنتھی مسیحیوں کو ان باتوں کے تعلق سے حکم دے۔ لیکن اُس نے ایسا کرنے کے بجائے محبت کے ساتھ اُن سے درخواست کی — منِت کی — کہ وہ ایمانداروں کی مانند ایک دِل اور ایک جان ہو جائیں۔
- “اب، اُن کے ذہنوں کو ملامت کے لیے تیار کرنے کے بعد، پولُس ایک ماہر اور تجربہ کار جرّاح کی طرح عمل کرتا ہے، جوکوئی تکلیف دہ علاج کرنے سے پہلے زخم کو آہستگی سے چھوتا ہے ۔ پھر پولُس اُن کے ساتھ زیادہ سختی اور سنجیدگی سے پیش آنا شروع کرتا ہے۔” (کیلون)
- تُم میں تفرِقے نہ ہُوں: قدیم یونانی زبان میں تقسیم کے لیے استعمال ہونے والا لفظ “schismata” ہے۔ اگرچہ انگریزی کا لفظ “schism” اسی سے نکلا ہے، مگر یونانی معنوں میں یہ کسی “گروہ” یا “فرقے” کے لیے نہیں بلکہ “چاک کر دینا” یا “چیر ڈالنا” کے لیے استعمال ہوتا ہے۔ پولُس کی درخواست یہ تھی کہ وہ آپس میں ایک دوسرے کو نوچنے پھاڑنے سے باز آئیں، اور مسیح کے بدن کو ٹکڑے ٹکڑے نہ کریں۔
- بلکہ باہم یک دِل اور یک رای ہو کر کامِل بنے رہو: تفرقے کے برعکس یہ ہے کہ سب ایک ہی دِل اور ایک ہی رائے میں کامل یکجہتی سے پیوست ہوں۔ ٹکڑوں میں بٹنے کے بجائے پولُس کی التجا یہ ہے کہ وہ ایک ہی دِل اور ایک ہی رائے میں یکجا ہو جائیں۔
- بارکلے “جُڑے رہنے” کی وضاحت کرتے ہوئے کہتا ہے کہ: “یہ ایک طبّی اصطلاح ہے جو اُس عمل کے لیے استعمال کی جاتی ہے جب ٹوٹی ہوئی ہڈیوں کو آپس میں پیوست کیا جائے، یا جب از خود جگہ چھوڑ دینے والا جوڑ دوبارہ اپنی اصل جگہ پر واپس بٹھا دیا جائے۔ یہ تفرقہ خلافِ فطرت ہے اور اس کا علاج ناگزیر ہے۔”
-
(11-13آیات) پولس اُن کے تفرقے کی حماقت کو ظاہر کرتا ہے۔
کیونکہ اَے بھائِیو! تمہاری نِسبت مُجھے خلو ئے کے گھر والوں سے معلُوم ہُؤا کہ تُم میں جھگڑے ہو رہے ہیں۔میرا یہ مطلَب ہے کہ تُم میں سے کوئی تو اپنے آپ کو پَولُس کا کہتا ہے کوئی اپُلّو س کا کوئی کیفا کا کوئی مسیح کا۔کیا مسیح بٹ گیا؟ کیا پَولُس تُمہاری خاطِر مصلُوب ہُؤا؟ یا تُم نے پَولُس کے نام پر بپتِسمہ لِیا؟۔
- خلو ئے کے گھر والوں سے معلُوم ہُؤا: خَلوئے نامی ایک عورت (غالباً ایک مسیحی خاتون ) اپنے تجارتی معاملات کے باعث اپنے گھرانے کے افراد کو اِفسُس اور کُرنتھس کے درمیان بھیجا کرتی تھی۔ پولُس نے یہ خط اِفسُس سے لکھا تھا، جہاں خَلوئے کے گھرانے کے افراد اُس کے پاس آئے اور اُس کو کرنتھس کی کلیسیا کی کیفیت سے آگاہ کیا۔
- کلارک خَلوئے کے بارے میں لکھتا ہے کہ : “یہ غالباً کُرنتھس کی کوئی نہایت پارسا خاتون تھی، جس کا گھرانہ خُداوند پر ایمان لا چکا تھا۔ ممکن ہے کہ اُس کے گھرانے کے بعض افراد کو پولس رسول کے پاس اس لیے بھیجا گیا ہو کہ وہ اُسے اُن اختلافات کی اطلاع دیں جو اُس وقت وہاں کی کلیسیا میں پائے جاتے تھے۔”
- تُم میں جھگڑے: کرنتھس کی کلیسیا جھگڑوں اور کشمکش میں پھنسی ہوئی تھی۔ اِن جھگڑوں کی وجہ سے وہ مختلف گروہوں میں بٹ گئے تھے، اور ہر گروہ نے اپنا ایک لیڈر بنا رکھا تھا۔
- کوئی پولس کا: یہاں ایک “پولُس کا گروہ” تھا، جو اعلان کرتا تھا کہ : “ہم اُس شخص کے نقشِ قدم پر چل رہے ہیں جس نے ہماری کلیسیا کی بنیاد رکھی، یعنی رسول پولُس۔ ہم ہی وہ واحد گروہ ہیں جس کا حقیقت میں خدا کے ساتھ درست تعلق ہے !”
- کوئی اپُلوس کا: یہاں ایک “اپُلّوس کا گروہ” تھا، جو اعلان کرتا تھا کہ : “ہم اُس شخص کے نقشِ قدم پر چل رہے ہیں جو قوت اور رُوحانی نعمتوں میں عظیم ہے، اور ایک بااثر شخصیت ہے۔ حقیقت میں خدا کے ساتھ درست تعلق رکھنے والے ہم ہی ہیں!” (اعمال 18 باب 25-24 آیات)۔
- کوئی کیفا کا: یہاں ایک “پطرس کا گروہ” تھا، جو اعلان کرتا تھا: “ہم اُس شخص کے نقشِ قدم پر چل رہے ہیں جو سب رسولوں میں پہلا ہے۔ یسوع نے اُسے آسمان کی بادشاہی کی کنجیاں دیں، اور وہی ہمارا رہنما ہے۔ حقیقت میں خدا کے ساتھ درست تعلق رکھنے والے ہم ہی ہیں!”
- کوئی مسیح کا: یہاں ایک “یسوع کا گروہ” تھا، جو اعلان کرتا تھا: “تم سب تو بڑے جسمانی ہو، محض انسانوں کے پیچھے چلتے ہو۔ ہم کسی اور کے نہیں بلکہ خود یسوع کے نقشِ قدم پر چل رہے ہیں۔ حقیقت میں خدا کے ساتھ درست تعلق رکھنے والے ہم ہی ہیں!”
- یہ ممکن ہے کہ کرنتھس میں حقیقت میں کوئی “پولُس کا گروہ” یا “اپُلّوس کا گروہ” یا “پطرس کا گروہ” یا “یسوع کا گروہ” موجود نہ ہو۔ بعد میں اس خط میں پولُس لکھتا ہے کہ اُس نے جو باتیں دوسروں پر صادق آتی تھیں، اُن کا اطلاق اُس نے اپنے اور اپُلّوس پر منتقل کر دیا (1کرنتھیوں 4 باب 6 آیت)۔ حقیقت میں کرنتھس کی جماعت کے اختلاف شاید جماعت کے ہی کچھ لوگوں کے گرد گھومتے تھے، نہ کہ اُن مختلف رسولوں کے جو اُن کی خدمت کرتے تھے۔ حتیٰ کہ اگر یہ بات درست بھی ہو، تب بھی یہ مثال موزوں بیٹھتی ہے۔ پولُس نے شاید “نام بدل دئیے ہوں تاکہ بےگناہ کی حفاظت ہو” یا پھر “قصوروار پر رحم کیا جائے۔”
- کرنتھیوں کا اپنے “گروہی رہنماؤں” پر فخر کرنا دراصل اپنے آپ پر فخر کرنا تھا۔ ایسا نہیں تھا کہ وہ سمجھتے تھے کہ اپُلّوس بڑا عظیم ہے، بلکہ یہ کہ وہ خود عظیم ہیں کیونکہ وہ اُس کی پیروی کرتے ہیں۔
- تُم میں جھگڑے ہو رہے ہیں : اگرچہ تفرقہ گناہ ہے، لیکن کلیسیاؤں اور خادموں کے درمیان امتیاز کرنا غلط نہیں۔ خدا نے مختلف کلیسیائیں اور مختلف خدمات قائم کی ہیں، جن کی بُلاہٹیں اور خصوصیات بھی مختلف ہیں، کیونکہ خوشخبری کی منادی کا کام اتنا وسیع ہے کہ کوئی ایک ہی گروہ اسے انجام نہیں دے سکتا۔
- “مَیں خدا کا شکر ادا کرتا ہوں کہ دُنیا میں کلیسیاؤں کے اتنے زیادہ فرقے ہیں۔ اگر عقائد میں کچھ فرق رکھنے والے لوگ نہ ہوتے تو ہمیں اتنی کثرت سے انجیل کی بشارت میسر نہ ہوتی ۔۔۔ خدا نے مختلف سچائیوں کے دفاع کے لیے مختلف آدمی بھیجے ہیں؛ لیکن مسیح نے سب سچائیوں کا دفاع کیا اور سب کی منادی کی… مسیح کی گواہی کامل تھی۔” ( سپرجن)
- یہ اور بات ہے کہ کوئی ایک خادم ہمیں دوسرے خادم سے زیادہ پسند ہو، لیکن ہم کسی ایک خادم کے پیچھے جماعتیں بنا کر دوسروں کو رد نہیں کر سکتے۔ “یقیناً مسیح کا ایک خادم دوسرے سے بہتر ہو سکتا ہے، اور ہمیں اُسے زیادہ عزت دینی چاہیے جسے خدا نے اپنی رُوح یا خدمت کی کامیابی کے وسیلے سے زیادہ عزت بخشی ہے۔ لیکن یہ درست نہیں کہ ہم کسی ایک خادم کو اپنے لیے اس طرح مخصوص کر لیں کہ باقی سب کو حقیر سمجھیں۔ ہمیں ہر خادم کو اپنا پاسبان نہیں بنانا، مگر ہمیں ہر اُس خادم کی قدر کرنی ہے جو اپنی تعلیم اور پاک زندگی سے اپنے بلاوے کے مطابق چلتا ہے۔” (پُول)
- کیا مسیح بٹ گیا؟: مسیح کسی ایک “فریق” تک محدود نہیں۔ ایسے گروہ، چاہے وہ رُوحانیت کے لبادے میں ہی ملبس کیوں نہ ہوں، کلیسیا کی اُس ابدی حقیقت کو فراموش کر دیتے ہیں کہ تمام تنوع کے باوجود اُس کی بنیاد وحدت ہے ۔
- روحانی برتری کا دعویٰ نہایت بُرا ہے، خواہ وہ کسی کے نام کی آڑ میں ہی کیوں نہ کی جائے۔
- ایک دفعہ ایک متعصب اور ضدی مسیحی تھا جو ہمیشہ ایک کلیسیا سے دوسری کلیسیا میں پھر تا رہتا تھا، لیکن اُسے کبھی”حقیقی کلیسیا” نہ ملی۔ کسی نے ایک بار اُس سے پوچھا:”اب تم کس کلیسیا میں شامل ہو؟” اُس نے جواب دیا: “مَیں حقیقی کلیسیا کا رکن ہوں۔” اُس سے پوچھا گیا: “اُس میں کتنے ارکان ہیں؟” اُس نے کہا: “صرف مَیں اور میری بیوی، اور کبھی کبھی مجھے اُس پر بھی شک رہتا ہے۔”
- کیا پَولُس تمہاری خاطِر مصلُوب ہُؤا؟ یا تُم نے پَولُس کے نام پر بپتِسمہ لِیا؟: یسوع کو بانٹنے سے بھی بڑی بے وقوفی یہ ہے کہ کلیسیا کے گروہ انسانوں کے گرد بنائے جائیں۔ پولُس نے جب اس حقیقت کو واضح کیا تو اِس سے ظاہر ہوا کہ یسوع کی بجائے کسی اور پر توجہ مرکوز کرنا سراسر حماقت ہے۔
-
(14-17آیات) پولس اِس بات کے لیے شکر گزار ہے کہ اُس نے کرنتھس میں زیادہ لوگوں کو بپتسمہ نہیں دیا تھا اور یوں اُس نے اُن کی باہمی تقسیم میں زیادہ حصہ نہیں ڈالا تھا۔
خُدا کا شُکر کرتا ہُوں کہ کرِسپُس اور گیُس کے سِوا مَیں نے تُم میں سے کِسی کو بپتِسمہ نہیں دِیا۔تاکہ کوئی یہ نہ کہے کہ تُم نے میرے نام پر بپتِسمہ لِیا۔ہاں ستِفناس کے خاندان کو بھی مَیں نے بپتِسمہ دِیا ۔ باقی نہیں جانتا کہ مَیں نے کِسی اَور کو بپتِسمہ دِیا ہو۔کیونکہ مسیح نے مُجھے بپتِسمہ دینے کو نہیں بھیجا بلکہ خُوشخبری سُنانے کو اور وہ بھی کلام کی حِکمت سے نہیں تاکہ مسیح کی صلِیب بے تاثِیر نہ ہو۔
- ظاہر ہے کہ کُرنتھس کے بعض مسیحی (شاید وہ جو “پولُس کے گروہ” سے تھے) اس بات پر بہت فخر کرتے تھے کہ اُنہیں پولُس نے بپتسمہ دیا ہے۔ چونکہ یہ ایک تفرقہ انگیز مسئلہ بنتا جا رہا تھا، اِس لیے پولُس شکر گزار تھا کہ اُس نے کُرنتھس میں زیادہ لوگوں کو بپتسمہ نہیں دیا (تاکہ کوئی یہ نہ کہے کہ تُم نے میرے نام پر بپتِسمہ لِیا)۔
- پولُس نے کُرنتھس میں کچھ لوگوں کو ضرور بپتسمہ دیا تھا۔ کرِسپُس کا ذکر شاید اعمال 18باب 8 آیت میں ملتا ہے، اور گیُس کا ذکر رومیوں 16 باب 23 آیت میں کیا گیا ہے۔
- خُدا کا شُکر کرتا ہُوں کہ ۔۔۔مَیں نے تُم میں سے کِسی کو بپتِسمہ نہیں دِیا: پولُس کی نظر میں بپتسمہ دینے سے زیادہ اہم خدمت انجیل کی منادی تھی، اگرچہ وہ ہرگز بپتسمہ کا مخالف نہیں تھا۔ لیکن اِس بیان سے یہ حقیقت آشکار ہے کہ نجات کے لیے بپتسمہ شرطِ لازم نہیں۔ اگر بپتسمہ کے وسیلے نجات پانے کا عقیدہ درست ہوتا، تو پولُس ہرگز یہ نہ کہہ سکتا کہ مَیں خدا کا شکر کرتا ہوں کہ مَیں نے کُرنتھس میں بہت کم لوگوں کو بپتسمہ دیا، اور نہ ہی وہ یہ اعلان کر سکتا کہ مسیح نے مجھے بپتسمہ دینے کے لیے نہیں بلکہ خوشخبری سنانے کے لیے بھیجا ہے۔
- پولُس نے بپتسمہ کو نجات کے لیے لازمی نہ سمجھا، یہ اِس بات سے بھی ظاہر ہوتا ہے کہ اُس نے اُن لوگوں کا صحیح حساب بھی نہ رکھا جنہیں اُس نے بپتسمہ دیا تھا: باقی نہیں جانتا کہ مَیں نے کِسی اَور کو بپتِسمہ دِیا ہو۔ جو لوگ پولس کے وسیلے ایمان لائے تھے وہ اُنہیں بھولا نہیں تھا لیکن بپتسمہ کا معاملہ، باوجود اہمیت کے، اُس کے نزدیک اصل مرکزیت نہیں رکھتا تھا۔
- چونکہ پولُس نے کہا: خُدا کا شُکر کرتا ہُوں کہ ۔۔۔مَیں نے تُم میں سے کِسی کو بپتِسمہ نہیں دِیا۔ تویہ بات بالکل محال ہے کہ اُسے ایک سَاکرامنٹ پرست سمجھا جائے۔”یہاں پولُس نہایت وضاحت سے اس امر کی نفی کرتا ہے وہ یہاں صاف انکار کرتا ہے کہ وہ بپتسمہ کو گناہوں کی معافی یا نجات حاصل کرنے کا وسیلہ سمجھتا ہے۔” (رابرٹسن)
- “لہٰذا اگرچہ یہ غیر بائبلی ہے کہ بپتسمہ کو نجات کے لیے لازمی یا نئی پیدایش کا یقینی وسیلہ سمجھا جائے، تاہم بپتسمہ کو کم تر جاننا یا اُس کو نظراندازی کرنا بھی ایک خطرناک نافرمانی کا عمل ہے۔” (ہوج)
- یہ حوالہ یہ بھی واضح کرتا ہے کہ بپتسمہ دینے والے شخص کی ذات بپتسمہ کی صحت پر کوئی اثر نہیں ڈالتی۔ جنہیں پولس جیسے بڑے رسول نے بپتسمہ دیا اُنہیں اُن پر کوئی فوقیت حاصل نہ تھی جنہیں کسی گمنام ایماندار نے بپتسمہ دیا۔ بپتسمہ کی قوت اُس رُوحانی حقیقت میں ہے جس کی یہ نمائندگی کرتا ہے، نہ کہ اُس شخص میں جو اسے سر انجام دیتا ہے۔
- وہ بھی کلام کی حِکمت سے نہیں: پولُس کی کرنتھس میں منادی کلام کی حکمت یا خطابت کی چمک دمک کے ساتھ نہ تھی، بلکہ اُس نے سادہ اور بے تکلّف کلام کیا۔ اُس کی غرض یہ نہ تھی کہ سامعین اُس کی ذہانت اور فصاحت پر فریفتہ ہوں، بلکہ وہ مسیح کے سادہ پیغام کو پہنچانا چاہتا تھا۔
- پولُس اتھینے سے کرنتھس آیا تھا، جہاں اُس نے اُس زمانے کے بڑے فلسفیوں کے ساتھ اُن کی زبان اور انداز میں بحث کی تھی (اعمال 17 باب 16-34)۔ بعض لوگ سمجھتے ہیں کہ اتھینے کے تجربے سے پولس ذرا مایوس تھا، اِس لیے اُس نے ارادہ کیا کہ کرنتھس میں منادی کا طریقہ مختلف ہوگا۔
- پولُس پر یہ الزام نہیں لگایا جا سکتا کہ اُس نے اتھینے میں انجیل کی منادی کمزور انداز سے کی تھی یا انجیل کو مناسب طور پر پیش نہیں کیا تھا۔”اُس کا بیان، بائبلی الہام کی طرح، خدا کے خالق ہونے سے شروع ہوتا ہے اور خدا کے منصف ہونے پر ختم ہوتا ہے… یہ تقریر تعلیم یافتہ غیر ایمانداروں کے لیے مسیحیت کا نہایت عمدہ ابتدائی سبق ہے۔” (بروس کی اعمال پر تفسیر سے اقتباس)۔ لیکن یہ ماننے میں بھی کوئی حرج نہیں کہ پولُس نے اتھینے کے فلسفیانہ پس منظر سے نکل کر کرنتھس کی کھلی بدکاری کو دیکھتے ہوئے نئے ولولے کے ساتھ طے کیا کہ اب انجیل کی منادی بالکل سادہ اور بغیر کسی مصلحت کے کرنی ہے۔
- پولُس کی اتھینے کی خدمت اور کرنتھس کی خدمت میں ایک اور بڑا فرق یہ تھا کہ اتھینے میں اُس کا قیام محض ایک دو دن کا تھا، جبکہ کرنتھس میں اُس نے پورے ڈیڑھ سال تک مسلسل خدمت کی۔
- تاکہ مسیح کی صلِیب بے تاثِیر نہ ہو: پولُس واضح کرتا ہے کہ یہ ممکن ہے کہ انجیل کی منادی اس طرح کی جائے کہ انجیل اپنی اصل طاقت کھو دے۔ جب منادی کرنے والا انسانی فصاحت یا کلام کی حکمت پر بھروسہ کرتا ہے، تو نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ انجیل اپنی رُوحانی تاثیر سے محروم ہو جاتی ہے۔
- یہ کتنا جھنجھوڑ دینے والا سچ ہے! یسوع مسیح کی وہ انجیل جو نجات کے لیے خدا کی قدرت ہے، انسان کے اپنی انا، فصاحت یا چالاکی پر بھروسہ کرنے کی بدولت بےاثر اور کھوکھلی بن سکتی ہے۔ یہی اندیشہ پولُس رسول کے ذہن پر ہمیشہ چھایا رہا، اور یہ اندیشہ ہر اُس واعظ اور اُستاد کے دل میں بھی زندہ رہنا چاہیے جو خدا کے کلام کی خدمت کرتا ہے۔
ج: صلیب کی طاقت اور انسان کی حکمت
-
(18آیت) مرکزی نقطہ: ہلاک ہونے والے صلیب کو کیسے دیکھتے ہیں، اور نجات یافتہ صلیب کو کیسے دیکھتے ہیں۔
کیونکہ صلیب کا پیغام ہلاک ہونے والوں کے نزدِیک تو بیوُقُوفی ہے مگر ہم نجات پانے والوں کے نزدِیک خُدا کی قُدرت ہے۔
- کیونکہ صلیب کا پیغام : 1- کُرنتھیوں 1باب 17 آیت میں پولُس نے کہا کہ اگر صلیب کو کلام کی حکمت کے ساتھ پیش کیا جائے تو وہ بےاثر بن سکتی ہے۔ اب پولُس یہ ظاہر کرے گا کہ یہ بات صلیب اور انجیل کے پیغام کے بارے میں کیوں درست ہے۔
- صلیب کا پیغام ہلاک ہونے والوں کے نزدِیک تو بیوُقُوفی ہے: جو لوگ صلیب کی نجات کو قبول نہیں کرتے، اُن کے نزدیک یہ سوچ ہی مضحکہ خیز ہے کہ ایک ایسے شخص کے وسیلے سے، جو صلیب پر چڑھایا گیا تھا، انسان کوبچایا جا سکتا ہے۔
- جب ہم ’’صلیب کا پیغام‘‘ سنتے ہیں تو بیسویں صدی کے تناظر میں یہ الفاظ ہمیں کسی حد تک مقدس اور مذہبی لگتے ہیں۔ لیکن پہلی صدی کے لوگوں کے لیے یہ بالکل اور ہی بات تھی۔ اُس وقت ’’صلیب کا پیغام‘‘ کہنا ایسا ہی تھا جیسے آج کوئی کہے ’’پھانسی گھاٹ کا پیغام‘‘ — بلکہ اُس سے بھی کہیں زیادہ خوفناک اور شرمناک! موت کے ایک وحشیانہ اور ذلت بھری آلے میں آخر کون سا پیغام چھپا ہے؟ یہی وجہ ہے کہ ہلاک ہونے والے اسے حماقت سمجھتے ہیں۔
- ہم نجات پانے والوں کے نزدِیک خُدا کی قُدرت ہے: اگرچہ یہ ایک عجیب پیغام ہے اور ہلاک ہونے والوں کو بیوقوفی دکھائی دیتا ہے، لیکن جو اُس پر بھروسہ کرتے ہیں اور نجات پا رہے ہیں، اُن کے لیے یہ صلیب کا پیغام دراصل خدا کی قدرت بن جاتا ہے۔
- سچی انجیل کی منادی میں قدرت پہلے ہی سے موجود ہے، بشرطیکہ اسے ایمان کے ساتھ قبول کیا جائے۔ جب کوئی شخص اِس خوشخبری کو سنتا اور اُس پر بھروسہ کرتا ہے تو خدا کی قدرت اُس کی زندگی میں ظاہر ہوتی ہے۔
- اگرچہ اِس آیت میں “انجیل “کا ذکر نہیں، لیکن پچھلی آیت میں اس کا ذکر موجود ہے۔ پولُس کے نزدیک ’’صلیب کا پیغام‘‘ ہی اصل انجیل تھا، اور اُس کے لیے انجیل کی منادی بغیر صلیب کا ذکر کیے ممکن ہی نہ تھی۔ اس لیے نہ تو اعلیٰ اخلاقی اصولوں کی تعلیم دینا انجیل ہے، نہ یہ نظریہ کہ خدا سب کا آفاقی باپ ہے، اور نہ ہی یہ دعویٰ کہ سب انسان بھائی بھائی ہیں۔ حقیقی انجیل تو بس یہی ہےیعنی صلیب کا پیغام۔
- ہلاک ہونے والوں کے نزدِیک۔۔۔ مگر ہم نجات پانے والوں کے نزدِیک: “ہلاک ہونے والوں ” اور “نجات پانے والوں” کے افعال کے زمانے نہایت اہم ہیں۔ یہ دونوں ایک ایسے عمل کی نشاندہی کرتے ہیں جو مسلسل جاری ہے۔ ہم میں سے ہر ایک لازمی طور پر انہی دو راستوں میں سے کسی ایک پر رواں دواں ہے۔”
-
(19-21آیات)
کیونکہ لِکھا ہے کہ مَیں حکِیموں کی حِکمت کونیست اور عقل مندوں کی عقل کو ردّ کرُوں گا۔کہاں کا حکِیم؟ کہاں کا فقیہہ؟ کہاں کا اِس جہان کا بحث کرنے والا؟ کیا خُدا نے دُنیا کی حِکمت کو بیوُقُوفی نہیں ٹھہرایا؟۔اِس لِئے کہ جب خُدا کی حِکمت کے مُطابِق دُنیا نے اپنی حِکمت سے خُدا کو نہ جانا تو خُدا کو یہ پسند آیا کہ اِس مُنادی کی بیوُقُوفی کے وسیلہ سے اِیمان لانے والوں کو نجات دے۔
- کیونکہ لِکھا ہے کہ: یسعیاہ 29 باب کی 14 آیت کے اس حوالے میں پولُس واضح کرتا ہے کہ رُوحانی امور میں خُدا انسانی حکمت کو رَد کرتا ہے وہ داناؤں کی حکمت کو مٹا ڈالے گا اور اُس کے سامنے کبھی سر تسلیم خم نہ کرے گا۔
- کہاں کا حکِیم؟ : پولُس کہتا ہے: ’’جیسا کہ خُدا نے یسعیاہ 29 باب 14 آیت میں فرمایا ہے ، اب کہاں ہے تمہارا ’حکیم ‘ ؟ کہاں ہے تمہارا ’ فقیہہ ‘ ؟ اور کہاں ہے اِس جہان کا بحث کرنے والا ؟ خُدا نے اپنی حکمت کے وسیلے ان سب کو بے وقوف ٹھہرا دیا ہے۔ اُس نے داناؤں کی حکمت کو ختم کر دیا ہے، بالکل ویسے جیسا کہ اُس نے کہا تھا۔‘‘
- اِس جہان کا بحث کرنے والا وہ شخص تھا ’’جو ہر مسئلے پر بحث کرنا چاہتا اور اُسے انسانی عقل سے حل کرنا چاہتا تھا۔‘‘ (مئیر)
- نکتہ بالکل واضح ہے: نہ کوئی حکیم، نہ کوئی فقیہہ، اور نہ کوئی بحث کرنے والاایسا ہے جو اُس کام کو انجام دے سکے جو یسوع مسیح نے کر دکھایا۔
- دُنیا نے اپنی حِکمت سے خُدا کو نہ جانا: اکثر یہ خیال کیا جاتا ہے کہ سب سے ذہین اور دانا انسان ہی خدا کے بارے میں سب سے زیادہ جانتے ہیں۔ لیکن خدا انسانی حکمت کے ذریعے نہیں پایا جا سکتا بلکہ صرف صلیب کے کلام کے وسیلے سے۔ انسانی حکمت کا پیچھا کرنا ممکن ہے کہ وقتی سکون یا خوشی عطا کرے (اگرچہ یہ بہت کم نصیب ہوتی ہے)، مگر یہ کبھی بھی حقیقی خدا کے حقیقی علم تک نہیں پہنچا سکتی۔
- یہ اَمر نہایت اہم ہے کہ اکثر سب سے زیادہ تعلیم یافتہ افراد ہی خدا کے لیے سب سے کم احترام رکھتے ہیں۔ اگرچہ یہ بات ہر حال میں درست نہیں؛ تاریخ کے کئی عظیم مفکرین (مثلاً آئزک نیوٹن) مسیحی تھے۔ تاہم عام طور پر، جتنا کوئی اپنے آپ کو “زیادہ حکیم” سمجھتا ہے، اتنا ہی وہ خدا کو کم اہمیت دیتا ہے۔ انسانی “دانائی” ہمیشہ خدا کو رد کرتی اور اس کی مخالفت کرتی ہے، اور آخر میں اپنی ہی حماقت اور ہلاکت کو آشکار کرتی ہے۔
- ایک روز آئن سٹائن کی ایک جماعت کے طلباء نے کہا کہ انہوں نے یہ نتیجہ اخذ کر لیا ہے کہ خدا موجود نہیں۔ آئن سٹائن نے اُن سے دریافت کیا کہ دنیا کے تمام علم میں سے بحیثیت جماعت ان کے پاس کتنا علم ہے۔ طلباء نے مشاورت کے بعد کہا کہ تقریباً پانچ فیصد۔ آئن سٹائن نے مسکرا کر کہا کہ اگرچہ یہ تخمینہ بھی کچھ زیادہ ہے، لیکن کیا یہ ممکن نہیں کہ خدا اُس پچانوے فیصد علم میں موجود ہو جو تمہارے لیے ابھی پردۂ غیب ہے؟
- مُنادی کی بیوُقُوفی کے وسیلہ سے: کرنتھیوں کی خواہش تھی کہ خوشخبری (انجیل) کو بھی حکمت کی ایک بلند صورت سمجھا جائے، جیسا کہ یونانی “سوفیا” یعنی حکمت کو جانتے تھے۔ لیکن پولُس نے کہا: ’’یہ کس قدر نادانی ہے! ایک مصلوب نجات دہندہ میں حکمت (یونانی تصور کے مطابق) کہاں پائی جاتی ہے؟‘‘
- “منادی کی بے وقوفی” اور “خدا کی بے وقوفی” کے الفاظ سے پولُس کی مراد یہ نہیں کہ منادی یا خدا حقیقتاً بے وقوف ہیں۔ بلکہ وہ اُن کو اس نظر سے بیان کرتا ہے جس نظر سے ہلاک ہونے والے اور اُس دَور کے ’’حکیم‘‘ انہیں دیکھتے ہیں۔
- خدا کی حکمت انسان کی حکمت کا اعلیٰ ترین درجہ نہیں ہے، بلکہ یہ بالکل مختلف نوعیت کی حکمت ہے۔ جیسا کہ خداوند فرماتا ہے: “میرے خیال تمہارے خیال نہیں، اور نہ تمہاری راہیں میری راہیں ہیں۔ کیونکہ جس قدر آسمان زمین سے بلند ہے، اُسی قدر میری راہیں تمہاری راہوں سے اور میرے خیال تمہارے خیالوں سے بلند ہیں ۔ “(یسعیاہ 55باب8-9 آیات)
- پولُس کا مقصد ہرگز یہ نہیں کہ وہ تمام تر علم و فنون کو رَد کرے ؛ وہ محض اس حقیقت کو اجاگر کرتا ہے کہ انسانی علم، جب تک کہ وہ خدا کے کلام سے منسلک نہ ہو، رُوحانی حکمت کے حصول میں کوئی کارگر حیثیت نہیں رکھتا۔
- یہ بات یقینی ہے کہ ایک اندھا شخص رنگوں پر فیصلہ صادر نہیں کر سکتا، ایک بہرا شخص آواز کا منصف نہیں بن سکتا، اور وہ انسان جسے رُوحانی زندگی نصیب نہیں ہوئی، رُوحانی امور پر کوئی رائے نہیں دے سکتا۔ (سپرجن)
- خُدا کو یہ پسند آیا: خدا کو یہ پسند آیا کہ ہماری نجات ایسے طریق سے انجام دے جو انسان کے وہم و گمان میں بھی نہ تھا۔ وہ خوشی سے یہی طریقہ اختیار کرتا ہے، اگرچہ یہ چیز انسانی حکمت کے کمال کے لیے ٹھوکر کا باعث بنتی ہے۔
-
(22-25آیات) خُدا کی حکمت جو دُنیا کو بیوقوفی لگتی ہے بالآخر سرخرو اور فاتح ثابت ہوتی ہے۔
چُنانچہ یہُودی نِشان چاہتے ہیں اور یُونانی حِکمت تلاش کرتے ہیں۔مگر ہم اُس مسیحِ مصلُوب کی مُنادی کرتے ہیں جو یہُودیوں کے نزدِیک ٹھوکر اور غَیر قَوموں کے نزدِیک بیوُقُوفی ہے۔لیکن جو بُلائے ہُوئے ہیں ۔ یہُودی ہوں یا یُونانی ۔ اُن کے نزدِیک مسیح خُدا کی قُدرت اور خُدا کی حِکمت ہے۔کیونکہ خُدا کی بیوُقُوفی آدمِیوں کی حِکمت سے زِیادہ حِکمت والی ہے اور خُدا کی کمزوری آدمِیوں کے زور سے زِیادہ زورآور ہے۔
- یہُودی نِشان چاہتے ہیں: پولُس کے دور میں یہودی ایک نشان چاہتے تھے۔ خاص طور پر وہ ایک ایسے معجزے کی توقع کر رہے تھے جو مسیحا کے ذریعےنجات کو ظاہر کرے۔ مگر وہ صلیب کے پیغام کو قبول نہیں کرنا چاہتے تھے۔ نجات کی آرزو غلط نہ تھی، لیکن خدا کے طریقے سے نجات کو رد کرنا غلط تھا۔
- “ان کی بُت پرستی یہ تھی کہ وہ سمجھ بیٹھے تھے کہ اُنہوں نے گویا خدا کو پوری طرح سمجھ لیا تھا؛ اور وہ خیال کرتے تھے کہ خُدا بس خروج کے واقعے کو اور بھی زیادہ شان و شوکت کے ساتھ دہرا دے گا۔” (فی)
- یہُودی نِشان چاہتے ہیں: یونانی تہذیب حکمت کی تلاش کو قیمتی سمجھتی تھی، جو عموماً اعلیٰ، علمی اور فلسفیانہ اصطلاحات میں بیان کی جاتی تھی۔ لیکن وہ اُس حکمت کو قدر کی نگاہ سے نہیں دیکھتے تھے جو صلیب کے پیغام میں ظاہر ہوئی۔ حکمت کی خواہش بذاتِ خود بُری نہ تھی، مگر خدا کی حکمت کو رَد کرنا بُرا تھا۔
- اُن کی بُت پرستی یہ تھی کہ وہ خدا کو اعلیٰ ترین عقل یا منطق سمجھتےتھے، اور اُس سے مراد وہی لیتے تھے جو اُنہیں عقلی طور پر مناسب لگتا تھا۔ (فی)
- ہم اُس مسیحِ مصلُوب کی مُنادی کرتے ہیں: یہودی اور یونانی نجات اور حکمت مانگتے تھے، مگر خدا نے اُنہیں اُن کی مانگی ہوئی چیز نہیں دی۔ اُس نے اُنہیں وہ دیا جس کی اُنہیں توقع نہ تھی: ایک مصلوب مسیحا۔
- “مسیحا” کا مطلب تھا قوت، جلال اور فتح۔ “مصلوب” کا مطلب تھا کمزوری، شکست اور رسوائی۔ “مسیحِ مصلوب” ایک عجیب اور بہت بڑا تضاد تھا اور اِسی کی پولس منادی کرتا تھا!
- اگر صلیب آپ کو عجیب نہیں لگتی، تو یا تو آپ یہ نہیں سمجھتے کہ یسوع کے دَور میں صلیب کو کس نظر سے دیکھا جاتا تھا، یا پھر آپ یہ نہیں سمجھتے کہ یسوع دراصل کون ہے۔ آپ مسیح اور مصلوب کے درمیان موجود تناؤ کو نہیں سمجھتے۔
- رومی سیاست دان سیسرو نے کہا ہے کہ : “صلیب ایسی چیز کی نمائندگی کرتی ہے جو اتنی شرمناک اور بھیانک ہےکہ مہذب معاشرے میں اِس کا کبھی ذکر بھی نہیں ہونا چاہیے۔” اگر ہم یسوع کے مقدمے کے دوران وہاں پر موجود ہوتے تو جب ہجوم چیخ رہا تھا کہ “اُسے صلیب دو! اُسے صلیب دو!” اور اگر ہمیں ہوش ہوتا، تو ہم ضرور چیختے کہ: ’’اُسے صلیب نہ دو! اگر اِس شخص کو سزا دینی ہی ہے تو عزت کے ساتھ دو۔ اُسے ایک باوقار موت مرنے دو۔ مگر اُسے صلیب کی ہولناکی اور رسوائی کے حوالے نہ کرو۔” لیکن خدا نے چاہا کہ مسیح مصلوب ہو، اور اگر ہم صلیب کو اُس کی عجیب تضادات اور تقاضوں کے ساتھ قبول نہیں کرتے، تو ہم کھوئے ہوئے ہیں۔
- ہر منبر کوپورے زور سے یہ اعلان کرنا چاہیے کہ : “ہم مسیحِ مصلوب کی منادی کرتے ہیں!” ایک مضبوط کلیسیا نے ایک بار یہ الفاظ اپنے چرچ کے صحن کے دروازے کےمحراب پر لکھوائے۔ وقت کے ساتھ دو باتیں ہوئیں: کلیسیا کا یسوع اور اُس کی خوشخبری کے لیے جوش کم ہو گیا، اور محراب پرعشقِ پیچاں کی ایک بیل بڑھنے لگی۔ بیل کے بڑھنے سے اصل پیغام چھپ گیا، اور یہ زوال کی نشانی تھی۔ شروع میں صاف لکھا تھا: ہم مسیحِ مصلوب کی منادی کرتے ہیں۔ پھر جب بیل آگے بڑھی، تو صرف یہ پڑھا جاتا تھا: ہم مسیح کی منادی کرتے ہیں۔ اس کے ساتھ کلیسیا بھی صرف “یسوع بطور نیک انسان” یا “یسوع بطوراخلاقی مثال” کی منادی کرنے لگی، نہ کہ مسیحِ مصلوب کی۔ بیل اور بڑھتی گئی، اور پھر صرف اتناپڑھا جا سکتا تھا: ہم منادی کرتے ہیں۔ کلیسیا نے بھی یسوع کو اپنے پیغام سے کھو دیا، اور محض مذہبی باتیں اور معاشرتی اخلاقیات بیان کرنے لگی۔ آخر میں صرف “ہم”باقی رہ گیا، اور کلیسیا بھی صرف ایک اور سماجی کلب بن گئی، سب کچھ “ہم” کے لیے، خدا کے لیے نہیں۔
- جو یہُودیوں کے نزدِیک ٹھوکر اور غَیر قَوموں کے نزدِیک بیوُقُوفی ہے: یہودیوں کے لیے مسیح ِمصلوب ٹھوکر کا باعث تھا، یا یوں کہہ لیں کہ اُن کے لیے یہ ایک توہین یا شرمندگی تھی۔ یونانیوں کے لیے مسیحِ مصلوب بیوقوفی لگتا تھا۔ مگر خدا نے لوگوں کی رائے کو نظر میں رکھ کر ردعمل نہیں دیا۔ اُس نے اپنی خوشخبری پر ہی زور دیا، کیونکہ جو ایمان لائے ـــ چاہے یہودی ہوں یا یونانی ـــ اُن کے لیے مسیحِ مصلوب خدا کی قدرت اور حکمت ہے۔
- اگر صلیب اور اس کا پیغام ہمیں کمزور لگتا ہے، تو یہ سچ نہیں ہے؛ اس میں قدرت اور حکمت ہے۔ لیکن ہم خدا سے توقع رکھتے ہیں کہ وہ سب کچھ ہماری مرضی کے مطابق کرے، اور یہی توقع ہمیں اُس قدرت اور حکمت کو قبول کرنے سے روک دیتی ہے۔
- پولُس نے یہ سب اپنے ذاتی تجربے سے سیکھا۔ وہ بھی کبھی مصلوب مسیح سے ٹھوکر کھا چکا تھا۔ اُسے یہ ہر گزبرداشت نہ ہوتا تھا کہ جسے خدا کی شریعت نے لعنتی قرار دیا ہے (استثنا 21باب 23 آیت ) ، اُسے مسیحا اور خُداوند مانا جائے۔ اسی لیے وہ کلیسیا کو اُس وقت تک ستاتا رہا، جب تک کہ دمشق کے راستے پر اُس کا سامنا یسوع سے نہ ہوا (اعمال 9 باب )۔
- جیسے پولُس کو کبھی مصلوب مسیح قابلِ برداشت نہیں لگتا تھا، ویسے ہی یونانیوں کو نجات کا وہ پیغام، جو ایک ذلت آمیز موت کے ذریعے ملتا تھا، بالکل بے وقوفی لگتا تھا۔ روم کی ایک مشہور دیوار پر بنی تصویر میں ایک شخص کو دکھایا گیا ہے جو ایک مصلوب ہستی کی عبادت کر رہا ہے، اُس مصلوب ہستی کا جسم انسان کا اور سر گدھے کا بنایا گیا ہے۔ نیچے لکھا ہے:”الیگزامینوس اپنے خدا کی عبادت کرتے ہوئے۔” یونانیوں کے نزدیک صلیب اتنی ہی احمقانہ تھی۔
- جو لوگ کہتے ہیں کہ آج کل کے لوگ انجیل کو سمجھ نہیں پاتے، اس لیے ہمیں اس کا پیغام بدل دینا چاہیے، اُنہیں یہ یاد رکھنا چاہیے کہ پولُس کے وقت کے لوگ بھی اُس کی منادی کو نہیں سمجھتے تھے۔ لیکن اُس نے پھر بھی اسے جاری رکھا، اور خدا نے بڑے بڑے کام کیے۔
- “جو لوگ ایک ناگوار سچائی کو یوں پردے میں چھپاتے ہیں، وہ سمجھتے ہیں کہ وہ شاگرد بنا رہے ہیں، حالانکہ وہ محض بےایمانی کو بڑھاوا دے رہے ہیں اور انسان کو اُس وقت تسلّی دے رہے ہیں جب وہ گناہ کے لیے الٰہی کفّارے کو رد کرتا ہے۔ واعظ کے دل میں کچھ بھی ہو، اگر وہ گناہ کے لیے حقیقی قربانی کا صاف طور پر اعلان نہیں کرتا تو وہ رُوحوں کے خون کا مجرم ٹھہرے گا۔” (سپرَجن)
- “بعض علما ہمیں بتاتے ہیں کہ وہ سچائی کو زمانے کی ترقی کے مطابق ڈھالنا ضروری سمجھتے ہیں؛ اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ سچائی کو قتل کرتے اور اُس کی لاش کو کتّوں کے آگے پھینک دیتے ہیں۔۔۔ اور اس کا نتیجہ صرف یہ نکلتا ہے کہ ایک مقبول جھوٹ ایک ناپسندیدہ سچائی کی جگہ لے لیتا ہے۔” (سپرَجن)
- خُدا کی بیوُقُوفی آدمِیوں کی حِکمت سے زِیادہ حِکمت والی ہے: صلیب پر خدا سب سے زیادہ “کمزور” اور سب سے زیادہ “بیوقوف”نظر آیا، لیکن حقیقت میں وہ انسان کے کسی بھی کام سے کہیں زیادہ حکمت اور طاقت والا تھا۔
- نجات انسان کی عقل سے حاصل نہیں ہوتی؛ اس کا انحصار اِس بات پر ہے کہ ہم کلوری پر خدا کے حیران کن اور محبت بھرے کام کو اپنائیں۔
-
(26-29آیات)
اَے بھائِیو! اپنے بُلائے جانے پر تو نِگاہ کرو کہ جِسم کے لِحاظ سے بہت سے حکیم ۔ بہت سے اِختیار والے بہت سے اشراف نہیں بُلائے گئے۔بلکہ خُدا نے دُنیا کے بیوُقُوفوں کو چُن لِیا کہ حکیموں کو شرمِندہ کرے اور خُدا نے دُنیا کے کمزوروں کو چُن لِیا کہ زورآوروں کو شرمِندہ کرے۔اور خُدا نے دُنیا کے کمینوں اور حقیروں کو بلکہ بے وجُودوں کو چُن لِیا کہ مَوجُودوں کو نیست کرے۔تاکہ کوئی بشر خُدا کے سامنے فخر نہ کرے۔
- اَے بھائِیو! اپنے بُلائے جانے پر تو نِگاہ کرو: پولُس کرنتھس کے مسیحیوں سے کہتا ہے: “اپنی حالت دیکھو، تم کوئی خاص بڑی چیز نہیں ہو۔” کرنتھس کی کلیسیا میں زیادہ ترلوگ نہ تو دنیاوی لحاظ سے عقلمند تھے، نہ طاقتور، اور نہ ہی بڑے گھرانے یا عزت والے۔
- لیڈی ہنٹنگٹن، جو وِٹ فیلڈ اور ویسلی کی مالدار اور بااثر دوست تھیں، کہا کرتی تھیں کہ وہ ایک حرف”M” کے وسیلے سے آسمان جا رہی ہیں: یہ نہیں لکھا “کوئی اشراف” نہیں بلائے گئے، بلکہ لکھا ہے “بہت سے (Many)اشراف نہیں بلائے گئے۔” یعنی کچھ اشراف بلائے گئے ہیں اور مَیں اُن میں شامل ہوں۔”
- بلکہ خُدا نے دُنیا کے بیوُقُوفوں کو چُن لِیا: کرنتھس کے مسیحیوں کی طرف دوبارہ دیکھتے ہوئے، پولُس کہہ سکتا ہے: ’’تم دنیا کے لحاظ سے دانا نہیں ہو، نہ زورآور ہو، نہ ہی شرفاء — بلکہ تم دنیا کی کمزور اور بےوقوف سمجھے جانے والے لوگ ہو۔‘‘
- کرنتھس کے کئی ایماندار شاید یہ سوچنے لگے تھے کہ خدا نے اُن کے اندر جو کام کیا ہے، اُس کی وجہ سے وہ بہت بڑے ہیں۔ لیکن پولُس اُنہیں یہ سوچنے نہیں دیتا۔ وہ اُنہیں باور کرواتا ہے کہ وہ اس لیے نہیں چُنے گئے کہ وہ خاص ہیں، بلکہ اس لیے کہ خدا خاص اور عظیم ہے۔
- کہ حکِیموں کو شرمِندہ کرے: یہ حصہ ہمیں سمجھاتا ہے کہ 1کرنتھیوں 1باب21 آیت میں بیان کی گئی خُدا کی خوشی کیوں ہے۔ خدا انسان کی عقل پرستی کو توڑنا پسند کرتا ہے، اور وہ اکثر دنیا کی نظر میں بیوقوف سمجھی جانے والی چیزوں کو چُن کر استعمال کرتا ہے۔
- خدا یہ نہیں کہتا کہ بےوقوف یا اَن پڑھ ہونا اچھا ہے۔ وہ یہ کہتا ہے کہ دنیا کی عقل اور تعلیم ہمیں یسوع مسیح میں نجات نہیں دے سکتیں۔ ’’جب خدا زور آوروں، حکیموں اور شرفاء کو شرمندہ کرتا ہے، تو وہ کمزوروں اور اَن پڑھوں کو اوپر نہیں چڑھاتا، بلکہ سب کو ایک ہی سطح پر لے آتا ہے۔‘‘ (کیلون)
- خدا نے سب سے پہلے کمزوروں اور حقیروں کو بلایا، مگر صرف انہی کو نہیں؛ پہلے چرواہوں کو، پھر مجوسیوں کو؛ پہلے ماہی گیروں کو، پھر تعلیم یافتہ کو (جیسے پولُس، جو خود ایک تعلیم یافتہ شخص تھا)۔
- “پرانے زمانے کے زیادہ تر مسیحی غلام یا عام لوگ تھے؛ کلیسیا کے پھیلاؤ کی پوری تاریخ اصل میں یہ ہے کہ بیوقوف سمجھے جانے والے لوگوں نے عقل مندوں پر، اور حقیر سمجھے جانے والوں نے بڑے لوگوں پر ایک کے بعد ایک فتح حاصل کی، یہاں تک کہ بادشاہ نے بھی اپنا تاج مسیح کی صلیب کے آگے رکھ دیا۔‘‘ (الفورڈ، اولشاؤزن کے حوالے سےاقتباس)
- تاکہ کوئی بشر خُدا کے سامنے فخر نہ کرے: یہی آخری نتیجہ ہے۔ کوئی بھی شخص خدا کے حضور کھڑا ہو کر یہ نہیں کہہ سکے گا کہ : “مَیں نے تجھے پوری طرح سمجھ لیا” یا “تُو نے ویسا ہی کیا جیسا مَیں نے سوچا تھا۔‘‘ خدا کی راہیں برتر اور اعلیٰ ہیں، اور جسم کی کوئی بات اُس کے حضور فخر نہ کرے گی۔
-
(30-31آیات) اصل حکمت اُنہی کو ملتی ہے جو ایمان رکھتے ہیں۔
لیکن تُم اُس کی طرف سے مسیح یِسُو ع میں ہو جو ہمارے لِئے خُدا کی طرف سے حِکمت ٹھہرا یعنی راست بازی اور پاکِیزگی اور مُخلِصی۔تاکہ جَیسا لِکھا ہے وَیسا ہی ہو کہ جو فخر کرے وہ خُداوند پر فخر کرے۔
- مسیح یِسُو ع میں ہو جو ہمارے لِئے خُدا کی طرف سے حِکمت ٹھہرا: یسوع نے اپنی تعلیم اور اپنی زندگی کے ذریعے ہم پر خدا کی حکمت بالکل واضح طور پر ظاہر کی ہے۔ یہ حکمت اکثر انسان کی توقعات کے برعکس ہوتی ہے۔
- سچی حکمت صرف “عقلمند بننے” کا نام نہیں۔ خدا کی حکمت یسوع کی ذات میں اور اُسی کے وسیلے سے ملتی ہے۔
- جو ہمارے لِئے ٹھہرا: یسوع ہمارے لیے صرف حکمت ہی نہیں، بلکہ وہ راستبازی، پاکیزگی اور مخلصی بھی ہے۔ اپنے کام کے ذریعے وہ یہ تین چیزیں اُن کو دیتا ہے جو مسیح یسوع میں ہیں۔
- راست بازی کا مطلب یہ ہے کہ ہمیں نہ صرف قانونی وہ شرعی طور پر ’’بےقصور‘‘ قرار دیا جاتا ہے بلکہ مثبت راستبازی کا حامل بھی سمجھا جاتا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ یسوع کے راستباز اعمال اور کردار ہمارے کھاتے میں ڈالے جاتے ہیں۔ ہم اپنی ذات پر غور کر کے راستباز نہیں بنتے، کیونکہ یسوع ہمارے لیے راستبازی بن گیا۔
- پاکِیزگی ہمارے چال چلن کی بات کرتی ہے، اور یہ کہ ایماندار دنیا سے الگ ہو کر خدا کے لیے ہوں۔ ہم اپنی ذات پر غور کر کے پاکیزگی میں ترقی نہیں کرتے بلکہ یسوع پر نظر رکھ کر، کیونکہ یسوع ہمارے لیے پاکیزگی بن گیا۔
- مُخلِصی کا یہ لفظ غلاموں کی خرید و فروخت سے لیا گیا ہے۔ مطلب یہ ہے کہ ہمیں خریدا گیا تاکہ ہمیں ہمیشہ کے لیے آزاد کیا جائے۔ ہم خود پر دھیان دے کر آزادی نہیں پاتے، بلکہ یسوع ہی ہمارے لیے آزادی (مخلصی) بنا۔
- جو فخر کرے وہ خُداوند پر فخر کرے : پولُس یرمیاہ 9باب23-24 آیات کا حوالہ دے کر دکھاتا ہے کہ خدا نے یہ سب کچھ اِس لیے کیا تاکہ ساری تمجید خدا ہی کو ملے۔ خدا کی تمجید کا راستہ مسیحِ مصلوب ہے؛ اور خدا کی تمجید کا ثبوت اُس کا حقیروں اور بے وجودوں کو چُن لینا ہے۔
